یورپ کے بانکے

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

یورپ کے بانکے - عبدالحلیم شررؔ

فہرست

آغازِ کتاب

یورپ کے بانکے

 

ہم ہندوستان کے بانکوں کا حال ناظرین دلگداز(١)کے سامنے پیش کر چکے ہیں۔ اب اُن کے بڑے بھائی یورپ کے قدیم بانکوں کا حال بھی سن لیجیے۔ یورپ کے ان انوکھے سپاہیوں نے جو سپہ گر ہونے کے ساتھ بانکے رسیلے چھیلا بھی ہوتے تھے، اپنے لیے “نائٹ” کا لقب اختیار کیا تھا۔

محققین یورپ کا بیان ہے کہ وہاں سپہ گری کے پیشےکو خاص معاہدوں اور کسی خاص طرز سے اختیار کرنا اہل جرمنی سے شروع ہوا جو رومیوں کے عروج کے زمانے میں وحشی و جاہل مگر اس کے ساتھ بڑے جنگجو اور نہایت ہی شجاع خیال کیے جاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اُنہیں دنوں جرمانیا کے جنگلوں اور پہاڑوں میں بانکے سپاہی بننے کا یہ سادہ اور بھونڈا طریقہ مروج تھا کہ جو نوجوان اس گروہ میں شامل ہونا چاہتا ہے تو پہلے کسی میدان جنگ میں بہادری اور اخلاقی حالت دریافت کرتے اور جب وہ مذکورہ صفات کو اُس میں تسلیم کرتے اور ہر طرح کا اطمینان ہو جاتا تو بزرگوں میں سے کوئی شخص اُس کے گال یا شانے پر ایک تھپڑ مارتا، جس کے یہ معنی تھے کہ اس ضرب کے بعد وہ پھر کبھی چوٹ نہ کھائے گا۔

وہی بزرگ قوم اُسے ایک ڈھال اور ایک برچھا دیتا اور اُسے اجازت ہوتی کہ اُن اسلحہ کو لے کے میدان جنگ میں جایا کرے۔ جن نوجوانون کو یہ عزت دی جاتی وہ “نیخت” کہلاتے۔ اسی نیخت سے بگڑ کے “نائٹ” کا لفظ نکلا ہے، جس کی اگلی شان تو بالکل مفقود ہو گئی مگر نام یورپ کے خِطابوں میں داخل ہونے کی وجہ سے اس وسعت کے ساتھ دنیا میں پھیلا کہ آج ہمارے راجہ صاحبانِ جہانگیر آباد و محمود آباد ہی نہیں، ہندوستان کے اکثر والیانِ ملک، سوداگر اور ارضِ عرب تک کے بعض فرماں روا بھی نائٹ ہیں۔

رومیوں میں اس کے ہم وزن “میلس”  کا لفظ تھا۔ ان مہذب لوگوں میں اگرچہ اصلی قوت غریبوں ہی کی تھی جو “پلے بِیَن” کہلاتے۔ مگر امرا و ملوک گھوڑوں پر سوار ہو کے لڑتے اور “بطریق” کہلاتے اور وہ بطارقہ ہی اکثر “میلس” کے لقب سے یاد کیے جاتے۔

یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب جرمنی اور رومی دونوں قومیں بُت پرست تھیں اور دین مسیحی ابھی دنیا میں نہیں آیا تھا۔ حضرت مسیح کا دین ابتداءً صرف واعظوں سے شروع ہوا تھا اور سپہ گری کے بالکل مخالف تھا۔ مگر مدتوں مظلوم رہنے کی وجہ سے مسیحیوں کے سینوں میں ایک انتقام کی آگ مدت سے دبی چلی آتی تھی، جسے قسطنطینِ اعظم نے اپنی پولٹیکل مصلحتوں سے بھڑکا دیا۔ حضرت مسیح کی مصلوبیت کی بنا پر اُس نے صلیب کو مسیحیوں کا شعار قرار دیا۔ یہ صلیبی علم ہاتھ میں لیا اور جوشِ انتقام میں ڈوبے ہوئے مسیحی دوڑ دوڑ کے اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔ اس پُرجوش قوت سے اپنے بُت پرست حریف کو شکست دے کے وہ پوری قلمرو روم پر قابض ہو گیا۔ لیکن یہ ایک وقتی اُبال تھا۔ جب مسیحیت دولت روم کا مذہب بن گئی تو پھر اُسے سپہ گری سے کوئی سروکار نہ رہا۔ اس لیے کہ مسیحیت خوں ریزی کی مخالف اور لڑنے بھڑنے سے متنفّر تھی۔ چنانچہ رومی سلطنت ایک مسیحی دولت بنتے ہی ایسی کمزور ہو گئی کہ گوتھ اور ہن قوموں نے اُسے خوب خوب پامال کیا۔ اور آخر عرب لوگ اُٹھے جنہوں نے مشرق میں ایشیائے کوچک و شام کو، افریقہ میں تمام شمالی ممالک کو رومیوں سے چھین لیا۔ جزیرۂ صقلیہ اور خود اٹلی کا کسی قدر جنوبی حصہ عربوں کے قبضے میں چلا آیا اور آبنائے جبرالٹر سے اُتر کے اُنہوں نے پورا ملک اسپین بھی اپنے قبضے میں کر لیا۔

ان دنوں یورپ میں فیوڈل سسٹم (حکومت امرا) کا طریقہ جاری تھا۔ سارے ملک کی یہ حالت تھی کہ ہر زمیندار اپنے علاقے اور اپنے گاؤں یا شہر کا خودسر حاکم اور بادشاہ بنا ہوا تھا۔ اس کے زیرِ عَلَم حسب حیثیت سپاہی ہوتے اور انہیں کے انداز سے اُس کی قوت ہوتی۔ متعدد زمینداروں کے باہم ملنے اور حلیف ہو جانے سے ایک بڑی قوت بن جاتی اور زبردست دشمنوں کے مقابلے میں اکثر یہی ہوا کرتا۔ اصلی قوت ان دنوں بھی پیدل سپاہیوں ہی کی تھی، مگر چونکہ وہ ادنیٰ طبقے کے لوگ ہوتے اس لیے اُن کی قدر نہ ہوتی۔ قدر سواروں کی تھی جو عموماً امیروں اور رئیسوں کے اعزّا و اقارب اور شرفائے قوم ہوتے اور وہ جیسا کہ ہم نے بیان کیا، میلس کہلاتے تھے۔ جن ڈیوکوں (شہزادوں) اور کاؤنٹوں (نوابوں) نے شاہی سطوت و شوکت حاصل کر لی ہوتی، وہ اپنی قلمرو کے صوبوں کو جن لوگوں کے ہاتھ میں دیتے وہ “بائرن” کہلاتے۔ اور بائرن اپنے صوبے کو جن عہدہ داروں میں تقسیم کرتے وہ “فائف” کے لقب سے یاد کیے جاتے اور یہ فائف عموماً “پیر” کہلاتے تھے۔

اس تفصیل کے ملاحظے سے ہمارے دوستوں کو یورپ کے موجودہ خطابوں اور انگریز معززین کے لقبوں کی اصلیت بخوبی معلوم ہو جائے گی۔

“پیر” سے لے کے اوپر تک جتنے معززین تھے گھوڑوں پر سوار ہو کے لڑتے اور کسی ادنیٰ شخص کو یہ حق نہ تھا کہ بجز پاپیادہ لڑنے کے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کے میدان جنگ میں آئے اور یہی لوگ میلس خیال کیے جاتے تھے۔ جب عربوں نے اسپین کو لے لیا، پھر کوہسار پیرینیز سے نکل کے فرانس پر حملہ آور ہوئے اور اندیشہ ہوا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ ساری مغربی مسیحی دنیا کو فتح کر لیں تو نظر آیا کہ بغیر سپہ گری کو زندہ کیے اور اُسے مذہب کا مقدس لباس پنھائے اپنی وطنی اور قومی عزت کا بچانا دشوار ہے۔ ابتداءً تو کلیسا نے اس ضرورت کو محسوس کر کے “خاموشی نیم رضا” کا اصول اختیار کیا۔ یعنی اُس کا یہ طرز عمل رہا کہ زبان سے تو کچھ نہ کہا جائے مگر سپہ گری کی ترقی کو بظاہر استحسان کی نظر سے دیکھا جائے۔ لیکن رومی سپہ گری بوسیدہ و ازکار رفتہ ہو چکی تھی، اس لیے جرمنی کا بانکپن اختیار کر لیا گیا۔ وہ اپنے ساتھ اپنے لقب نیخت کو بھی لایا جو انگریزی میں آ کے نائٹ بن گیا۔

یہ لفظ انگریزی تلفظ میں تو نائٹ ہے لیکن اس کا املا آج تک ایسا واقع ہو ا ہے کہ اگر بولنے میں اُس کی پابندی کی جائے تو لفظ نائٹ ہی نہ ہو گا بلکہ “کنیخت” ہو گا۔ غرض اب جو بہادر میدان جنگ میں کوئی کار نمایاں کرتے اور شجاعت ظاہر کرتے، نائٹ مشہور ہو کے ہم وطنوں میں معزز و ممتاز ہو جاتے۔ حصول عزت نے لوگوں کو زیادہ شوق دلایا اور نائٹوں کی تعداد بڑھنا شروع ہوئی۔ اور چند ہی روز میں یہ حالت ہو گئی کہ عوام نائٹوں کی بے حد تعظیم و تکریم کرتے اور سلاطین حامیِ ملک و ملت خیال کر کے انہیں اپنا سرمایۂ ناز بتاتے۔

