دربارِ مغلیہ کا لباس

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

دربارِ مغلیہ کا لباس - سید بشیر احمد سرور

فہرست

آغازِ کتاب

دربارِ مغلیہ کا لباس

 

اس سے قبل کہ میں دربار مغلیہ کے لباس کے متعلق کچھ لکھوں، ہندوستان کے لباس کی ایک بالکل مختصر تاریخ لکھ دینا چاہتا ہوں۔ ہندوستان کے لباس کی تاریخ نہایت تاریک ہے۔ مسلمانوں کے آنے سے پیشتر ہندوستان میں جہاں تک پتہ لگایا جائے اور قدیم مورتیوں وغیرہ کی تصویروں پر غور کیا جائے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے آنے سے پیشتر یہاں سئے ہوئے کپڑوں کا رواج نہیں تھا۔ مرد اور عورت دونوں بے سی ہوئی چادروں، ساڑیوں اور دھوتیوں سے بدن ڈھانکتے تھے۔ عرب سیاح جو فاتحانِ اسلام سے پہلے یہاں پہنچ گئے تھے، انہوں نے سندھ سے لے کر بنگالے تک ہر ساحلی شہر اور قریب کے اندرونی علاقوں میں یہاں کے لوگوں کو اسی وضع میں پایا۔

پہلے عرب مسلمان جو یہاں پہنچے وہ اگرچہ کرتے، تہمت اور عبائیں پہنتے تھے؛ مگر لباس و وضع میں انہیں یہاں کے لوگوں پر کچھ زیادہ فوقیت حاصل نہ تھی۔ لباس میں ترقی اس وقت سے شروع ہوئی جب ساسانی معاشرت اختیار کر کے بغداد کے عباسی دربار نے شرفائے عرب کے پائجامے، عبا و قبا اور خوش قطع عمامے ایجاد کیے، جو لباس کہ کلیۃً یا زیادہ تر ساسانی دربار کے امرا و اعیان کی وضع سے ماخوذ تھا۔ چند روز میں یہی لباس ان تمام مسلمانوں کا ہوگیا جو مصر سے دریائے سندھ کے کنارے تک پھیلے ہوئے تھے اور آخر وہ اس لباس کو لیے ہوئے ہندوستان میں آئے۔ تصویروں میں جو لباس عہد اوّلین کے مسلمان تاجداران ہند کا نظر آتا ہے، وہ قریب قریب وہی ہے جو عجمی و عباسی امرا و فرماں رواؤں کا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں کے سلاطین راجاؤں کی تقلید میں جواہرات بہت زیادہ پہنا کرتے تھے۔

دہلی میں دربار مغلیہ کا آخری لباس جو ہمیں معلوم ہو سکا یہ ہے کہ سر پہ پگڑی، بدن پر نیمہ جامہ، ٹانگوں میں ٹخنوں سے اونچا تنگ مہری کا پاجامہ، پاؤں میں اونچی ایڑی کا کفش نما جوتہ اور کمر میں جامے کے اوپر پٹکا۔ بس یہی دہلی کے قدیم شرفا کی وضع تھی، جس میں محمد شاہ رنگیلے کے زمانے تک کسی قسم کا رد و بدل نہیں ہوا تھا اور اگر ہوا بھی ہو تو اتنا نہ تھا کہ ہم کو نظر آسکے۔

