لکھنؤ کا عہد شاہی

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

لکھنؤ کا عہد شاہی

فہرست

آغازِ کتاب

دربار شاہان اودھ

ہندوستان کی سرزمین سواد اعظم کے نام سے مشہور ہے۔ اور ملکوں پر اس کو اس لیے ترجیح ہے کہ حضرت آدم بہشت چھوڑ کر ہندوستان کی سرزمین پر آئے، جہاں سردی، گرمی، برسات ہر فصل اعتدال سے ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بھی اودھ ہی کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کو گلشن ہند کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ اِس مضمون میں ہم دربار اودھ کی جھلک دکھانا چاہتے ہیں کیونکہ آج کل جب کہ ہر طرف سلور جوبلی کی دھوم دھام مچی ہوئی ہے اور تمام اہل ہند اپنے شاہنشاہ معظم(١) کی تخت نشینی کی پچیسویں سالگرہ اور جشن آرائی پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے ہیں؛ شاہان اودھ کے دربار کی کیفیت کا بیان دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

نصیر الدین غازی حیدر

شاہی محل کی عالیشان عمارت کے وسط میں صدر مقام پر ایک نفیس بارہ دری بنی ہوئی اور شیشہ آلات سے سجی ہوئی ہے۔ نفیس نفیس جھاڑ، نازک نازک دیوار گیریاں، قلمی تصویریں، خوشخط قطعے لگے ہیں۔ کمروں میں تمام کا فرش بچھا ہے۔ سنہری، روپہلی چلمنیں، زربفت کے پردے پڑے ہیں۔ بارہ دری کے سامنے پُرفضا چمن لگا ہے۔ سنگ مرمر کی نہریں جن میں فوارے چھوٹ رہے ہیں۔ شہ نشین میں صدر مقام پر کارچوبی گاؤ تکیے لگائے ہوئے حضرت شاہ نصیر الدین حیدر بادشاہ غازی جلوہ افروز ہیں۔ اُن کے پہلو میں بڑے تُزک و احتشام سے نواب ملکہ زمانیہ بیٹھی ہیں۔ گردا گرد خواصیں ماہتاب کے ہالے کی طرح، اردلی کی خواص چنور اور مورچھل جھل رہی ہے۔ ڈومنیاں مع سازندہ عورتوں کے بھاؤ بتا بتاکر سریلے سُروں میں گارہی ہیں۔ کوئی چیخ کر بات نہیں کرسکتا۔ نظر سے نظر ملانے کا حکم نہیں ہے۔ کسی کو کھنکارنے کا حکم نہیں ہے۔ جو شخص جو کچھ کہتا ہے، آتو جی سر جھکاکر با ادب عرض کرتی ہیں۔ اتنے میں داروغہ ڈیوڑھی نے خبر بھجوائی “کوئی بی حسینی خانم ہیں، جن کو آتو جی نے محل کی ملازمت کے لیے طلب فرمایا تھا، وہ ڈولی میں آئی ہیں۔ کیا حکم ہوتا ہے؟ ڈولی اتروائی جائے یا نہیں؟” آتو جی نے کہا “ہاں ہاں مجھ سے بیگم صاحبہ نے فرمایا تھا ایک چٹھی نویسنی کے لیے؛ آنے دو”۔

باہر سے ایک خواجہ سرا ہمراہ آیا۔ بی حسینی خانم کی سِٹّی بھول گئی، یا الٰہی کس طرف جاؤں۔ چاروں طرف اچھی پوشاک والی بیبیاں بڑے ٹھسّے سے بیٹھی ہیں۔ پہلے تو انّا کو دیکھ کر سمجھیں شاید یہی بادشاہ بیگم ہیں۔ جھک کر سلام کیا، خواجہ سرا نے کہا آگے چلو۔ اب یہ قدم قدم پر فرشی سلام کرتی ہیں۔ اتنے میں دور سے آتو جی آتے ہوئے دکھائی دیں، اِن کی جان میں جان آئی۔ انہوں نے کہا چلو ہم تو تمہارا راستہ دیکھ رہے تھے۔ بیگم صاحبہ سے تمہارا ذکر کرچکے ہیں۔ غرض سارے محل کے صدقے ہوتی ہوئیں بارہ دری کے زینہ سے تہہ خانہ کے اندر اتریں۔ محلدار ساتھ ساتھ ہوئی۔ محلدار نے کہا سامنے بادشاہ اور بیگم بیٹھے ہیں، ذرا ادب قاعدے سے، پھر آگے بڑھ کر عرض کیا: سرکار عالیہ کے فرمان سے بی حسینی خانم حاضر ہیں، نگہ رو برو! حسینی خانم نے نہایت ادب قاعدے سے سلام کیا اور بادشاہ کی خدمت میں اپنا لکھا ہوا خوشخط قطعہ نذر میں پیش کیا اور بیگم صاحبہ کو پانچ اشرفیاں نذر میں دکھائیں۔ بیگم صاحبہ کے اشارے سے قطعہ اور اشرفیاں آتوجی نے قبول کرلیں۔ بیگم صاحبہ نے بیٹھنے کا حکم دیا اور سرفرازی کا خلعت منگوایا۔ لونڈیاں دوڑتی ہوئی بھاری خلعت کی کشتیاں لے کر حاضر ہوئیں۔ ایک دوشالہ بھاری، ایک رومال سنہری جالدار، ایک تھان کمخواب، ایک تھان سرخ اطلس کا، ڈھاکے کی جامدانی، بنارسی دو ڈوپٹے، مشروع کے دو تھان اور سونے کے کڑے مرحمت ہوئے۔ بادشاہ نے ایک ہزار روپیہ کا توڑا منگوا کر انعام دیا اور پچاس روپیہ ماہوار پر چٹھی نویسوں میں اسم ہوگیا۔