اب یورپ میں یہ طریقہ تھا کہ صرف “فائف” اور اُن سے مافوق مرتبوں کے لوگ نائٹ بن سکتے۔ کسی عامی کی مجال نہ تھی کہ نائٹ ہونے کا دعوے کرے۔ جو اپنے خاندان کو بے داغ و بے عیب ثابت کر سکتا اور چار ہم مرتبہ فائفوں سے قرابت رکھنے کا مدعی ہو سکتا، اس کے نوجوان لڑکے خاص طریقے اور خاص رسوم کے ساتھ نائٹ بنائے جا سکتے۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا کہ کوئی ادنیٰ طبقے کا آدمی سپہ گری کے کمال دکھا کے اور بڑے بڑے میدانوں میں ناموری حاصل کر کے نائٹ کا درجہ حاصل کر لیتا اور ایک نیا پیر بن جاتا۔

فرانس کے بادشاہ شارلمین کے عہد سے جو ۲۴۳؁محمدی ( ۸۱۴؁ء) میں دنیا سے رخصت ہوا، حُروب صلیبیہ کے چھڑنے کے فی ما بین جو زمانہ گزرا اُس میں اہل اسپین، فرانس اور نارمن لوگوں کے اوضاع و اطوار میں ایک انقلاب عظیم ہو گیا تھا جو چند روز کے اندر سارے یورپ میں پھیل گیا۔ اسی انقلاب کا ایک نمونہ یہ بھی تھا کہ سپاہی میلس سے نائٹ بن گئے۔ ابتدا ہی سے نائٹ ہونے والوں کو سلاح جنگ کے ساتھ دو ذمہ داریاں اپنے سر لینی پڑتیں۔ ایک تو یہ کہ سپہ گری کو اپنا پیشہ سمجھیں گے اور دوسرے یہ کہ حسین عورتوں کی خاطر داشت اور خدمت گزاری کریں گے۔

اس کا پتہ نہیں چلتا کہ نائٹوں کو عورتوں کے ساتھ کیوں خصوصیت تھی؟ اور نازنینانِ ملک سے خاص تعلقات رکھنا نائٹ ہونے کی ذمہ داریوں میں کب اور کیونکر داخل ہوا؟ مگر اس سے یورپ کی اُس وقت کی اخلاقی حالت عالم آشکارا ہو جاتی ہے۔ یہ نوجوان نائٹ ہوتے ہی کسی نہ کسی حسینہ کے عاشقوں میں شامل ہو جاتا۔ بلا لحاظ اس کے کہ وہ کس کی بیٹی، کس کی بہن اور کس کی جورو ہے۔ اُس خاتون کو وہ “اپنی خاتون” کہتے اور اس کے لیے لڑنے بھڑنے اور کٹنے مرنے پر ہر وقت تیار رہتے۔ اس قسم کے بہت سے نائٹ اُن دنوں ہسپانیہ اور فرانس میں پھیلے ہوئے تھے جو مسلمانوں سے لڑتے اور اکثر ناکام و نامراد میدان جنگ سے واپس جاتے۔ اور یہی تھے جنہوں نے ہسپانیہ کے علاقہ قسطلہ اور مملکتِ فرانس کو عربوں کے ہاتھ سے بچا لیا۔

نائٹوں کی یہی حالت چلی آتی تھی کہ حروب صلیبیہ کا زمانہ شروع ہوا اور راہبوں کے شور و غوغا اور پوپ کے فتوے سے مذہب عیسوی کو سپاہیوں کی ضرورت پیش آئی۔ جو چیز اس وقت تک از روئے دین ناجائز تصور کی جاتی تھی یعنی سپہ گری، اب وہ عبادات میں داخل ہو گئی اور نائٹ ہونے میں ایک دینی تقدس پیدا ہو گیا۔

لہذا اب بجائے اس کے کہ خود نائٹ کسی کو اپنے زمرے میں شامل کریں، مقتدایانِ ملت ملک کے بانکے ترچھے نوجوانون کو نائٹ بنانے لگے اور پادریوں اور اُسقفوں نے لوگوں کو اِن مقدس زن پرستوں کے زمرے میں شامل کرنے کا یہ طریقہ جاری کیا کہ جسے شوق ہو پہلے چند روز تک روزے رکھے۔ شب زندہ داری و ریاضت کرے۔ پھر غسل کر کے سفید کپڑے پہنے (جس میں بپتسما کا اشارہ تھا) اور سب سے بڑے محترم مقتدائے دین کے ہاتھ سے تلوار لے جس میں بزرگانِ دین کی برکت شامل بتائی جاتی۔

اس رسم کے ادا ہو جانے کے بعد وہ “خدا کا، سینٹ جارج کا اور سینٹ میکائیل کا بانکا” کہا جاتا۔ اُس سے حلف لی جاتی کہ اپنے بانکپن کے فرائض کو سرگرمی سے ادا کرے گا۔ اپنے آپ کو خدا کا اور حسین عورتوں کا سپاہی تصور کرے گا۔ سچ بولے گا۔ حق کا ساتھ دے گا۔ مصیبت زدہ کی مدد کرے گا۔ ہر ایک کے ساتھ خُلق و مروت سے پیش آئے گا۔ دشمنان دین سے لڑے گا۔ سہل انگاری، غفلت اور اپنی جان بچانے کے جذبات کو حقیر سمجھ کے دل سے نکال ڈالے گا اور اپنی عزت برقرار رکھنے کے لیے سخت سے سخت خطروں کو برداشت کرے گا۔

سپہ گری کے کاموں اور عشق بازی میں ان لوگوں کا انہماک اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ بعض بعض جہلا میں خیال پیدا ہو گیا کہ سوا سپہ گری کے اور کوئی پیشہ اختیار کرنا نائٹوں کے لیے حرام ہے اور نائٹوں کو دین کی برکتوں اور فیاضیوں سے یہ حق مل گیا ہے کہ مضرت سے بچنے کے لیے جس کسی سے جب انتقام چاہیں لے لیں۔ یہاں تک کہ قوانین تمدن اور فوجی باضابطگی کے قیود سے وہ آزاد ہیں۔ چنانچہ کسی قانون کا پابند ہونا وہ اپنی ذلت تصور کرتے۔

برچھا نائٹ کا خاص سلاح تھا۔ اُس کا گھوڑا اوروں کے جانوروں سے قد آور، بھاری بھر کم اور طاقتور ہوتا۔ ایک خاص ملازم گھوڑے کا دہانہ پکڑے ہوئے ہمیشہ اُس کے ساتھ ساتھ رہتا اور جب تک لڑنے کا وقت نہ آ جاتا نائٹ صاحب اُس پر سوار نہ ہوتے۔ وہ کسی اور تیز قدم یا بو یا معمولی گھوڑے پر سوار رہتے۔ نائٹ کا خَود، زِرہ، موزے اور تلوار خاص شان اور آن بان کے ہوتے۔ میدان جنگ میں اُن کا قاعدہ تھا کہ برچھے کو دشمن کی طرف جُھکا کے آڑا کر لیتے اور گھوڑے کو ایڑ بتا کے آگے ریل دیتے۔ میدان جنگ میں ہر نائٹ کے ساتھ اُس کا ایک وفادار رفیق رہتا جو “اسکوائر” کہلاتا۔ اسکوائر ہمیشہ اپنے نائٹ کا ہم سن اور شریف النسل ہوا کرتا اور دراصل وہ نائٹ ہونے کا امیدوار ہوتا۔ تیر کمان، شمشیر و خنجر یا اور حربے جن سے نائٹ صاحب لڑتے ساتھ ساتھ رہتے اور صرف نیزے ہی کا اتنا سامان ہوتا جو پانچ پانچ چھ چھ آدمیوں پر لدا ہوتا اور وہ سب لڑائی میں سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتے۔ عرصۂ جنگ میں اُن کا بانا اور اُن کا شعار ہر ایک میں کوئی جدت اور خصوصیت ہوتی۔

اس گروہ کے پیدا ہوجانے سے یورپ کے زمینداروں اور سربرآوردہ لوگوں کو یہ آسانی ہو گئی تھی کہ اپنے ذاتی جھگڑوں میں اُن سے مدد لیتے اور اُن کی کارگزاریوں کا معاوضہ کرتے۔ گویا خدائی فوجداروں کا ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا جن کو معتدبہ رقم دے کر جو چاہتا بُلا لیتا اور اپنے جھنڈے کے نیچے آسانی سے ایک زبردست لشکر جمع کر لیتا۔

مگر یورپ کے ان بانکے نائٹوں میں اُس وقت اور زیادہ اہمیت پیدا ہو گئی جب صلیبی مجاہدوں کا لشکر بیت المقدس کے فتح کرنے کے لیے یورپ سے چلا۔ کلیسائے مسیحی نے اپنے برکت کے آغوش میں لے کے انہیں مذہبی وقعت پہلے ہی دے دی تھی۔ لیکن جب وہ اپنی جان و مال کو دین کی نذر کر کے جان دینے کے لیے گھر سے نکلے اور سینے اور پیٹھ پر صلیبیں بنا کے مشرق کی جانب روانہ ہوئے تو اُن میں بالکل ایک نئی شان پیدا ہو گئی اور باعتبار ذمہ داریوں اور خدمتوں کے اُن میں دو تفریقیں ہو گئیں۔

بیت المقدس میں پہونچنے اور اُس پر قابض ہو جانے کے بعد ان لوگوں کو اصلی سروکار تو ہولی سپلکر (کنیسۂ مرقد مسیح) سے تھا مگر حضرت سلیمان کا بنایا ہوا خانۂ خدا جو اب مسلمانوں کی مسجد بنا ہوا تھا، جسے مسلمان مسجد اقصیٰ اور مسیحی مسجد عمر کہتے تھے، دُنیا کی ایک قدیم یادگار تھا۔ اور عیسائی بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہی وہ مبارک بُقعہ تھا جس پر اس سرزمین میں پہلا معبد الٰہی قائم ہوا۔ اس میں جتنے مسلمان پناہ گزین ہوئے تھے وہ تو کمال بے رحمی سے شہید کیے گئے۔ اور اُن حامیانِ توحید سے خالی کرانے کے بعد ضرورت تھی کہ اُس یادگار زمانہ عمارت سے بھی کوئی کام لیا جائے جس کی تعمیر میں خلفائے بنی اُمیہ نے لاکھوں روپے صرف کر دیے تھے۔