اس لباس میں نیمے سے مراد کہنیوں تک کا آدھی آستینوں کا شلوکا تھا اور سینے پر سامنے اس میں گھنڈیاں لگائی جاتی تھیں۔ اس کو نیچے پہن کے اس کے اوپر جامہ پہنا جاتا تھا جو عجمی قبا میں ترمیم کرکے بنایا گیا تھا۔ اس میں گریبان نہ ہوتا تھا، بلکہ دونوں جانب کے کنارے جو “پردہ” کہلاتے تھے، ترچھے ایک دوسرے پر آ کے سینے کو ڈھانک لیتے تھے۔ سینے کا بالائی حصہ جو گلے کے نیچے ہوتا ہے اسی طرح کھلا رہتا تھا، جیسے آج کل انگریزی کوٹوں میں کھلا رہتا ہے اور جس طرح فی الحال قمیص سینے کے اوپر والے حصے کو چھپاتی ہے، اسی طرح اُن دنوں نیمہ اس کو ڈھانکے رکھتا تھا۔ سینے پر جامہ کا وہ پردہ جو بائیں طرف سے آتا ہے، نیچے رہتا تھا اور داہنے پہلو پر بندوں سے باندھ دیا جاتا تھا اور اس پر داہنی طرف کا پردہ رہتا تھا جو اوپر بائیں پہلو میں باندھا جاتا تھا۔ پھر اس میں کمر کے پاس سے دامنوں کے عوض ایک اسکرٹ سی جوڑ دی جاتی تھی جو ٹخنوں کے اوپر تک لٹکی رہتی تھی۔ اس میں بہت سی چنّٹ دی جاتی تھی اور اس کا گھیر بہت بڑا ہوتا تھا۔ جامے کی آستینیں آدھی کلائی تک بے سی ہوئی اور کھلی رہتی تھیں اور دونوں جانب لٹکا کرتی تھیں۔ اس کے نیچے سیدھی سادھی تنگ مہریوں کا پائجامہ ہوتا تھا، جو امرا میں مشروع اور اور گلبدن کا ہوا کرتا تھا۔ پھر جامہ کے اوپر پٹکا باندھ لیا جاتا تھا۔

دو تین صدی پیشتر ہمارے بزرگوں اور ہندوستان کے امیروں اور تمام شریفوں کا یہی لباس تھا۔ اب پہلے مَیں درمیانی حصۂ جسم کے لباس کا ذکر کرنا چاہتا ہوں؛ کیونکہ یہی اصل لباس ہے اور اسی سے انسان کی وضع قطع مشخص ومعیّن ہوتی ہے۔ یہی دور مغلیہ کا درباری لباس تھا اور اسی لباس کو پہنے ہوئے نواب برہان الملک منصور جنگ اور شجاع الدولہ دہلی سے اودھ میں آئے تھے۔ جامہ عموماً باریک ململ کا ہوتا تھا جو ہندوستان کے مختلف شہروں میں نہایت نفیس، باریک اور سبک بنا کرتی تھی اور ساری دنیا میں مشہور تھی۔ ڈھاکہ کی ململ اور جامدانی عالی مرتبہ امیروں اور بادشاہوں کے لیے مخصوص تھی۔

اس کے بعد ایرانی قبا سے ماخوذ کرکے بالابر ایجاد ہوا، جس میں گول گریبان بالکل کھلا رہتا تھا، اس لیے کہ سینے کے ڈھانکنے کے لیے نیمہ کافی تھا جو اس کے نیچے بھی پہنا جاتا تھا، جو چنٹ اور گھیر اس میں نکال دیا گیا تھا اور اس ضرورت سے کہ دامن آگے کی طرف نہ کھلیں، داہنے دامن میں ایک چوڑی کلی لگا دی جاتی تھی۔ یہی کلی اس کلی کا نقشہ اولین ہے جو فی الحال شیروانیوں میں بائیں جانب نیچے لے جا کے بند سے باندھی یا ہُک سے اٹکائی جاتی ہے۔

اسی بالابر پر ترقی کرکے دہلی میں انگرکھا ایجاد کیا گیا، جس میں دراصل جامہ اور بالابر دونوں کو ملا کر ایک نئی قطع پیدا کی گئی۔ اس میں سینے پر چولی قبا سے لی گئی، مگر سینہ کو کھلا رکھنے کی جگہ ایک گول اور لمبوترا گریبان بڑھایا گیا، جس کے اوپر گلے کے نیچے ایک ہلال نما کنٹھا لگایا جاتا اور وہ بائیں طرف گردن کے پاس گھنڈی تکمے سے اٹکا دیا جاتا تھا۔ چولی نیچے رہتی تھی جس میں پہلے داہنی طرف کا پردہ نیچے بغل میں بندوں سے باندھا جاتا تھا اور پھر اوپر بند ہوتے تھے جس سے دونوں طرف کے پردے سینے کے نیچے بیچوں بیچ میں لا کے باندھ دیے جاتے تھے۔ اس میں بائیں جانب تھوڑا سا سینہ کھلا رہتا تھا، چولی نیچی رہتی تھی اور نیچے دامن اگرچہ قبا کے سے ہوتے تھے مگر پرانے جامے کی یادگار میں دونوں پہلوؤں پر بغلوں کے نیچے چنٹ ضرور رکھی جاتی تھی۔