دو گھنٹے یہاں دل بہلا کر بادشاہ سلامت نے بوچہ طلب فرمایا۔ کہاریاں سواری لے کر حاضر ہوئیں، حضور سوار ہوئے۔ ڈیوڑھی کے باہر کہاروں نے کندھا دیا، حضور دربار میں تشریف لائے۔ دربار کی کوٹھی رمنہ میں “فرح بخش” کے نام سے مشہور تھی، تخت شاہی یہیں رہتا تھا۔ جب سواری مع ماہی مراتب اور جلوس کے کوٹھی تک پہنچی، سارے عملے نے سر وقد ہوکر سلامی دی۔ معتمد الدولہ آغا میر وزیر، ظفر الدولہ کپتان فتح علی خاں بہادر، اقبال الدولہ، مکرّم الدولہ، مَجد الدولہ، میر محمد سر رشتہ دارِ عدالت، نواب روشن الدولہ، افتخار الدولہ، مہاراجا میوہ رام، راجا امرت لال عرض بیگی، مرزا کیوان جاہ نے باری باری سے مُجرا کیا اور اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ بادشاہ نے تخت شاہی پر جلوس فرمایا۔ خُدّام داہنے بائیں چنور لیے کھڑے ہیں۔ پشت پر ایک خواص چھڑ لگائے ہوئے ہے۔ درباری لوگ بہت ادب قاعدے سے بیٹھے ہوئے، نگاہیں نیچی کیے ہوئے، خاموشی کا عالم۔

پہلے معتمد الدولہ آغا میر نے ضروری کاغذات پیش کیے اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ حضور نے بعد ملاحظہ دریافت طلب باتیں پوچھ کر دستخط فرمائے۔ پھر مقدمات عدالت پیش ہوئے۔ روبکاری سماعت فرماکر احکام جاری کیے۔ اتنے میں مِردھے نے عرض کیا “شاہ عالم عالمیان نگاہ روبرو نواب عاشق علی حاضر ہو”۔ آپ نے اشارہ فرمایا۔ داروغہ ڈیوڑھی نے کہا آنے دو، بادشاہ نے طلب فرمایا ہے۔ چوبدار نے آواز دی: نواب عاشق علی حاضر ہے، نگاہ روبرو۔ پہلی ڈیوڑھی کے چوبدار نے کہا کہ سب چوبدار یکے بعد دیگرے آواز دینے لگے۔ اس کے بعد رستم علی مِردھے نے بھی آواز دی۔ نواب عاشق علی پھاٹک سے دوطرفہ سلام کرتے ہوئے جھکے جھکے چلے آتے ہیں، دربار کے رعب سے کانپ رہے ہیں۔ راجا امرت لال عرض بیگی نے اِن کو سامنے لے جاکر عرض کیا: ملاحظہ ہو، نواب عاشق علی حاضر ہے۔ نواب نے زمین دوز ہوکر مجرا کیا۔ دس اشرفیاں نذر میں پیش کیں، حضور نے اشارے سے قبول کیں۔ ٢٤ جنوری ١٨٢٨؁ء کو پیش ہوئے، نذر قبول ہوئی، اُسی روز خلعتِ سرفرازی ہوا، پانچ سو روپیہ ماہوار تنخواہ مقرر ہوئی اور عہدۂ سفارت مرحمت ہوا۔ اُسی روز کلکتہ جانے کا حکم ملا۔ تین لاکھ روپیہ نقد سرکار سے واسطے ضروریات کے مرحمت ہوا۔ اِسی طرح نجم الدولہ جعفر علی خاں ابن مظفر علی خاں گوالیار سے آئے، بادشاہ نے بہت مرحمت فرمائی اور عہدۂ توپ خانہ سلمانی عنایت ہوا۔ پانچ سو روپیہ مہینہ مقرر ہوا۔