چنانچہ صلیبی فاتحوں میں سے چند شریف النسل اشخاص مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئے اور باہم حلف اُٹھائی کہ جو زائرین یہاں آئیں گے ہم اُن کی حمایت و خبرگیری کریں گے۔ یہ جماعت نائٹ ٹمپلرز (ہیکل سلیمانی والے بانکے) کے نام سے مشہور ہوئی اور اپنے گروہ کو اِن لوگوں نے حصول برکت کے لیے ولی برنارڈ کے نام سے وابستہ کر دیا۔ حرم سلیمانی میں بیٹھ کے اُنہوں نے جو حلف اُٹھائی تھی اُس کی رُو سے یہ لوگ صرف دین کے سپاہی بن گئے تھے۔ اُنہوں نے دنیا چھوڑ دی تھی۔ وطن بُھلا دیے تھے۔ بیت المقدس کے سوا کسی شہر کو اپنا وطن اور شہر نہ سمجھتے۔ گھربار سے دست بردار ہو گئے تھے اور سوا مسیح کے خاندان کے کسی کو اپنا گھرانا نہ بتاتے۔ جائداد سب کی مشترک رہتی اور مشترک زندگی بسر کرتے۔ ایک ہی سرمایہ سب کی دولت تھا۔ خطروں اور مصیبتوں میں ایک دوسرے کے جان نثار تھے۔ گویا ایک قوت اور ایک ہی روح سب پر حکومت کر رہی تھی۔ ان کا سامان زینت صرف ہتھیار تھے۔ ان کے گھروں میں جو عبادت خانوں کا حکم رکھتے، نہ روپیہ پیسہ ہوتا نہ سامان دولت و حشمت۔ زینت و نمائش کی چیزوں سے انہیں نفرت تھی۔ بہت ہی سادی اور بھدّی چیزوں سے اپنے ضروریات زندگی کو پورا کرتے۔ نمائش کے لیے وہاں صرف ڈھالیں، تلواریں، نیزے اور مسلمانوں سے چھینے ہوئے عَلم نظر آتے۔ لڑائی کا نام سُنتے ہی اپنے فولادی اسلحہ لے کے دوڑتے۔ پھر نہ حریف کی کثرت سے ڈرتے اور دشمنوں کے جوش و خروش کی پروا کرتے۔ فتحیں اُن کا سرمایۂ ناز تھیں۔ مسیح کے نام پر جان دینا اُن کی اعلیٰ ترین کامیابی تھا۔ انہیں یقین تھا کہ فتح صرف خدا کی عنایت سے حاصل ہوتی ہے، مگر کوشش میں جان دے دینا اپنا فرض ہے۔ غرض ان نائٹوں کا پہلا گروہ یہ تھا۔

دوسرے گروہ کی بنیاد یوں پڑی کہ صلیبی مجاہدین جب یورپ سے چلے تو ان کے ہمراہ وہاں سے ایک ہاسپٹل بھی آیا تھا جو فلاکت زدہ زائروں اور بیت المقدس کے مفلس و شکستہ حال نصرانیوں کی خبر گیری کے لیے تھا، خصوصاً ان بہادروں کی تیمارداری کےلیے جو مسلمانوں سے لڑیں۔ اس خدمت کو جن لوگوں نے اپنے ذمے لیا وہ بھی ایک قسم کے بانکے تسلیم کیے گئے، “نائٹ ہاسپٹلرز” کے نام سے مشہور ہوئے اور اُنہوں نے اپنے کو ولی یوحنا کی طرف منسوب کر کے اپنا خطاب “نائٹس آف سینٹ جان” یعنی “ولی یوحنا کے بانکے” قرار دیا۔

یہ دونوں قسم کے نائٹ فولادی خود اور چار آئینے پہنتے۔ “نائٹ آف ہولی سپلکر” (مرقد مسیح کے بانکے) کہلانے کے باعث سب سے زیادہ معزز خیال کیے جاتے اور چونکہ “لاطینی سلطنتِ ارضِ مُقَدّس” کو (جو لاکھوں کروروں بندگانِ خدا کے خون کا سیلاب بہا کے عین مسلمانوں کے بیچ میں قائم کی گئی تھی) ان لوگوں سے مدد ملتی، وہ ان کی بے انتہا قدر کرتی اور اپنی زندگی کو انہیں کے اسلحہ پر منحصر تصور کرتی۔ زائرین یہاں سے واپس جا جا کے ساری مسیحی دنیا میں ان کی جانبازی اور بہادری کے قصے بیان کرتے۔

چند ہی روز میں اِن کی اس قدر شہرت ہوئی کہ ہر حصۂ ملک کے اُمرا اور دولتمند خصوصاً وہاں کے پُرانے بانکے آ آ کے ان کے گروہ میں شامل ہونے لگے اور تھوڑے دنوں بعد یورپ کا کوئی نامور اور دولتمند خاندان نہ تھا جس کا کوئی نہ کوئی گروہ اِن مذہبی بانکوں اور وضعدار مجاہدوں کی جماعت میں نہ شریک ہو گیا ہو۔

ایک تیسرا گروہ ٹیوٹانک نائٹوں کا بھی قائم ہو گیا جو نائٹ ٹمپلرز کا ہم مذاق تھا۔ تینوں گروہوں میں فرق اور امتیاز یہ تھا کہ ٹمپلر سفید چُغہ پہنتے جس پر سُرخ صلیب بنی ہوتی۔ ہاسپٹل والے سیاہ چُغہ پہنتے اور اُس پر سفید صلیب ہوتی۔ اور ٹیوٹانک نائٹ سفید چغہ پہنتے جس پر سیاہ صلیب ہوتی۔ نائٹ ٹمپلرز کو جن کے حالات ہم بیان کرنا چاہتے ہیں خاص مسجد اقصیٰ میں جگہ دی گئی تھی۔

مسجد اقصیٰ کو مسیحی لوگ متبرک نہ سمجھتے تھے۔ کیونکہ اُن کے اعتقاد میں اُس کا سارا تقدس حضرت مسیح کے بعد جاتا رہا تھا اور خدا نے اُس پُرانے عبادت خانے کو چھوڑ دیا تھا۔ انہیں تو صرف حضرت مسیح کے مَولِد و مَرقَد یا ارض مقدس کے پُرانے کنیسوں سے کام تھا، اس لیے عیسائیوں کا قبضہ ہوتے ہی وہ عبد الملک بن مروان کی بنائی ہوئی عالیشان مسجد جو ہیکل سلیمانی کے اصلی آثار پر قائم تھی مسلمانوں کا قتل و قمع کر کے قصر شاہی قرار دی گئی۔

ان جنگجو بانکوں اور مذہبی فدائیوں کے گروہ کی بنیاد یوں پڑی کہ فرانس کے علاقۂ برگنڈی کے ایک نائٹ “ہیوڈ پکانس” نے مع اپنے آٹھ رفقا کے ۱۱۱۸ء؁ میں بیت المقدس کے اسقف اعظم کے سامنے جا کے حلف اُٹھائی کہ “ہم اپنی زندگی بیت المقدس کے راستوں کی نگہبانی اور زائروں کے بحفاظت لے آنے کے نذر کردیں گے۔ باضابطہ طور پر قانونِ ملت کی پابندی کریں گے اور بے انتہا اطاعت کیشی اور خود فراموشی کے ساتھ آسمان کے بادشاہ کی طرف سے جدال و قتال کریں گے۔” یہ پہلا عہد تھا جس نے ان مذہبی بانکوں کےپیدا ہونے کی بنیاد قائم کی اور جب شاہِ بیت المقدس بلدون ثانی نے خاص مسجد اقصیٰ کے اندر اپنا کلب قائم کرنے کے لیے جگہ دے دی تو اس نئے گروہ کو اور مضبوطی حاصل ہو گئی۔

دس برس بعد شہر ٹرائے میں بمنظوری پوپ ہونیوریوس ثانی ایک کونسل ہوئی جس میں دینی بانکوں کے اس گروہ کے لیے ایک دستور العمل مُدوّن ہو گیا۔ اس میں ۷۲ قاعدے تھے جو پوپ اور اُسقفِ بیت المقدس کی منظوری سے رائج ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کی دینی جان نثاری اور خاص جانبازی کی اس قدر شہرت ہوئی کہ ساری مسیحی دنیا گرویدہ ہو گئی اور ہر جگہ اور ہر سرزمین میں اُن کے لیے سرمایہ فراہم ہونے لگا۔ جس میں قوم نے اس قدر مستعدی دکھائی کہ ملوک و امرا اپنی سلطنتیں اور ریاستیں ان کی نذر کیے دیتے تھے اور ایطالیہ سے لے کر اسپین تک ہر چھوٹے بڑے حکمران نے بڑی بڑی جائدادیں ان لوگوں کی نذر کر دیں اور یہ گروہ باوجود سادگی اور مشقت و تنگی کی زندگی بسر کرنے کے دنیا کے تمام تاجداروں سے زیادہ دولتمند ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہزارہا خلقت گھر بار چھوڑ کے ان کے جتھے میں ملنے لگی۔