یہ پرانا انگرکھا دہلی کے آخری دور تک جاری رہا تھا۔ انگرکھے کی ایجاد کے بعد نیمہ چھوٹ گیا تھا اور شہزادوں اور نواب زادوں نے ایک کمر توئی کے عوض جو چولی کے نیچے بند لگانے کی جگہ پر ہوتی تھی، پلیٹوں کی وضع سے تین تین کمر توئیاں لگائی تھیں۔ جا بجا گوٹ اور کمر توئیوں کے پاس کٹاؤ کا کام بنایا جاتا تھا۔

درمیانی حصۂ جسم کے لباس کے حال کے بعد میں اس جزوِ لباس کی طرف توجہ کرتا ہوں جو سر کے لیے مخصوص ہے اور اسی لباس کی ہندوستان میں زیادہ عزت و حرمت کی جاتی ہے۔ اس لیے کہ جس طرح سر سارے جسم میں ممتاز ہے، اسی طرح اس کے لباس کو بھی زیادہ ممتاز ہونا چاہیے۔ قدیم الایام سے ہندوستان میں پگڑی باندھنے کا رواج چلا آتا ہے۔ اگرچہ عربی و عجمی بھی عمامے باندھے ہوئے یہاں آئے اور ان کی حکومت قائم ہوجانے کی وجہ سے یہاں کی پگڑیوں میں بہت کچھ تغیر ہو گیا؛ لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ مسلمانوں کے آنے سے پہلے یہاں پگڑی نہ تھی۔

ابتدائی دور کے مسلمان فرمانرواؤں کے عمامے بڑے بڑے تھے، جن کے نیچے قدیم ترکی وضع کی نوک دار مخروطی ٹوپیاں ہوتی تھی جو آج کل افغانستان میں مروّج ہیں اور ہماری ہندوستانی فوج کی وردیوں میں شامل ہوگئی ہیں۔

سلطنت مغلیہ کے عہد میں پگڑیاں روزبروز چھوٹی ہونے لگیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سرد ممالک میں جس طرح سردی کی مضرت سے بچنے کے لیے جوں جوں زمانہ گزرتا ہے، لباس وزنی اور  میلا ہوتا جاتا ہے؛ ویسے ہی گرم ملکوں میں سبک، ہلکا اور مختصر ہوتا رہتا ہے۔ اسی اصول کے مطابق یہاں پگڑیاں روز بروز ہلکی اور چھوٹی ہوتی گئیں اور ملک کا یہ رجحان دربار کی وضع پر بھی اثر کرتا گیا۔ دربار مغلیہ کے آخری عہد میں امرا اور منصب داروں کی پگڑیاں بہت ہلکی ہو گئی تھیں اور اسی اختصار پسندی نے یہ بات پیدا کی کہ پگڑیاں صدہا قطع کی ہوگئیں اور اکثر بادشاہوں اور امرا نے اپنے لیے خاص بندشیں اور خاص وضع کی چھوٹی چھوٹی پگڑیاں ایجاد کر لیں۔