سعادت علی خاں

نواب سعادت علی خاں قبل طلوع آفتاب کے دربار سواری کا فرماتے تھے، عرب اور جنگل کے تال میل سے خانہ زاد گھوڑے تھے۔ محل سے بوچہ پر سوار ہوکر برآمد ہوئے اور گھوڑے پر سوار ہوئے۔ اس وقت آپ لباس انگریزی، ولایتی ڈاب زیر کمر کیے ہوئے اور سیاہ مغلی ٹوپے دیے ہوتے تھے۔ پہلے سلام مرشد زادوں کا ہوتا تھا، اس کے بعد امرائے خاص کا۔ دو گھڑی میں ہوا خوری سے فراغت کرکے ہاتھی پر مع جلوس سوار ہوتے تھے۔ سواری مع جلوس مع ڈنکا و نشان ہوتی تھی۔ امرائے دولت ہاتھیوں پر سوار ہمراہ ہوتے تھے۔ خاص بردار چنور لیے ہوئے، چوبدار سواری کے داہنے بائیں ساتھ ہوتے تھے۔ مرزا کریم بیگ، محمد غلامی سوار انگریزی پوشاک میں آگے آگے ہوتے تھے۔ بیس سوار اور بیس پیدل روزانہ اہتمام سواری کرتے تھے اور کل اہتمام نواب انتظام الدولہ مظفر علی خاں کے سپرد تھا۔ نواب اشرف الدولہ رمضان علی خاں، مرزا اشرف علی بھی ہمراہ ہوتے تھے۔ روزانہ پہرہ چوکی پر بائیس سوار آدمی مختلف فرقے کے ملازم تھے، ان میں دو سوار بھی تھے۔

دربار سواری کی بھی شان تھی۔ امرا درِ دولت سے رخصت ہوجاتے تھے۔ نو بجے صبح کو چائے پانی ہوتا تھا۔ کرسی نشین امرا، مقربان خاص، صمصام الدولہ مرزا ہجّو، مرزا محمد تقی خاں ہوس پہلو میں، مکلوڈ صاحب، ڈاکٹر لا صاحب خاص کرسی کی پشت پر بیٹھتے تھے۔ میر انشاء اللہ خاں، میر ابوالقاسم خاں، سراج الدولہ، معززین، خواجہ سرا باریابِ سلام  ہوتے تھے۔

سلام کا قاعدہ یہ تھا کہ مِردھا پہلے عرض خدمت کرتا تھا۔ پھر عرض بیگی اپنے سامنے پیش کرکے ادب قاعدے سے سلام کراتا تھا۔ اس میں بہت دیر موقع محل دیکھنے میں ہوجاتی تھی۔ ایک دربار وقت خاصے کے ہوتا تھا، جس میں مقربان خاص، اردلی و نواب جلال الدولہ، مہدی علی خاں، رُکن الدولہ، نواب محمد حسن خاں شریکِ خاصہ ہوتے تھے۔ اس کے بعد حضور محل میں تشریف لے جاتے تھے۔

بارہ بجے برآمد ہوتے، کچہری فرماتے تھے۔ کاغذات ملاحظہ ہوتے تھے۔ نواب نصیر الدولہ تمام رپورٹیں ایک بند لفافے میں رکھ کر پیش کرتے تھے۔ نواب شمس الدولہ بھی کاغذات بند لفافے میں پیش کرتے تھے اور آپ علاحدہ کمرے میں حاضر رہتے تھے۔ اِسی طرح نواب منتظم الدولہ مہدی علی خاں، وزیر راجا دیا کرشن رائے رتن چند صاحب، اخبار رائے رام اخبار نویس، خفیہ منشی رونق علی، منشی دانش علی اپنے اپنے لفافے میز پر رکھ کر علاحدہ کمرے میں بیٹھتے تھے۔ استفسار کے لیے بلائے جاتے تھے۔ جناب عالی لفافے ملاحظہ فرماکر ضروری کاغذات پر دستخط فرماتے تھے اور جو ناقابل داخل دفتر ہوتے تھے وہ طشتِ آب میں ڈال دیے جاتے تھے، اِن کا ایک ایک حرف دھو ڈالا جاتا تھا۔ جس کاغذ پر مہر خاص کرنا ہوتی تھی، ظفر الدولہ سامنے حضور کے مہر کرتے تھے۔ جو کاغذ باقی رہ جاتے تھے، رات کو ملاحظہ فرماتے تھے۔ پرچہ اخبار ہر وقت گزر سکتا تھا۔ بعد دستخط تمام کاغذ ہر دفتر میں بھجوادیے جاتے تھے۔ اُسی روز تمام احکام جاری ہوتے تھے۔

وقت شام دو اسپہ گاڑی پر سوار ہوکر ہوا خوری کو نکلتے تھے۔ جلوس سواری میں راجا بختاور سنگھ کا رسالہ تُرک سواران ہمراہ ہوتا تھا۔ کبھی تامدان پر تشریف فرما ہوتے تھے۔ اکثر گنج میں جاکر نرخ غلہ کا دریافت کرتے تھے کہ رعایا کو گرانی غلہ سے تکلیف نہ ہو۔ بقّال اس خوف سے اناج مہنگا نہیں کرسکتے تھے۔ اُس وقت دو پیسے سیر آٹا بکتا تھا۔