ان کا پہلا سرغنا جو “ماسٹر ٹمپلر” کہلاتا وہی “ہیو” قرار پایا۔ دوسرا ماسٹر اُس کے بعد رابرٹ ڈکراؤن ہوا۔ اُن کا جانشین “ایورآرڈ” قرار پایا۔ اور یوں ہی ماسٹروں کے انتخاب کا سلسلہ جاری رہا۔ ایورآرڈ کے عہد میں ان لوگوں کی سپہ گری اس قدر کامیاب اور باقاعدہ تھی کہ اکثر سلطنتیں اپنی فوجیں انہیں کے قواعد کے مطابق مرتب کرنے لگیں اور اب اس وقت سے ان کی تاریخ دیکھنے کا شوق ہو تو حروب صلیبیہ کی تاریخ پڑھنی چاہیے۔ اس لیے کہ صلیبی لڑائی میں اہم فوجی خدمات یہی لوگ انجام دیتے تھے۔

مگر دولتمندی نے چند ہی روز میں اُن کی حالت میں تغیر پیدا کرنا شروع کیا اور ناکامیوں میں ان کے طرز عمل پر بدگمانیاں کی جانے لگیں۔ جب ۵۷۷؁محمدی (۱۱۴۸ء؁) میں جرمن فرماں روا کونراڈ بیت المقدس میں پہونچا، ان لوگوں نے اپنے کلب میں اس کی دعوت کی اور اُسے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ مگر اسی سال جب دمشق کے محاصرے میں مسلمانوں نے صلیبیوں کو شکست فاش دی اور انہیں محاصرہ چھوڑکے بدحواس بھاگنا پڑا تو اس شکست کا الزام انہیں بانکوں کے سر تھوپا گیا اور کہا جانے لگا کہ صرف نائٹ ٹمپلرز کی دغابازی سے یہ شکست ہوئی۔ اس کے دوسرے برس شہر غزہ کا قلعہ ان لوگوں کے حوالے کیا گیا جسے اُنہوں نے خوب مضبوط کیا۔ اس کے چار سال بعد اُن کا ماسٹر ٹمپلر برنارڈ چالیس نائٹوں کو ہمراہ رکاب لے کے بڑی بہادری سے شہر عسقلان میں گُھس پڑا۔ مگر مسلمانوں نے گھیر کے اس طرح مارا کہ ان میں سے ایک کو بھی زندہ واپس آنا نہ نصیب ہوا، سب مارے گئے اور ہم مذہبوں سے یہ داد ملی کہ یہ لوگ خود اپنی حماقت کی نذر ہو گئے اور طمع نے ان کو فنا کر دیا۔ چند روز بعد مشہور ہوا کہ ایک مصری شاہزادہ جو عیسائیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہو گیا تھا اور دین مسیحی قبول کرنے پر نیم راضی تھا اُسے ان نائٹوں نے روپیہ لے کے اہل مصر کے حوالے کر دیا اور اسی طمع میں ان کی وجہ سے اور بھی کئی خون ہوئے۔

۵۹۵؁محمدی (۱۱۶۶ء؁) میں ان نائٹوں کو یہ الزام دیا گیا کہ یرون کے پار کا ایک مضبوط قلعہ اُنہوں نے روپیہ لے کے نور الدین زنگی کے کسی سردار کے حوالے کر دیا۔ چنانچہ اس جُرم کی پاداش میں خود مسیحی بادشاہ بیت المقدس امل ریق نے بارہ ٹمپلروں کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ یہی واقعات پیش آ رہے تھے کہ سلطان صلاح الدین اعظم لشکر لے کے مصر سے آ پہونچا۔ ہزاروں نائٹ مختلف میدانوں میں لقمۂ نہنگ شمشیر ہوئے اور بیت المقدس اور شام کے تمام شہروں پر اُس نے قبضہ کر کے مسیحی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ اُس وقت ٹمپلرز مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کو چھوڑ کے ساحلی شہر عکّہ میں پہونچے۔ اور جب ایک زمانے کے بعد عکہ بھی مسیحیوں کے ہاتھ سے نکل گیا تو طرابلس الشام میں جا کے پناہ گزین ہوئے۔

اگرچہ ان لوگوں کے بہت سے حالات نومبر ۱۹۱۴؁ء کے دلگداز میں درج ہو چکے ہیں مگر اُن کے صدیوں کے واقعات اتنے نہیں ہیں کہ چند صفحوں میں ختم ہو جائیں۔ ہمیں اس سلسلے میں ابھی بہت سے حالات و خصائص کا بتانا باقی ہے جو کہ لطف سے خالی نہیں ہیں۔ ان کے گروہ یا ان کی سوسائٹی میں تین طرح کے لوگ ہوتے تھے۔ اول خود نائٹ، دوسرے چیپلین، تیسرے اسلحہ بردار۔ نائٹ دو طرح کے تھے، ایک تو وہ جو زندگی بھر کے لیے شریک جماعت ہوتے اور عہد کر لیتے تھے کہ مرتے دم تک اسی گروہ میں رہیں گے۔ اور دوسرے وہ جو کسی محدود مدت تک کے لیے اپنی زندگی نذر کرتے۔ مگر دونوں کو ایک ہی قسم کے اصول و ضوابط کی پابندی کرنا پڑتی۔ لازم تھا کہ وہ بلا ناغہ گرجے میں آ کے شریک جماعت ہوں۔ صرف وہ نائٹ جو رات کی خدمت میں تھک جاتے انہیں خاص صورتوں میں ماسٹر کی اجازت سے گھر پر ٹھہرنے کی اجازت عطا کر دی جاتی۔ روز دو وقت انہیں قاعدے کے ساتھ کھانا ملتا اور اگر ماسٹر کسی وجہِ مُوجّہ سے اجازت دے دے تو غروب آفتاب کے وقت ایک تیسری نہایت ہلکی غذا بھی مل سکتی۔ گوشت ہفتے میں صرف تین بار ملتا۔ اس کے سوا ہر وقت کے کھانے میں ساگ پات یا نباتی غذائیں ملتیں اور اُن میں بھی وہ جو زود ہضم تصور کی جاتیں۔ کھاتے وقت دو دو آدمی ساتھ بیٹھتے اور دونوں کی نظر ایک دوسرے کے کھانے پر لگی رہتی تاکہ کسی سے کوئی نامناسب حرکت یا خلاف اصول بے اعتدالی نہ ہونے پائے۔

شراب تو ہر غذا کے ساتھ مل جاتی مگر یورپ کی آج کل کی “ٹیبل ٹاک” (کھاتے وقت کی گپ شپ) نہ تھی۔ یہ ہر نائٹ کےلیے لازم تھا کہ جب تک کھانا کھائے خاموش رہے۔ اُس وقت ایک مذہبی دعا پڑھی جاتی تھی جس کا سُننا اور اُس پر کان لگائے رہنا فرض تھا۔ معمرّ و مریض ارکان کے ساتھ خاص رعایتیں تھیں اور اُن کی داشت کا اہتمام بھی اچھا تھا۔ ہر ممبر پر اپنے افسر اعلیٰ یعنی اپنے ماسٹر کی اطاعت فرض تھی اور اس کے احکام بعینہ خدا کے احکام تصور کیے جاتے۔ نامناسب نمائشیں عام ازیں کہ اسلحہ میں ہوں یا گھوڑے کے ساز و یراق میں، ممنوع تھیں۔ وہ لباس بھی اُن کے لیے جائز نہ تھا جس میں کئی رنگوں سے رنگ آمیزیاں کی گئی ہوں اور سوا نائٹوں کے باقی تمام ارکان سیاہ یا بھورے رنگ کے کپڑے پہنتے۔ سب کا لباس علی العموم اُون کا ہوتا۔ صرف ایک مذہبی تقریب کے زمانے میں تو انہیں ایک سُوتی کُرتا پہننے کی اجازت مل جاتی، باقی اور کبھی کوئی روئی کے کپڑے نہ پہن سکتا۔ بال سب کے چھوٹے چھوٹے رہتے اور جھنڈولی بے کنگھی کی ہوئی داڑھی ٹمپلروں کی پہچان قرار پا گئی تھی۔ شکار کھیلنا یا شکاری کتوں کو پالنا بھی اُن کے لیے ممنوع تھا۔ فقط شیر کے شکار کی اجازت تھی، اس لیے کہ شیر اُن لوگوں کے خیال میں بُرائی اور جبر و جور کا شعار قرار پا گیا تھا۔ اور اس کی بھی اجازت نہ تھی کہ اپنی گزشتہ لغویتوں کو وہ کبھی زبان پر لائیں اور عیش و عشرت کے گزرے واقعات کو یاد کریں۔

یہ لوگ کہیں باہر جاتے تو ان کے آنے جانے کی خاص نگرانی کی جاتی اور کوئی نہ کوئی ان کے ساتھ موجود رہتا۔ سوا اُس وقت کے جبکہ رات کو وہ حضرت مسیح کے مقبرے (ہولی سپلکر) کی زیارت کو جاتے۔ بڑی نگرانی اس بات کی رہتی کہ کوئی نائٹ یا اور رُکن کسی سے خط و کتابت نہ کرنے پائے۔ اپنے کسی عزیز و قریب کا خط بھی وہ بغیر ماسٹر کی موجودگی کے نہ کھول سکتے۔ کسی کے پاس اس کے کسی عزیز یا دوست کے پاس سے کوئی سوغات یا کھانے کی چیز آتی تو پلندہ ماسٹر کے سامنے کھولا جاتا اور ماسٹر کو اختیار تھا کہ اُسےدے یا اس کے سوا کسی اور شخص کو ضرورت مند خیال کر کے دے دے اور اگر ایسی صورت پیش آئے تو اصل مالک کو اُس پر بُرا ماننا یا پیشانی پر بل لانا بھی گناہ تھا۔