حکمرانوں کے سروں پر پرانی دستار نواب سعادت علی خاں کے زمانے تک رہی۔ نواب برہان الملک، نواب شجاع الدولہ اور نواب آصف الدولہ کے سروں پر وہی دستار تھی۔ دہلی کے عہدہ داران سلطنت کی سفید دستار ہوا کرتی تھی، جس پر بڑے درباروں کے موقعوں پر جواہرات کی کلغیاں، مرصع جیغے اور سرپیچ لگا لیے جاتے تھے، مگر فی نفسہٖ وہ دستاریں سادی اور سفید ہوتی تھیں۔ البتہ نواب سعادت علی خاں کے سر پر ہمیں ایک نئی قسم کی پگڑی نظر آتی ہے جس کو اہل لکھنؤ اپنی زبان میں شملہ کہتے تھے۔ یہ شملہ اس طرح بنایا جاتا کہ بھراؤ میں کپڑے کا ایک چوڑا اور پتلا گلدار حلقہ سرکی ناپ کے برابر بنایا جاتا، جو بیچ میں خالی اور کھلا رہتا۔ پھر کسی نفیس ریشمی یا شالی کپڑے کی پتلی پتلی بہت لمبی بتی بنا کے اس کے بیچوں بیچ اس کپڑے کے حلقے پر نیچے اور اوپر برابر برابر لپیٹ کے ٹانک دی جاتی تھی۔ اس حلقے میں اوپر کی جانب ایک چوڑی پٹی ویسے ہی ریشمی یا شالی کپڑے کی جوڑ دی جاتی تھی تاکہ وہ اس حلقے کو نیچے اترنے سے روکے رہے، مگر اس سے پوری  چندیا ڈھک نہ سکتی تھی۔ یہ تھا لکھنؤ کا اصلی شملہ جس کو پہلے پہل نواب سعادت علی خاں نے پہنا۔

سر اور درمیانی حصہ جسم کے لباس کا حال میں نے تفصیل و وضاحت سے بیان کردیا۔ اب اسفل جسم کے لباس کی طرف توجہ کرتا ہوں۔ نشیبی حصہ جسم کے لیے عربوں میں سوائے تہمت کے کچھ نہ تھا۔ عربی تہمت اور ہندوؤں کی دھوتی دونوں بے سی ہوئی پتلی چادریں ہوتی ہیں، فرق یہ ہے کہ تہمت صرف کمر میں لپیٹ کے اٹکا لیا جاتا ہے۔ دھوتی ہندوستان کی مختلف قوموں میں خاص خاص بندشوں سے باندھی جاتی ہے۔ ظہور اسلام کے وقت اور اس سے مدتوں پیشتر عربوں کا قومی لباس زیریں یہی تھا، امیر و غریب، بادشاہ و وزیر سب تہمت باندھتے تھے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی میں پائجامہ دیگر ممالک و اقوام سے عرب میں پہنچ گیا تھا اور بعد کے زمانے میں بغداد کے دربار کا اور ان عربوں کا جو عرب سے نکل کر دیگر ممالک میں متوطن ہوگئے تھے، قومی لباس بن گیا تھا۔ ہندوستان میں مسلمانوں سے پہلے دھوتی کے سوا پائجامہ نہ تھا، مسلمان فاتح اسے اپنے ساتھ لائے۔ یہ پائجامہ تنگ مہری کا اٹنگی وضع کا تھا، جو بغداد میں مروج تھا اور اسی کا رواج ایران اور ترکستان میں ہوا اور اسی کو پہنے ہوئے مسلمان ہندوستان میں آئے اور شاہان ہند اسی کو پہنے رہے۔

ہندوستان کے آخر عہد میں اس کی قطع میں اتنا تغير ہوا کہ پائنچے یا مہری پنڈلی سے لپٹی رہتی، مگر اوپر کا گھیر قریب قریب اتنا ہی ہوتا جتنا کہ پرانے پائجامہ کا تھا۔ دہلی کے آخر بادشاہ تک اور سارے ہندوستان میں مسلمانوں کا یہی پائجامہ تھا۔

لباس میں سب سے آخری اور بڑی اہم چیز جوتا ہے۔ مسلمانوں کے آنے سے پہلے ہندوستان میں جوتے کا مطلق رواج نہ تھا، اس لیے کہ چمڑے کے استعمال سے ہندو مذہباً احتراز کرتے تھے، بلکہ جوتے کے عوض یہاں لکڑی کی کھڑاویں پہنی جاتی تھیں جو اس وقت کے بعض فقیروں اور رشیوں کے علاوہ قدیم راجاؤں میں بھی مروج تھیں۔ مسلمان اپنے ساتھ یہاں محیط لباس کے ساتھ چمڑے کے جوتے بھی لائے۔