غازی الدین حیدر

نواب غازی الدین حیدر ایک بسنتی دربار بسنت کے موسم میں کرتے تھے۔ یہ دربار موتی محل اور شاہ منزل خاص میں ہوتا تھا، جس میں ہر فرقے کے لوگ جمع ہوتے تھے۔ آپ کے دربار کا طریقہ یہ تھا کہ صبح نو بجے درِ دولت سے کوٹھی فرح بخش میں جلوس فرماتے تھے۔ کنارہ نہر بینڈ باجے سے سلامی ہوتی تھی۔ جب تخت شاہی پر متمکن ہوتے، دو چنور بردار مورچھل ہلاتے تھے۔ پہلے صاحب زادے سلام کو آتے تھے، پھر بھائی  نواب نصیر الدولہ کاظم علی خاں، جعفر علی خاں، حسین علی خاں، مہدی علی خاں، کلب علی خاں نہایت ادب سے اپنی اپنی کرسی کے پاس کھڑے رہتے تھے۔ جب بادشاہ باشارۂ ابرو سلام قبول کرتے تو اپنی اپنی جگہ بیٹھ جاتے۔ بائیں طرف ڈاکٹر مکلوڈ صاحب بیٹھتے جن سے فارسی میں بات چیت ہوتی۔ کمرے کے ایک گوشے میں ایک انگریز مشک بجاتا تھا جو بہت سریلی ہوتی تھی۔ رجب علی، افضل علی خیال گاتے تھے۔ سہرو بائی دکن کی رہنے والی نے غضب کی آواز پائی تھی۔ جس وقت صبح کے وقت گاتی تھی ؏

اے نسیم سحر! آرام گہہِ یار کُجاست

سب کو وجد ہوجاتا تھا اور جھومنے لگتے تھے؛ خصوصاً مکلوڈ صاحب کی کیفیت کچھ نہ پوچھیے۔

جناب عالی کے سامنے ایک قد آدم آئینہ وسط میز پر رکھا جاتا تھا۔ آئینہ کے سامنے ایک بلوریں جھاڑ تھا، جس کے ہر پیالے میں دھنیا، الائچی، مسالہ وغیرہ خوشنمائی سے چُنا جاتا تھا۔ میز پر انگریزی اور ہندوستانی عمدہ عمدہ کھانے چُنے جاتے تھے اور گلدستے لگائے جاتے تھے۔ اہل دربار وہاں بیٹھ کر کھاتے پیتے اور آپس میں مذاق کرتے تھے۔ تمام مجرائی لال پردے کے باہر بیٹھے رہتے تھے، جب حکم ہوتا تھا سلام کو حاضر ہوتے تھے۔ نجم الدولہ رائے امرت لال، شیخ فتح علی سلام کر آتے تھے۔ اس کے بعد یہ دربار برخاست ہوتا اور جناب محل سرا میں تشریف لے جاتے تھے۔

سلطان الزماں محمدعلی شاہ

ابوالفتح معین الدین سلطان الزماں محمد علی شاہ جن کا مزار امام باڑہ حسین آباد مبارک میں ہے، بوجہ کبر سنی کے ان کے ہاتھ پاؤں رہ گئے تھے۔ دربار کی صورت یہ تھی کہ آٹھ بجے برآمد ہوئے، سونے کی پلنگڑی پر اجلاس فرمایا۔ شہزادے، امرا، اہل دربار باریابِ سلام ہوئے۔ نو بجے دربار برخاست ہوا۔ کچہری کے کاغذات عملے نے پیش کیے۔ دوپہر تک دستخط ہوا کیے۔ دوپہر کو خاصہ چُنا گیا، (خود معذور تھے) رفیق الدولہ نے خاصہ کھلایا۔ ایک گھنٹہ قیلولہ فرمایا پھر خفیہ رپورٹیں سماعت کیں۔ قریبِ شام تامدان میں سوار ہوکر نواب ملکہ جہاں کے محل میں تشریف لے گئے۔

امجد علی شاہ

ثریا جاہ حضرت سلطان زماں امجد علی شاہ کا طریق دربار یہ تھا کہ صبح کو بوچہ خاص پر محل سے برآمد ہوئے۔ مع مختصر جلوس کے ہوا خوری کو تشریف لے گئے۔ آٹھ بجے دربار میں آئے۔ سب امرائے دولت نے حاضر ہوکر سلام کیا، اپنے اپنے قاعدے سے بیٹھ گئے۔ مقربین خاص نے اپنی اپنی تقریر خوش سے محظوظ فرمایا۔ انعام واکرام ہوئے، درباری لوگ رخصت ہوئے۔ عدالت کے کاغذات ملکی ومالی پیش ہوئے۔ بارہ بجے کے بعد محل سرا تشریف لے جاتے تھے۔ سہ پہر کو مدیر الدولہ محل سرائے میں حاضر ہوکر کاغذات پیش کرتے تھے۔ شام کو پھر سوار ہوکر شہر کی حالت معائنہ فرماتے تھے۔ کبھی مدرسہ سلطانیہ میں تشریف لے جاتے تھے، جسے خود قائم کیا تھا۔ اِس مدرسہ میں کئی ہزار لڑکا پڑھتا تھا۔ فی کَس پانچ روپیہ ماہوار سرکار سے ملتا تھا۔ ایک ایک مدرس بیس بیس لڑکوں کو تعلیم دیتا تھا۔ آٹھ بجے سے چار بجے تک مدرسہ کھلا رہتا تھا۔