سب جدا جدا بچھونوں پر سوتے اور شب خوابی کا لباس کُرتا اور کسا ہوا گھٹنّا تھا۔ خواب گاہ میں جس کی حیثیت خانقاہ کی سی ہوتی ایک چراغ رات بھر روشن رہتا۔ بچھانے کے لیے عموماً چٹائیاں مروج تھیں۔ اگر کسی کے پاس چٹائی نہ ہو تو اُسے ایک دری کے بچھانے کی اجازت مل جاتی۔ لیکن اس بات کا لحاظ کر کے کہ اس میں راحت طلبی اور عیش پسندی کو ذرا بھی دخل نہ ہو۔

وقتاً فوقتاً جو مہتم بالشان معاملات پیش آتے اُن کے تصفیے کے لیے کمیٹیاں ہوتیں۔ کمیٹیاں دو قسم کی تھیں۔ ایک تو معمولی کمیٹیاں جو خفیف باتوں کے طے کرنے کے لیے جمع ہوتیں۔ اُن میں صرف سوسائٹی کے چند ہوشیار رُکن بُلا لیے جاتے۔ مگر بڑی کمیٹیاں جو اہم امور کے تصفیے کے لیے طلب کی جاتیں اُن کی شرکت کےلیے گرینڈ ماسٹر کُل ارکان کو طلب کرتا۔ کسی نئے رکن کو شریک جماعت کرنا یا کسی اراضی اور علاقے کو کسی کے حوالے کرنا اُن بڑی کمیٹیوں کا کام تھا۔

ہر ممبر کو داخلے سے پیشتر چند روز آزمائش میں رہنا پڑتا۔ نابالغ لڑکے جو ہتھیار اُٹھانے کے قابل نہ ہوں، نہ لیے جاتے۔ اور آخر آخر شاید ارکان کی بے اعتدالیاں دیکھ کے یہ قاعدہ بھی سختی سے جاری ہو گیا تھا کہ کوئی رکن کسی عورت کا بوسہ نہ لے سکے، عام اس سے کہ وہ شوہر والی ہو یا بیوہ یا اُس کی کوئی عزیز قریب ماں خالہ پھوپھی چچی یا بہن ہو۔ جو قواعد اول میں طے ہوئے تھے آخر تک انہیں پر عمل درآمد رہا۔ مگر جب کمیٹی کے قبضے میں بہت سی دولت جمع ہو گئی اور دنیا کے مختلف ملکوں میں اُس کی مملکتیں اور جائدادیں پیدا ہو گئیں تو حسب ضرورت نئے قوانین منظور ہوئے۔

اب انتظام کی یہ صورت تھی کہ سب کا حاکم اعلیٰ گرینڈ ماسٹر ہوتا۔ اُس کے احکام واجب التعمیل تھے اور قانون میں بھی رد و بدل کا اُسے حق حاصل تھا۔ لیکن باوجود اس کے وہ اس کا مجاز نہ تھا کہ اشتہار جنگ دے دے یا سوسائٹی کے کسی علاقے کو کسی کے حوالے کر دے یا کسی نئے ممبر کو شریک جماعت کرے۔ اِن اُمور کے لیے وہ اربابِ حَلّ و عقد کی رضا مندی حاصل کرنے پر مجبور تھا۔ خود اُس کا انتخاب تیرہ رکنوں کی منظوری سے ہوتا۔ مگر انتخاب کی کمیٹی میں جہاں تک بنتا، مختلف قوموں اور ملکوں کے ارکان رکھے جاتے۔

اس کے بعد ایک دوسرے عہدہ دار کا درجہ تھا جو “سنشل” کہلاتا۔ یہ وائس پریسیڈنٹ تھا اور گرینڈ ماسٹر کے عدم موجودگی میں اُس کا نائب اور قائم مقام تسلیم کیا جاتا۔ اُس کے علاوہ ایک عہدہ دار مارشل ہوتا۔ فوجی ساز و سامان اصطبل اور گھوڑوں کا ساز ویراق اسی کے اہتمام میں رہتا اور نائٹ ہونے کے تمام امیدوار یعنی اسلحہ بردار براہ راست اُس کے مطیع فرمان ہوتے۔ مگر لڑائی کے وقت سپہ سالار کے ماتحت ہو جاتا۔

ان عہدہ داروں کے علاوہ سوسائٹی کے ضلعدار تھے۔ مگر چونکہ بڑے بڑے ملک اور وسیع ریاستیں ان لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی تھیں۔ اس لیے ان کی حیثیت گورنروں بلکہ اُس عہد کے بادشاہوں کی سی ہوتی۔ سوسائٹی کی قلمرو چونکہ ایشیا اور یورپ کے ملکوں اور دور دراز مقامات میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس لیے ان گورنروں کی تعدادبارہ کے قریب رہتی اور کبھی اس سے زیادہ ہو جاتی۔ مگر ان لوگوں کے لیے بغیر گرینڈ ماسٹر کی منظوری حاصل کیے سمندر کا سفر اختیار کرنا اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانا ممنوع تھا۔ یہاں تک کہ یورپ کا کوئی اعلیٰ حاکم بھی بے اجازت ایسی جرأت نہ کر سکتا۔ ان گورنروں کے انتخاب کے وقت جملہ ارکان کی شرکت ضروری تھی۔ انہیں گورنروں کے زیر اختیار اُن کا خزانہ بھی رہتا جس کی کنجی خود گرینڈ ماسٹر کو بھی نہ مل سکتی۔ سوسائٹی کی طرف سے جو گورنر ارض مقدس کے اضلاع کا منتظم و نگراں تھا وہی اصلی صلیب کا محافظ و حکمراں بھی رہتا، جس کی نسبت ساری مسیحی دنیا کا اعتقاد تھا کہ یہ خاص وہی صلیب ہے جس پر حضرت مسیح کا جسد انور لٹکایا گیا تھا۔

ٹمپلروں کی سوسائٹی کے قبضے میں جہازوں کا بیڑہ بھی تھا جس کا غالب حصہ اُن کے والی و حاکم کے زیر فرمان رہتا۔ غرض ٹمپلروں نے اپنے کارناموں سے ساری مسیحی دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور چند ہی روز کے اندر اُن کے ہاتھ میں اتنی بڑی قلمرو آ گئی اور اُن کے خزانے میں اتنی دولت جمع ہو گئی کہ اُن دنوں نہ اُن سے زیادہ زبردست کوئی سلطنت تھی اور نہ اُن سے زیادہ کوئی بادشاہ دولتمند تھا۔ ساری عیسائی دنیا میں اُن کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔ سلاطین و امرا اُن سے ڈرتے اور کانپتے تھے اور عوام الناس اُن کے معتقد اور اُن پر جانیں نثار کرنے کو تیار تھے۔ اور اُن کے سب سے بڑے مرکز دو تھے۔ مشرق میں شہر عکّہ جس ساحلی شہر میں بیت المقدس سے نکالے جانے کے بعد عیسائیوں نے پناہ لی تھی اور بڑی مضبوطی سے زمین پکڑ رکھی تھی۔ اور مغرب یعنی یورپ میں پیرس، جہاں تاجداروں اور فرماں رواؤں کو اُن سے دبنا اور اُن کے آگے سر جھکانا پڑتا اور صاحبانِ تاج و دہیم اور مقتدایانِ ملک و ملت دونوں کے مقابل میں اُن کا اثر غالب تھا۔

اب اس زمانے میں اُن کا قانون یہ تھا کہ جو شخص شریک جماعت ہونا چاہتا مذکورہ بالا شرائط کے علاوہ اس بات کی حلف اُٹھاتا کہ

“مجھ پر کسی کا قرض نہیں ہے اور دَین سے بالکل سبک دوش ہوں اور اس وقت کسی اور جماعت یا گروہ میں نہیں شریک ہوں۔ اپنے بالا دست سرداروں کی بے عذر اطاعت و فرمانبرداری کروں گا۔ ہمیشہ عفت پاکدامنی کی زندگی بسر کروں گا اور اپنی باقی ماندہ زندگی ارض مقدس کی خدمت و حمایت کی نذر کروں گا۔”

اپنے ان فرائض اور حمایتِ دین و کلیسا کی اس خدمت پر ان لوگوں کو بڑا فخر و ناز تھا اور مسیحی دنیا کا اُن کی جماعت کی طرف اس قدر رُحجان تھا کہ وہ مصرع “ہر کہ خدمت کردا و مخدوم شد” کا اعلیٰ ترین نمونہ بن گئے تھے اور اُن کے بھائیوں اور سوسائٹی کے رکن بانکوں کی تعداد پندرہ ہزار تک پہونچ گئی تھی۔ الحاد و بے دینی یا مسلمانوں کے مقابل بھاگ کھڑے ہونے کے الزاموں پر وہ سوسائٹی سے نکال دیے جاتے اور بعض چھوٹے چھوٹے قصوروں مثلاً لڑائی میں اپنے جھنڈے کو سرنگوں کر دینے اور اسی قسم کی چند اور خفیف باتوں پر وہ چند روز کےلیے اپنے درجے اور مرتبے سے گرا دیے جاتے۔

روم کے پاپاؤں کی ابتداءً یہ کوشش رہی کہ اس طاقت کو جو اُن کی منظوری سے اُس جماعت کے لیے قائم ہو گئی تھی حتی الامکان قوت پہونچائیں اور روز بروز بڑھاتے رہیں تاکہ بیت المقدس کے مسلمانوں سے چھیننے کی کوشش اسی طرح برابر جاری رہے اور کامیاب ہو۔ چنانچہ گریگوری عاشر، لوئی تاسع، نکولس رابع اور بنی فیس ثامن (پوپوں) نے فتوے دیےکہ ٹیوٹن نائٹ اور سینٹ جان کے بانکے بھی ٹمپلروں کے گروہ میں شامل ہو جائیں۔ باہمی محبت و اتحاد کو ترقی دے کر اپنی قوت بڑھائیں اور یہ تینوں طرح کے بانکے مل کے ایک گروہ بن جائیں۔ پوپ بنی فیس ثامن کو مرتے دم تک اسی بات کی دُھن رہی کہ بیت المقدس پر عیسائیوں کا قبضہ ہو اور ٹمپلروں کے بڑھانے اور ان کی تقویت میں اُس نے کوئی دقیقہ نہیں اُٹھا رکھا۔