مسلمانوں کا پہلا جوتا عربوں میں فقط ایک چمڑے کا تلا تھا جو پٹے یا بندھنوں کے ذریعہ سے پاؤں میں اٹکا لیا جاتا تھا۔ عجمیوں اور رومیوں کا چمڑے کا موزہ جوتے سے پہلے عرب میں پہنچ گیا تھا، پھر جب عربی دربار، شام و عراق یعنی روم کے آغوش میں قائم ہوئے تو چمڑے کے جوتوں کا رواج شروع ہوا، مگر وہ پہلے جوتے بظاہر سیدھی سادی زیرپائیاں تھے، انہیں کو پہنے ہوئے مسلمان ہندوستان میں آئے۔

دہلی کے بادشاہ اور امرا اپنی تصویروں میں اونچی ایڑی کی کفش نما جوتیاں پہنے نظر آتے ہیں۔ دہلی کے آخر عہد میں چڑھوّاں جوتا ایجاد ہوا، جس کی ابتدائی وضع یہ تھی کہ آدھا پنجہ اور گٹے سے نیچے تک پاؤں اس میں چھپ جاتا تھا، اس کے سر پر چوڑی نوک پنجے پر جھکاکے بٹھا دی جاتی تھی۔ یہ پہلا دلّی کا جوتا تھا جس کا پچاس سال پہلے زیادہ رواج تھا۔ اس کے بعد سلیم شاہی جوتا نکلا، جو غالباً جہانگیر کے زمانے میں ایجاد ہوا۔ اس کی نوک آگے نکلی اور اٹھی ہوئی ہوتی تھی اور نوک کا تھوڑا سا باریک سرا اوپر موڑ دیا جاتا تھا۔ ایجاد کے بعد اس پر کلا بتون کا مضبوط کام بننے لگا، جو بالکل سچا اور قیمتی ہوتا تھا۔ اگر چہ یہ کام دلی دال اور سلیم شاہی دونوں وضع کے جوتوں پر بنایا جاتا تھا، مگر سلیم شاہی جوتے کا بہت زیادہ رواج ہوا۔ لکھنؤ میں بعہد شاہی ایک نئی قطع کا خورد نوکا جوتا ایجاد ہوا۔ اس میں نوک بالکل نہ ہوتی تھی، نوک کے پاس فقط ایک ذرا سا ابھار رہتا تھا۔ یہ جوتے لال نری کے نہایت ہی سبک اور صاف بنائے جاتے اور نفاست وسبکباری کے مذاق نے اس کو یہاں تک سبک کردیا تھا کہ بعض موچیوں کے ہاتھ کا جوڑا چار پانچ  پیسوں سے زیادہ وزنی نہ ہوتا تھا۔ چند روز بعد جوتوں کی آرائش میں اور ترقی ہوئی اور سلمے ستارے کے کارچوبی کام کے جوتے بننے شروع ہوئے؛ لیکن چڑھوّیں کے ساتھ ہی ساتھ یہاں ایک گھیتلا جوتا مروج تھا، جو دراصل پرانے کفش نما جوتوں سے ماخوذ تھا۔ دراصل یہی ہندوستان کا پرانا قومی جوتا تھا اور یہی اگلے اہل دربار اور وطنی بزرگان سلف کے پاؤں میں نظر آتا ہے۔ گھیتلے میں اتنی ترقی ہوئی کہ اس کی نوک بجائے مختصر رہنے کے ہاتھی کے سونڈ کی طرح بہت بڑھا کے اور پھیلا کے پنجے کے اوپر ایک بڑے حلقے کی صورت میں لپیٹ دی گئی۔ یہ جوتا اودھ کے اگلے بادشاہوں اور وزرا اور امرا کے پاؤں کی زینت ہوا کرتا تھا۔

یہ ہے دربار مغلیہ اور ہندوستان کے لباس کی مختصر سی تاریخ۔ اس کے بعد لباس میں تراش و خراش اور کپڑوں کی نوعیت میں روز بروز ترقی ہوتی رہی جو ہوتے ہوتے اس نوبت پر آگئی جو آج ہمارے مہذب ہندوستان کی زیبائش اور زینت کا اولین سامان ہے جس سے ہم سب ملبوس ہیں۔

(ادیب، دہلی ستمبر ١٩٤١ء؁)

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

نئی کتابیں

تنبیہ