واجد علی شاہ

حضرت سلطان عالم محمد واجد علی شاہ نے کوٹھی فرح بخش قدیم بیت السلطنتِ شاہی کو چھوڑ دیا اور اپنا دربار شہنشاہ منزل میں قائم کیا۔ کوٹھی فرح بخش میں محض اتوار کو دربار ہوتا تھا۔ تمام شہزادے، امرائے دولت، رفقا حاضر رہتے تھے۔ بادشاہ تشریف لاکر دس بجے تک قیام فرماتے تھے۔ عدالت کا دربار روزانہ ہوتا تھا۔ ۹ بجے نواب امین الدولہ، مہاراجا مدیر الدولہ اور تدبیر الدولہ، اہل دفتر خاص دولت خانہ قدیم (در دولت) پر تشریف لاتے تھے، دوپہر تک ملاحظہ کاغذات میں مصروف رہتے تھے۔ دوپہر کے بعد تخلیہ ہوجاتا۔ جب بادشاہ کی سواری شہر میں نکلتی تھی، چاندی کے مکّلف صندوقچے سواری خاص کے داہنے بائیں دو ترک سوار لیے ہوتے تھے۔ اِن صندوقچوں کا نام “مشغلہ نوشیروانی” تھا۔ عام لوگوں کو حکم تھا کہ جس کسی کو کوئی خاص استغاثہ کرنا ہو (جس کی سماعت سرکاری عملے نے خلاف انصاف کی ہو) اپنی درخواست اس صندوقچہ میں ڈال دے۔ حضور خود ملاحظہ کرکے بلا رو و رعایت احکام صادر فرماتے تھے۔ اِس سے عملے کو مجبور ہوکر رعایا کے حقوق کی حفاظت کرنا پڑتی تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بادشاہ تک استغاثہ جائے۔

شاہانِ اودھ کی بے تعصبی

دہلی کے بادشاہوں میں تو تاریخی طومار نے کسی کو متعصب اور کسی کو منصف مزاج ہونے کا افتخار دے دیا حالانکہ عموماً بادشاہ متعصب نہیں ہوتے، اُن کو رعایا کی آبادی اور ملک کی آمدنی سے مطلب ہوتا ہے۔ عملہ کو کسی ملکی ضرورت سے بڑھادینے اور گھٹادینے پر متعصب اور غیر متعصب کا لقب دے دینا بڑی تنگ خیالی ہے۔

اسی طرح ہمارے اودھ کے تمام بادشاہ ہمیشہ سے غیر متعصب اور صلح کل واقع ہوئے تھے۔ اُن کی فیاضیاں عام تھیں، اُن کے سلوک ہر قوم کے ساتھ یکساں رہے۔ وہ سب قریب قریب دوسری قوموں کے حق میں اکبر سے کچھ کم نہ تھے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ان کے تاریخی واقعات پر ایسا گہرا پردہ پڑا ہوا ہے جس سے ان کی خوبیوں کا دریافت کرنا مشکل ہے۔

تمثیلاً اس وقت ہم راجا درشن سنگھ معروف بہ راجا غالب جنگ کے حالات پیش کرتے ہیں:

راجا غالب جنگ حیدرآباد کے رہنے والے ایک معمولی حیثیت کے آدمی تھے۔ عہد نواب یمین الدولہ سعادت علی خاں مبارز جنگ میں گردش روزگار سے تباہ اور برباد ہوکر لکھنؤ میں وارد ہوئے۔ ایک روز صبح کو ہندوؤں کی رسم کے مطابق گومتی پر اشنان کرنے گئے، بعد غسل کے رمنہ کی سیر کرتے ہوئے جا رہے تھے کہ بادشاہ کی سواری برآمد ہوئی۔ غربت اور بے کسی کے آثار اُن کے چہرہ سے روشن تھے۔ حضور نے اپنے ایک خواص سے اشارہ کیا کہ اس مسافر کو اپنے ہمراہ لیتے آؤ۔ در دولت پر ان کا سلام ہوا۔ حضور نے دریافت فرمایا کہ تم ملازمت کی غرض سے لکھنؤ آئے ہو یا سیاحت کے لیے۔ عرض کیا بتلاش روزگار۔ سرکار نے جیب خاص سے تیس روپیہ مہینہ بغیر شرط خدمت کے مقرر فرمایا۔ بندوق کی نشانہ اندازی سیکھنے کے واسطے ایک قدر انداز مقرر ہوا۔ جب اچھے نشانہ لگا دینے والوں میں ان کا شمار ہونے لگا تو بادشاہ نے از راہ پرورش دو سو تیس روپیہ ماہوار مقرر فرمادیا اور کچھ خدمتیں تفویض فرمادیں، غرض اسی طرح بتدریج ترقی ہوتی رہی۔