مگر بجائے اس کے کہ اُس کی یہ تمنا برآئے، اس کے ہاتھ سے پاپائی کی وقعت بھی چھن گئی۔ اس وقت تک پاپاؤں کا ایسا زور رہا تھا کہ اصلی قوت انہیں کے قبضۂ قدرت میں تھی اور مسیحی دنیا کے وہ بادشاہ گر تھے۔ جسے چاہتے بادشاہ بنا دیتے اور جسے چاہتے تاج و تخت سے محروم کر دیتے۔ مگر بنی فیس کے زمانے میں فرانس کے بادشاہ فلپ رابع نے اپنے تدبُر سے ایسا زور پکڑ لیا تھا کہ دربارِ پاپائی کا سارا زور ٹوٹ گیا اور بنی فیس بجائے مسجود قوم ہونے کے فلپ کے ہاتھ میں گرفتار ہو کے اُسی کی قید میں مرا۔ اور اس کے بعد جب نئے پوپ کے منتخب ہونے کا وقت آیا تو فلپ نے رشوتیں دے دے کے اور ڈرا دھمکا کے کارڈنلوں (یعنی پوپ کی محترم مجلس کے ممبروں) کو اپنا ایسا غلام بنا لیا کہ سوا اُس شخص کے جسے وہ پیش کرے اور کسی کو وہ لوگ پوپ منتخب کرنے کی جرأت ہی نہ کر سکتے تھے۔ یہ انتظام کر کے اُس نے ۷۳۴ محمدی (۱۳۰۵ء؁) میں کلیمنٹ خامس کو منتخب کرایا اور انتخاب سے پہلے ہی اُس سے چھ شرطیں اپنی مرضی کے موافق منوا کے اُن پر حلف اُٹھوالی۔ اُن چھ شرطوں میں سے ایک آخر تک راز میں رہی اور کسی کو نہ معلوم ہو سکا کہ کیا تھی مگر واقعات اور پوپ کلیمنٹ کے طرز عمل سے لوگوں نے پتہ لگایا کہ وہ شرط ٹمپلروں یعنی اُن مذہبی بانکوں کی پامالی تھی۔

تقریباً نصف صدی پیشتر سے عوام میں ان بانکوں کی نسبت طرح طرح کی افواہیں اُڑنا شروع ہو گئی تھیں۔ ان کی رازداری اور مخفی کارروائیوں نے لوگوں میں بدگمانیاں پیدا کیں اور وہی لوگ جو ملک و ملت کے سب سے بڑے محسن تھے مورد سِہامِ ملامت بننے لگے۔ کہا جاتا کہ اپنی آدھی رات کی کمیٹیوں میں وہ لوگ شرمناک اور ناپاک ترین جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اُس وقت وہ لوگ خدا اور مسیح سے بدعقیدگی پر قسمیں کھاتے ہیں۔ صلیب پر حقارت سے تھوکتے ہیں۔ فحش اور مجرمانہ افعال کے مرتکب ہوتے ہیں اور باہم عہد کرتے ہیں کہ اپنی ان مخفی سیہ کاریوں کو کبھی کسی پر نہ کھلنے دیں گے اور اپنے گرینڈ ماسٹر کے سوا کسی کا کہنا نہ مانیں گے۔

مشہور تھا کہ عبادت کی دعاؤں میں بھی اُنہوں نے تصرف کر کے قطع و بُرید کر دی ہے۔ “گُڈ فرائیڈے” (یعنی جس جمعے کو حضرت مسیح کا مصلوب ہونا مانا جاتا) کے دن مقدس صلیب پاؤں کے نیچے روندی جاتی اور خیرات کا مروّجہ مسیحی طریقہ ترک کر دیا گیا تھا۔ عہد اولین میں ان لوگوں کی نسبت شہرت تھی کہ عورتوں سے نہایت ہی پاکبازی کے اور شریفانہ تعلقات رکھتے ہیں اور کبھی اُن کی نیت بُری نہیں ہوتی۔ مگر اب یہ اعتبار اُٹھ گیا تھا اور سمجھا جاتا کہ وہ نہایت ہی فحش بدکاریوں اور ناپاک ترین شہوت رانیوں میں مبتلا ہیں اور اپنے آدھی رات کے جلسوں میں وہ عورتوں کو فریب دے کے لے جاتے ہیں اور کمال بے رحمی سے ذلیل و بے آبرو کرتے ہیں۔ اسی قدر نہیں، اُن پر اغلام کے الزام بھی عائد کیے جاتے۔ بعض باپوں نے اپنے نو عمر بیٹوں کو صرف اس وہم پر مار ڈالا کہ رات کو وہ ٹمپلروں کی صحبت میں چلے گئے تھے۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہاں جانے کے معنی یہی ہیں کہ اُن کی شہوت پرستیوں کے شکار ہوئے ہوں۔ یہ بدگمانی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ انگلستان تک میں لڑکے ایک دوسرے کو متنبہ کرتے کہ خبردار کسی ٹمپلر کو اپنا مُنہ نہ چومنے دینا۔ مختلف حاکموں اور اُسقفوں کے سامنے اس قسم کے واقعات پیش ہوئے کہ باپوں نے اپنے کم عمر لڑکوں کو اس ندامت میں مار ڈالا کہ وہ کبھی ٹمپلروں کی صحبت شب میں شریک ہو گئے تھے۔

اسی قدر نہیں، اب اُن پر طرح طرح کے مذہبی الزام بھی عائد کیے جاتے تھے۔ یقین کر لیا گیا تھا کہ جو شخص ٹمپلروں میں شریک ہو جاتا ہے اُس کا اعتقاد نہ خدا پر رہتا ہے نہ مسیح پر۔ صلیب کو وہ بُرا سمجھتا اور اُسے حقیر جان کے اُس پر تھوکتا ہے۔ رات کو جلسوں میں وہ ایک بت کو پوجتے ہیں جس کی شکل بلی یا بچھڑے یا کسی اور چوپائے کی سی ہے۔ اُن کا گرینڈ ماسٹر اپنی راز کی محفلوں میں اُن کے سامنے یہ عقیدہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلمانوں کی داڑھی کا ایک بال مسیحی کے سارے جسم سے زیادہ واجب التعظیم ہے۔ فرانس میں مشہور تھا کہ ٹمپلر اپنے حرامی بچوں کو بھون ڈالتے ہیں اور اُن کی جلتی ہوئی چربی اپنے دیوتاؤں کی مورت میں چپڑتے ہیں۔

ان سب باتوں کی اصلیت یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایک طرف ٹمپلروں کی وقعت و سطوت اور دولت و حکومت کو روز بروز بڑھتے دیکھ کے تمام مسیحی فرماں رواؤں اور خود روم کے پاپاؤں کو اُن پر حسد معلوم ہوا۔ جس طرح شاہانِ فرنگ اپنے تخت و تاج کے لیے اُن سے خائف تھے ویسے ہی مقتدائے ملت پوپ ڈرتا تھا کہ ایسا نہ ہو میرا تہرا تاج مقتدائی میرے ہاتھ سے چھن جائے اور دوسری طرف خود ٹمپلروں کو مدتوں بلکہ صدیوں تک مسلمانوں کے قریب رہنے اور اُن کے حالات سے روز بروز زیادہ آشنا ہوتے جانے کے باعث اسلام سے ایک قسم کا اُنس ہو گیا تھا۔ پادریوں نے مسلمانوں کی نسبت جو غلط اور بے بنیاد افواہیں مسیحی دنیا میں اُڑا رکھی تھیں اُن سے وہ واقف ہو گئے تھے اور دین محمدی کی خالص و بے غش توحید اُن پر آشکارا ہو گئی تھی۔ اُن کے دلوں میں دین اسلام کی طرف ایک میلان و رحجان پیدا ہو گیا تھا۔ جسے دیکھ کے مسیحیوں نے اُن کی نسبت ویسی ہی بے بنیاد افواہیں اُڑانا شروع کر دیں جیسی کہ خود مسلمانوں کی نسبت اُنہوں نے مشہور کر رکھی تھیں کہ اپنی مسجدوں میں بت پرستی کرتے، محمد (صلعم) کو خدا مانتے اور اُن کی ایک فیل نشین مورت کو اپنے معبدوں میں رکھ کے پوجا کرتے ہیں۔اور مسلمانوں کی نسبت ان دنوں یورپ میں پیشوایانِ ملت نے ایسا تعصب پھیلا رکھا تھا کہ کسی کو اُن سے ذرا بھی لگاؤ ثابت ہوتا تو وہ مغرب کی ساری دنیا میں واجب القتل تھا۔ اسی چیز نے غریب ٹمپلروں کے تمام سابقہ حقوق اور اُن کی ساری خوبیوں کو خاک میں ملا کے انہیں تباہ کرایا۔