اس مدت میں بادشاہ کا انتقال ہوگیا اور ١٨١٤؁ء میں مرشد زادۂ آفاق نواب غازی الدین حیدر خاں بہادر مسند نشین ہوئے۔ نواب معتمد الدولہ مختار الملک سید محمد خاں بہادر ضیغم جنگ عرف آغا میر وزیر ہوئے، یہ بھی مقربان خاص میں ہوگئے اور ہر وقت بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملنے لگا۔ ایک روز باشاہ اور وزیر میں خلوت کی باتیں ہورہی تھیں، لاعلمی سے یہ بھی چلے گئے اور خلوت دیکھتے ہی فوراً الٹے پاؤں واپس چلے۔ لوٹتے وقت حضور کی نگاہ پڑگئی، جلدی میں نام تو یاد نہ رہا، فرمایا راجا کیوں چلے گئے؟ ان کو خوف معلوم ہوا کہ ایسا نہ ہو یہ کلمہ باشاہ نے طنز سے کہا ہو لیکن دہشت کھاتے ہوئے نہایت ادب سے ہاتھ باندھے ہوئے خدمت میں حاضر ہوئے۔ ارشاد ہوا جاؤ تم کو ہم نے راجا کردیا۔ انہوں نے نذر پیش کی اور دست بستہ عرض کیا کہ حضور ہم تین دوست آوارہ وطن ہوکر لکھنؤ میں وارد ہوئے تھے۔ مروّت سے بعید ہے کہ ایسے وقت میں ان کو بھول جاؤں۔ بختاور سنگھ اور شیودین سنگھ کی بھی عزت افزائی فرمائی جاوے۔ آخر بادشاہ نے ان کی خاطر سے اُن کو بھی خطاب راجا کا مرحمت فرمایا اور جاگیر عطا فرمائی۔ اس عرصہ میں وزیر اعظم سے ان سے ان بن ہوگئی اور بہت سی افترا بندیوں کے بعد یہ قید کرکے فیض آباد کے جیل خانہ میں بھیج دیے گئے۔

اس عرصہ میں بادشاہ نے انتقال کیا اور ابو النصر قطب الدین سلیمان جاہ حضرت نصیر الدین حیدر تخت نشین ہوئے۔ نواب منتظم الدولہ حکیم مہدی علی خاں وزیر ہوئے تو ظفر الدولہ منتظم الملک کپتان فتح علی خاں بہادر ہیبت جنگ نے محض خدا ترسی اور غم خواری سے ان کی سفارش کی۔ خالص ہمدردی کا اثر یہ ہوا کہ بادشاہ نے ان کو قید سے چھڑا کر  دیوان خانہ کا میر منشی کردیا۔ تھوڑے دنوں میں انہوں نے ایسا تقرب حاصل کرلیا کہ ایک دَم کو باشاہ نظر سے غائب نہ ہونے دیتے تھے، اب اعزاز واکرام روز بروز زیادہ ہونے لگا اور ترقی پر ترقی ہونے لگی۔

ایک عمارت کے بنوانے پر یہ مقرر ہوئے اور سرکاری تخمینہ سے دو لاکھ روپیہ بچاکر شاہی خزانہ میں داخل کیا۔ بادشاہ کو معلوم ہوا تو خفا ہوکر ارشاد کیا کہ یہ بات ہمارے خلاف ہے۔ اپنا روپیہ فوراً خزانہ سے لے جاؤ، ہم ہرگز نہیں لے سکتے، وہ تم اپنے گھر لے جاؤ۔ راجا نے عرض کی کہ حضور میں مسکین سوائے در دولت کے گھر نہیں رکھتا، مگر حکم عالی بجا لاؤں گا۔ ایسی ایسی کارگزاریوں سے غالب جنگ کا خطاب ملا اور سرکار سے کرسی عنایت ہوئی۔ آخر ان کے زیادہ رسوخ نے انہیں محسودِ خلایق بنادیا اور دربار والوں نے سازش کرکے بادشاہ کا مزاج ان کی طرف سے منغص کردیا اور یہ قید ہوکر شاہ گڑھ میں بھیج دیے گئے۔

جب نصیر الدین حیدر بادشاہ کا انتقال ہوگیا تو ابو الفتح معین الدین سلطان الزماں محمد علی شاہ تخت نشین ہوئے۔ اُن کو عمارت کا بہت شوق تھا اور تعمیر کی واقف کاری کی شہرت غالب جنگ کی گوش زد ہوچکی تھی۔ سرکار نے حکم رہائی نافذ فرمایا لیکن اہل دربار نے اس جملہ کو ٹال دیا۔ آخر قسمت کی مددگاری سے حضور میں پیش ہوئے۔ پیشتر سے بھی زیادہ عزت ہوئی۔ کلید برداروں کی نظامت اور مفسدوں کی سرکوبی کی خدمت عطا ہوئی اور اطراف اودھ کا انتظام سپرد ہوا۔ دو پلٹنیں، ایک ذوالفقار صفدری، دوسری حسام حیدری حوالہ ہوئیں۔ پانچ سو سوار ہندی اور انگریزی کی افسری،١٢ توپیں ہمراہی میں جاتی تھیں۔  بلرام پور اور نان پارہ کی سرکشی اس وقت قابل درگزر نہ تھی، حالانکہ یہ گھاٹیاں بہت سخت تھیں۔ راہ میں شیروں کے جنگل ایسے حائل تھے کہ پرندہ کا گزر وہاں دشوار تھا، انہوں نے چشم زدن میں محاصرہ کرلیا اور جموگ لگادیا۔ ان فتح مندیوں کے صلہ میں چودہ پارچہ کا خلعت عطا ہوا۔