چودھویں صدی عیسوی گویا یورپ کے ان نائٹوں کے تباہ کرنے ہی کے لیے آئی تھی۔ اس لیے کہ شاہ فرانس فلپ کے دل سے لگی ہوئی تھی کہ ٹمپلروں کو غارت کر کے اُن کے ملک و دولت پر قبضہ کر لے۔ دو سال تک اُس نے انتظار کیا کہ اُس کے منتخب کرائے ہوئے پوپ کلیمنٹ کے ہاتھ سے کارروائی شروع ہو مگر کلیمنٹ کو کسی طرح جرأت نہ ہوتی تھی۔ ناگہاں یہ واقعہ پیش آیا کہ فرانس کے شہر طولون کے جیل میں ایک ٹمپلر کسی جرم کی بنیاد پر قید تھا۔ اُس نے بادشاہ فلپ پر ظاہر کیا کہ اگر مجھے آزادی دی گئی تو ایک ایسا راز بتا دوں گا جو سلطنت کے لیے نہایت ہی قابل قدر اور مایۂ ترقی ہو گا۔ بادشاہ نے ۱۴ دسمبر ۱۳۰۷؁ء کو اس کا اظہار لیا اور ۱۳ اکتوبر کی شب کو ناگہاں حکم دیا کہ مملکت فرانس میں جتنے ٹمپلر ملیں سب گرفتار کر لیے جائیں۔ اسی قدر نہیں بلکہ قُرب و جوار کے دیگر حکمرانوں کے پاس بھی پیام بھیجا گیا کہ اپنی اپنی قلمرو میں بھی یہی حکم نافذ کر دیں اور سب مقامات میں جو ٹمپلر اسیر و پابزنجیر کیے گئے اُن کے علاوہ خاص پیرس میں ٹمپلروں کا ماسٹر جنرل جیمس ڈی مولائی اپنی سوسائٹی کے ساٹھ ممبروں کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ اور بعد والے ہفتے کے روز وہ بے گناہ اسیر پیرس یونیورسٹی کے سامنے لائے گئے کہ اپنے جُرموں کی فہرست اور اپنی فرد قرار دادِ جُرم سُنیں۔ دوسرے دن اتوار کو پیرس کے شاہی باغوں کے اندر عوام الناس جمع ہوئے اور مختلف واعظوں نے جو فلپ کی طرف سے مامور ہوئے تھے، انہیں بھڑکانا اور سمجھانا شروع کیا کہ ٹمپلر لوگ سخت مجرم، بڑے بڑے خوفناک جُرموں کے مرتکب، انتہا درجے کے بے دین و ملحد اور کشتنی و گردن زدنی ہیں اور عوام کو اطمینان دلانے کے ساتھ ہی مقدّمہ کی کارروائی شروع کر دی گئی۔

تفتیش و تحقیقات کے بہانے اسیر شدہ ٹمپلروں پر ایسے مظالم ہونے لگے اور انہیں ایسی جاں گزا اذیتیں پہونچائی جانے لگیں کہ اُنہوں نے بہت سی ایسی باتوں کا اقرار کر لیا جو نہایت خوفناک اور سنگین جرم تھے۔ اس بے رحمی و جو ر کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ فقط اکیلے پیرس میں چھبیس ٹمپلر حوالات کے اندر مر گئے۔ ۱۹ سے ۲۴ نومبر تک ایک سو چالیس ٹمپلروں کا بیان لیا گیا۔ ان میں سے بعض اس قدر سِن رَسیدہ تھے کہ اُن کے بیان کا اثر ٹمپلروں کی گزشتہ پچاس سال کی تاریخ پر پڑتا تھا۔ قریب قریب سب نے تسلیم کر لیا کہ ہم صلیب اور مصلوبیت مسیح کی توہین کرتے ہیں۔ بہتوں نے بعض اور بے دینی کے الزام قبول کیے اور فحاشی اور سیہ کاری کے جو شرمناک الزام لگائے گئے تھے، اُن کا بھی اُن غریبوں نے جبراً و قہراً اقرار کیا۔

پوپ کلیمنٹ نے شاید ترس کھا کے ۲۷ اکتوبر کو اپنا ایک حکم جاری کر کے تفتیش کرنے والوں کے ظالمانہ اقتدارات روک دیے تھے۔ مگر نومبر کے ختم ہونے سے پہلے غالباً فلپ کے اشارے پر اُس نے شاہ انگلستان ایڈورڈ دوم کو لکھا کہ جتنے انگریز ٹمپلر تمھارے علاقے میں ہوں، انہیں بھی گرفتار کر لو۔ ۱۰  جنوری  ۱۳۰۸ء؁ کو انگلستان میں اس حکم کی تعمیل ہوئی اور اسی زمانے کے قریب یورپ کے تمام ممالک میں ہر جگہ ٹمپلروں پر آفت نازل ہو گئی۔ پھر ۲۴ جنوری کو سسلی میں اور ۲۷ مئی کو سائپرس میں (جو ٹمپلروں کا خاص مرکز تھا) یہی کارروائی ہوئی۔ اور کوئی مقام نہ تھا جہاں یہ بیچارے بے گناہ پکڑے اور مارے نہ جاتے ہوں۔

باوجود ایسے احکام جاری کر دینے کے پوپ روم ذرا رُک رُک کے اور پچتا پچتا کے ان احکام کو جاری کرتا تھا۔ یہ دیکھ کے فلپ سات سو مسلح سپہ گروں کے ساتھ اس کے سر پر آنازل ہوا اور وہ بالکل اس کے بس میں تھا اور سب نے باتفاق طے کر دیا کہ بادی النظر میں اسیر ٹمپلر، اُن کا روپیہ اور اُن کی اراضی و علاقے سب پوپ کے کمشنروں کے ہاتھ میں رکھے جائیں۔ مگر اصل میں حکم دینے والا خود فلپ تھا۔۵جولائی ۱۳۰۸ء؁ کو پھر مقدس و معصومانہ دربارِ پوپ سے یہ حکم جاری ہوا کہ تفتیش کرنے والے اسیروں پر جیسی سختیاں چاہیں کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی طے پایا کہ ضبط شدہ جائداد ارض مقدس کی بازیافت کی کوشش کی جائے۔ کلیمنٹ کا اب حکم تھا کہ ٹمپلروں کے جرائم کی از سرنو تحقیقات کی جائے۔ بہتّر اقراری مجرموں کا بیان وہ خود سُن چکا تھا۔ اب شہر شنون میں گرینڈ ماسٹر مولائی اور تین پری سپٹروں(١) کا بیان از سرنو لیا گیا اور اُنہوں نے اذیتوں کے خوف سے پھر جرموں کا اقرار کیا۔

آخر کار یکم اکتوبر ۱۳۱۰؁ء کو ایک بڑی بھاری کونسل شہر ویانا میں جمع ہوئی تاکہ ٹمپلروں کے جرائم پر غور کرے۔ مقدمے کی کارروائی ١١ اپریل ١٣١١ء؁ کو شروع ہوئی۔ ۲۳ اپریل کو اخبالد پروانیو نے اعتراض کیا کہ کارروائی انصاف سے نہیں ہو رہی ہے۔ مگر کون سُنتا ہے؟ ۱۲ مئی کو ۵۴ ٹمپلر شہر سان کے اسقف اعظم کے حکم سے زندہ جلا ڈالے گئے اور چند روز بعد چار اور ٹمپلروں کا بھی یہی حشر ہوا۔

ان واقعات کے مشہور ہوتے ہی لوگوں پر ایک ہیبت چھا گئی۔ چنانچہ چھیالیس ٹمپلروں نے جوابدہی اور پیروی مقدمہ سے انکار کر دیا۔ مجبوراً کمشنروں نے نومبر تک کے لیے کارروائی ملتوی کر دی۔ اس کے بعد دوبارہ تحقیقات ۱۸ دسمبر ۱۳۱۰ء؁ کو شروع ہوئی اور ۵ جون ۱۳۱۱ء؁ کو اُس کی کارروائی ختم ہوئی۔ اس کارروائی کے دوران میں پوپ کلیمنٹ اور شاہ فلپ کے مابین سمجھوتہ ہو گیا۔ جس کی بنا پر پوپ نے ٹمپلروں کو مجرم قرار دیا اور ویانا کی کونسل میں اس مسئلے پر غور ہونے لگا کہ ٹمپلروں کو جواب دہی و عذر داری میں کچھ کہنے سننے کا موقع بھی دیا جائے یا نہیں۔ اور کہتے ہیں کہ جیسے ہی اس مسئلے پر بحث چھڑی پوپ نے فوراً کارروائی ملتوی کرا دی تاکہ ایسے مسئلے پر غور ہی نہ کیا جائے جس سے اُس کی مرضی کے خلاف نتیجہ ظاہر ہونے کا اندیشہ ہو اور جن سات ٹمپلروں نے مختار کی حیثیت سے جوابدہی کا دعویٰ اور ارادہ کیا تھا وہ گرفتار کر کے قید خانے میں بھیج دیے گئے۔

شروع مارچ ۱۳١٢ء؁ میں شاہ فلپ ویانا میں آ کے خود کونسل میں شریک ہوا۔ پوپ کے داہنے بازو پر بیٹھا اور اُس کی موجودگی میں پوپ نے ٹمپلروں کے خلاف اپنا روحانی فیصلہ اور اپنا حکم سُنایا۔ اس کے بعد ۲مارچ سنہ مذکورۂ بالا کو پوپ نے اس مضمون کا حکم شائع کیا کہ “ٹمپلروں کی تمام جائداد سینٹ جارج کے نائٹوں کو دے دی جائے۔ بجز اُس غیر منقولہ جائداد و مملکت کے جو ممالک کیسٹائل، ارغون، پورچگل اور مجورقہ کے علاقوں میں واقع ہے۔”

جو ٹمپلر ملزم و مجرم قرار دیے گئے تھے، تین گروہوں میں تقسیم کر دیے گئے:

اول: وہ جنہوں نے پکڑے جاتے ہی اقرار جرم کر لیا۔

دوسرے: وہ جنہوں نے انکار کیا اور اپنے انکار پر آخر تک قائم رہے۔

تیسرے: وہ جنہوں نے ابتداءً اقرار کیا تھا اور بعد کو دورانِ مقدمہ میں انکار کر دیا اور اپنے پہلے اقرار کی نسبت ظاہر کیا کہ ہمارا وہ قبول کر لینا محض تکلیفوں، ظلموں اور اذیتوں سے بچنے کے لیے تھا۔

ان تینوں گروہوں کے لیے سزائیں یہ تجویز ہوئیں کہ گروہ اول کے مجرم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اپنے بے دینی کے افعال پر نادم ہوں۔ دوسرے گروہ والے دائم الحبس کیے جائیں اور تیسرے گروہ والے زندہ آگ میں جلا کے مارے جائیں۔ لیکن ان مجرموں میں سے گرینڈ ماسٹر مولائی اور دو ایک اور معزز عہدہ دارانِ سوسائٹی مستثنیٰ کر لیے گئے اور کہا گیا کہ ان کے بارے میں پوپ جو فیصلہ کریں گے اُس پر عمل کیا جائے گا۔ آخر ۱۳۱۴ء؁ کے آغاز میں وہ اس بات پر مجبور کیے گئے کہ علانیہ مجمع عام میں اپنے جرموں کا اقرار کریں اور اگر ایسا کرتے تو اُن کے لیے دائم الحبس رہنے کا حکم نافذ ہو جاتا۔ مگر اتفاقاً نارمنڈی کے ماسٹر ٹمپلر اور ایک اور عہدہ دار نے بجائے اقرار گناہ کے اپنی بے گناہی کا علانیہ دعویٰ کیا اور شاہ فلپ نے بغیر اس کے کہ پوپ کے مشورے کا انتظار کرے، انہیں ایک چھوٹے جزیرے میں زندہ جلا کے مار ڈالا۔

ٹمپلروں کے آخری ماسٹر جنرل اور سردار و سرغنا غریب مولائی کے زندہ جلا دیے جانے کے بعد ٹمپلروں کی قوت ہر جگہ ٹوٹ گئی اور پھر کبھی اُن کی وہ اگلی وقعت و عزت قائم نہ ہو سکی۔ لیکن چند ہی روز میں ثابت ہو گیا کہ ٹمپلر بے گناہ و بے قصور تھے اور اُن کے خلاف جتنی کارروائیاں ہوئیں، فلپ شاہ فرانس کی عداوت و سازش اور حصولِ دولت کے ہوس کی وجہ سے تھیں۔

فرانس کے سوا جہاں جہاں اور جن جن ملکوں میں اُن کے بارے میں تحقیقات کی گئی، یہی ثابت ہوا کہ وہ بے گناہ ہیں اور اُن فیصلوں کے دیکھنے سے صاف آشکارا ہو جاتا ہے کہ فرانس میں اُن پر کیسی بے رحمی اور اُن کے ساتھ کیسا سنگدلی کا برتاؤ کیا گیا۔ اسپین کی سلطنت قسطلہ میں ابتداءً فرانس کی تحریک پر سارے نائٹ ٹمپلر پکڑ کے قید کر لیے گئے تھے مگر سلامانکا کی کونسل کے سامنے مقدمہ پیش ہوا تو فوراً چھوڑ دیے گئے۔ اسی طرح ہسپانیہ کی ریاست اراغون میں اگرچہ اُنہوں نے اطاعت قبول کرنے سے انکار کیا تھا اور اپنی ایک گڑھی میں قلعہ بند ہو کے لڑے بھی تھے۔ مگر جب طراغونہ کی کونسل نے اُن کے الزامات پر غور کیا تو پوری تفتیش کے بعد نومبر ١٣١٢ء؁ میں یہی فیصلہ صادر کیا کہ یہ لوگ بے گناہ ہیں۔

پورچگل میں بھی اُن کی تحقیقات ہوئی اور سلطنت کی جانب سے جو کمشنر مامور ہوئے تھے اُنہوں نے رپورٹ کی کہ ہمیں ان لوگوں کے مجرم قرار دینے کی کوئی وجہ ہی نہیں نظر آتی۔ علاقۂ منیزمیں اُن کی تحقیقات ہوئی، سختی کے ساتھ چھان بِنان کی گئی مگر وہاں بھی اُن کی بے گناہی کا اعتراف کیا گیا۔ اسی طرح مقامات ٹریوس، سینا، بولونیا، رومانیا اور جزیرہ قبرص میں بھی ٹمپلر پکڑے گئے، اُن پر مقدمہ چلایا گیا، کامل تحقیقات کی گئی، مگر نتیجہ یہی ہوا کہ یا تو اُن کے خلاف کوئی شہادت تھی ہی نہیں اور یا تھی تو ایسی نہ تھی کہ اُس پر وثوق کر کے انہیں سزا دی جائے۔ چنانچہ سب جگہ وہ بری کر دیے گئے۔ فرانس کے علاوہ بعض اور مقامات میں بھی بعض ٹمپلروں نے اُن جرموں کا اقرار کیا جو اُن پر عائد کیے جاتے تھے، مگر عدالت کو یہی رائے اختیار کرنا پڑی کہ اُن لوگوں کا یہ اقرار محض جور و تشدد اور ایذا رسانی کی وجہ سے ہے۔

شہر فلارنس میں چند ٹمپلروں نے عدالت کے سامنے جو بیان کیا تھا وہ بعض مورخین نے بجِنسہ نقل کر دیا ہے۔ وہ ایک عجیب احمقانہ طریقے سے اور بے حسی و بے عقلی کی شان سے یہ اقرار کرتے ہیں کہ “ہم پر جتنے الزام عائد کیے جاتے ہیں سب صحیح ہیں اور ہماری نسبت جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اُس میں ایک لفظ بھی غلط  نہیں ہے۔” اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیان ان کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ کسی کا سکھایا ہوا ہے اور جو کچھ بتا دیا گیا ہے اُسے وہ کسی خطرناک قوت کے ڈر سے بلا تکلف اور بے سمجھے بوجھے زبان سے ادا کر رہے ہیں۔

انگلستان میں غالباً اُن پر کسی قسم کا جور و تشدد نہیں ہوا تھا۔ وہاں بھی اسّی اسیر شدہ ٹمپلروں کا اظہار عدالت کے سامنے ہوا۔ اُن اسّی میں سے صرف چار نے اقرار کیا کہ ہم مسیح سے انکار کرتےہیں اور صلیب کی توہین و تحقیر کرتے ہیں۔

اس قسم کے الزامات کی اصلیت بھی ہے۔ مسلمانوں کے عقائد سے واقف ہونے اور اپنے اصول کی کمزوریوں سے آگاہ ہو جانے کے بعد انہیں اُن عقائد سے اختلاف ہو گیا تھا جن سے اصلی مسیحیت کو تعلق نہ تھا بلکہ یونان و روم کی بت پرستی کے اثر سے دین عیسوی میں مل گئے تھے۔ مسیحی رُہبان تعصب کے جوش میں اُن کو منکر و ملحد قرار دیتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ہم دین مسیحی میں سے اُن جاہلانہ عقائد کو نکال ڈالیں جنہوں نے حضرت مسیح کے لائے ہوئے دین کو غارت کر دیا ہے۔ مثلاً اُن کے مختلف بیانوں پر غائر نظر ڈالنے سے کُھلتا ہے کہ وہ حضرت مسیح کی نبوت کے منکر نہ تھے بلکہ اُس مسیح کے منکر تھے جو خدا بتایا جاتا تھا۔ اُن دنوں تمام گرجوں میں حضرت مسیح کی فرضی تصویریں مصلوبیت کی وضع میں قائم تھیں، اُن کو بُرا اور بُت پرستی کا نمونہ تصور کرتے۔ بعض نے یہ کہہ دیا کہ “جس مسیح نے گناہوں کا اقرار کر کے اور انہیں اپنے سر لے کے اُن کا خمیازہ بھگتا اُس کے ماننے سے ہمارے گروہ کو انکار ہے۔ ہم خدائے واحد و ذوالجلال پر ایمان رکھتے ہیں۔” اسی طرح صلیب کی نسبت اُنہوں نے کہا کہ ہمیں نفس صلیب سے انکار نہیں بلکہ صلیب کی جو تصویریں اور نقلیں گرجوں کے در و دیوار پر نصب ہیں اور لوگوں کے گلوں میں لٹکتی نظر آتی ہیں، ہمیں اُن سے انکار ہے۔ یہ عقائد صاف بتا رہے ہیں کہ نائٹ لوگ ارض شام میں اور مسلمانوں کے زیر سایہ رہتے رہتے اُن کے معتقدات کے دلدادہ ہو گئے تھے اور اگر مسلمان نہ بھی ہوئے ہوں تو چاہتے تھے کہ مسیحیت کو وہی اصلی مسیحیت بنا دیں جو دنیا کو حضرت مسیح سے ملی تھی اور جس کی تصدیق اسلام کر رہا تھا۔

لیکن یہ امر کس قدر قابل مضحکہ ہے کہ اُنہیں مذکورہ عقائد کی بنا پر ٹمپلر ملحد بتائے جاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے یہ عقیدے بعض بت پرست قوموں سے اخذ کیے۔جو تحریک بت پرستی کا استیصال کرنا چاہتی ہو اُس کو بت پرستی بتانا اور اپنی صنم پرستی کو بھول جانا سچ یہ ہے کہ یورپ کے عجائبات میں سے ہے اور اس پر زیادہ حیرت کی یہ بات ہے کہ ٹمپلروں کے عقائد کو اکثر محققین یورپ دُور و دراز کے بُت پرست فرقوں میں ڈھونڈھتے ہیں اور اسلام پر نظر نہیں ڈالتے جس نے ٹمپلروں کو ایک باضابطہ قانون توحید بتا کے اپنا والہ و شیدا بنا لیا تھا۔

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

نئی کتابیں

تنبیہ