آخر ستّر برس کی عمر میں حضرت ظل سبحانی نے شب سہ شنبہ ١٨٤٤؁ء کو طرف فردوس بریں کے نہضت فرمائی۔ سنہری برج میں غسل دیا گیا، حسین آباد کے امام باڑہ میں صدر بارہ دری میں مدفون ہوئے۔ بعد ازاں ثریا جاہ محمد امجد علی شاہ نے جلوس فرمایا تو غالب جنگ کو وہی اعزاز حاصل تھا۔ پرچہ لگا کہ قلعہ چھترپت کی رانی جو علاقہ ہڑہا کے نام سے مشہور تھا ڈاکہ زنی کرنے لگی، مسافروں کو لوٹ لیتی تھی۔ رعیت ستمگاری سے نالاں تھی، صفدر گنج سے دس میل تک راستہ بند ہوگیا تھا۔ قصبہ کتہور کے سادات سخت نالاں ہیں۔ بادشاہ نے پانچ پلٹنیں، تیس توپیں، پانچ سو سوار راجا کے جلو میں کیے اور اس کی سرکوبی کے واسطے روانہ کیا۔ اُس نے یہ خبر سن کر قصد کیا کہ صفدر گنج میں مقابلہ کرے، لیکن فوج شاہی نے اتنی مہلت نہ دی اور قلعہ کو گھیر لیا۔ کئی روز تک بڑی خوں ریز جنگ رہی۔ آخر اُس کے اعوان وانصار سب بھاگ کھڑے ہوئے، محض رانی قلعہ میں رہ گئی اور دو چار نمک حلال ملازم باقی رہ گئے۔ تب رانی نے فوجیوں کا دل بڑھانے کو کہا: “ہاں! ایک حملہ زبردست کرو اب دشمن کو مار لیا ہے۔” فوج کے سپاہی تو بندوقیں چلانے میں مصروف ہوئے، وہ آپ نابدان کے راستہ سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ جب فوج نے یہ حال دیکھا، اُس نے بھی پُشت قلعہ سے نکل کر جنگل کی راہ لی۔ جب قلعہ خالی ہوگیا تو فوج شاہی قلعہ میں گئی اور فتح وفیروزی کے ساتھ بہت سا اسباب جنگ اور مال وخزانہ بیت المال شاہی میں داخل ہوا۔ راجا کو خلعت ہوا۔

ظل سبحانی دموی مزاج تھے اور ابتدا سے مرض آتشک میں مبتلا تھے۔ حکیم مرزا محمد علی مرتعش ہر ہفتہ میں تنقیہ خاص وعام کرتے تھے، بلکہ بادشاہ سے اکثر کہتے تھے کہ اگر کوئی طبیب اخراج خون میں تامل کرے گا ہرگز مزاج قابل اصلاح نہ رہے گا۔ جب حکیم مرزا محمد علی بقضائے طبع فوت ہوئے، حکیم مسیح الدولہ نے احتیاج فصد میں تامل کیا۔ اس لیے کثرت خون فاسد سے تحریک عارضۂ مزمنہ ہوکر عارضۂ سرطان پیدا ہوا، حتی کہ متواتر فصدوں کے لینے سے بادشاہ کا حال غیر ہوگیا اور سرطان باطن کی طرف رجوع ہوا۔ آخر دوشنبہ کے دن ١٨٤٧؁ء کو انتقال فرمایا، مینڈو خاں کی چھاؤنی میں دفن ہوئے۔

اُن کے بعد حضرت سلطان عالم واجد علی شاہ تخت نشین ہوئے۔ ان کے عہد میں غالب جنگ کی عزت روز افزوں ہوتی گئی۔ جب نواب گورنر جنرل بہادر کی تشریف آوری کی خبر رزیڈنٹ بہادر نے دی تو بادشاہ نے کانپور تک استقبال کا ارادہ کیا۔ غالب جنگ کو حکم ہوا کہ راستہ کا انتظام بہت عمدہ اور ستھرا ہونا چاہیے اور کانپور میں گنگا کے کنارے خیمہ شاہی باشان وشوکت نصب ہو۔ اس کے سامنے ایک باغ نہایت لطیف ہو، جس میں ہر قسم کے پھولوں کے درخت، میوہ دار شجر اور چاروں طرف سبزہ لگایا جائے۔ سبزہ کے چاروں طرف پانی کی نالیاں ہوں۔ تمام ماکول ومشروب لایق صاحبان عالیشان کے اور لشکر کے واسطے سامان رسد موجود رہے۔

حسب فرمان شاہی راجا فوراً کانپور تشریف لے گئے اور دریا کے کنارے چمن بندی ہونے لگی، ریحان وسنبل کے انبار لگا دیے گئے۔ نہروں کے کنارے کنارے سبزہ خودرو کیا لہلہاتا تھا، گویا معشوقوں کے رخسار پر سبزہ خط نمایاں تھا۔ باغ کی تیاری کے بعد خیمہ میں چاروں طرف موقع مناسب پر قد آدم تصویریں لگائی گئیں۔ تمام فرنیچر انگریزی ساز وسامان سے سجایا گیا۔ تمام بازار آراستہ کیے گئے۔ لکھنؤ سے اس قدر سامان رسد گیا کہ اس ہنگامہ میں روپیہ کا تین سیر گھی، ایک من کا چنا، تین پیسے سیر آٹا بکنے لگا۔ اس بازار کا نام اردو بازار رکھا گیا۔ ایک طرف خوانچہ والوں کا غل، حلوائی، نان بائی، ترکاری فروش، تنبولی، بزاز، غرض کہ ضرورت کی ہر شے مہیا تھی۔ بارگاہ سلطانی میں عمدہ رونق تھی، غرض کانپور بالکل لکھنؤ بن گیا تھا۔ جب سب سامان درست ہوگیا تو بادشاہ کو اطلاع دی گئی۔ بادشاہ بنفس نفیس لکھنؤ سے تشریف لائے۔ خیمہ میں فروکش ہوئے۔ غالب جنگ کا انتظام اور سب سامان دیکھ کر بادشاہ سلامت بہت خوش ہوئے۔ گورنر جنرل بہادر سے بڑے لطف کی ملاقات ہوئی۔ صاحب بہادر کے ہمراہ راجا بھی لکھنؤ آئے۔ راستہ میں رسد کا انتظام اور سامان بھی بہت معقول تھا۔

آخر بمقتضائے كُلُّ نَفسٍ ذَائِقَةُ المَوت راجا کا پیام اجل آگیا۔ ایک چھوٹا سا دانہ ماتھے پر نکلا جس میں بہت سوزش رہی، تیسرے دن منہ دھونے میں وہ دانہ پھوٹ گیا، اُس سے جو مواد نکلا وہ زرد زرد پانی تھا، جہاں جہاں وہ پانی لگ گیا دانے نکل آئے، تمام چہرہ مُشبّک ہوگیا۔ جرّاحوں نے بہت کچھ علاج کیا، کچھ سود مند نہ ہوا:

از قضا سرکنگبین صفرا فزود
روغن بادام خشکی می نمود

آخر انتقال کیا۔ کروڑوں روپیہ چھوڑ گئے۔

ناظرین ملاحظہ کریں کہ ایک غریب الوطن مسافر کے ساتھ جو نہ شہر کا باشندہ، نہ ہم قوم تھا، نہ کوئی وسیلہ اور سفارش رکھتا تھا، یہ شاہی فیاضیاں تھیں۔ اسی طرح شاہی دربار میں غیر قوموں کے ہزاروں لوگ پرورش پاتے اور بادشاہ ہر مذہب کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے تھے۔ چنانچہ راجا ٹکیت رائے، مہاراجا میوہ رام، راجا بختاور سنگھ، مشیر الدولہ مہاراجا بال کرشن جسارت جنگ، راجا کندن لعل، راجا امرت لال، عرض بیگی راجا بینی بہادر وغیرہ سب شاہی فیاضیوں کے نمونے تھے۔ اسی طرح شاہان اودھ کی اولوالعزمیاں روز روشن کی طرح منور ہیں۔

شاہان اودھ اگر مذہبی تعصب رکھتے ہوتے تو رعیت تباہ اور برباد ہوجاتی۔ حالانکہ واجد علی شاہ آخری شاہ اودھ کے عہد میں سولہ لاکھ کی آبادی خاص لکھنؤ کی تھی۔ اصل یہ ہے کہ بادشاہوں کے مزاج میں عموماً تعصب نہیں ہوتا۔ غلطی سے لوگ محض کسی تہدید پر اپنی طبیعت کے موافق اُن پر تعصب کا الزام لگا دیتے ہیں۔ ورنہ غور سے دیکھا جائے تو نہ عالمگیر متعصب تھا، نہ اکبر دہریہ۔ اپنے اپنے عہد کی پالیسی تھی۔ دونوں پر تعصب اور دہریت کے الزام محض بے بنیاد ہیں۔ بادشاہوں کی نیت کا حال رعیت کی سر سبزی سے معلوم ہوتا ہے۔ اگلی سرسبزیاں دیکھنے کے بعد ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تعصب اور نامنصفی کے وجود کے ساتھ یہ سلاطین اتنے بڑے حصہ ملک پر اس اطمینان سے حکمرانی کرتے تھے۔

لکھنؤ کا شاہی زمانہ

شاہی زمانہ کچھ اسی لحاظ سے قابل قدر نہ تھا کہ اس کے دور میں غلہ کی ارزانی، بارش کی فراوانی، پیداوار کی کثرت اور شاہی فیاضیوں سے لوگ خوشحال اور فارغ بال تھے۔ کیونکہ ایک لحاظ سے اگر خیال کیجیے تو روز مرہ کی فوجداریاں اور بانکوں کی تیغ زنی، شہزوروں کی ڈاکہ زنی، مارپیٹ، دھینگا مُشتی، نوچ کھسوٹ، ذرا ذرا سی بات پر خون کی ندیاں بہانا، چوریاں، ڈاکہ زنی، چھاپے مارنا، گِرہ کاٹ لینا، گھر لوٹ لینا، دن دہاڑے لپّاڈُگی، یہ سب خرابیاں ایسی تھیں جن کا ذکر سن کر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔

پھر محکمۂ عدالت کی بدعنوانیاں، مقدّمے کی سماعت نہ ہونا، سفارشوں کا لحاظ کرنا، پولیس کی بے وقعتی اور سونے میں سُہاگہ تھی۔

گُلباز خاں شاہی چور جو ہمیشہ اپنی بدکرداریوں سے جیل خانے میں رہا کرتا تھا اور آخر کو اس کی شناخت کے لیے شاہی حکم سے اس کے دونوں گال پیسہ لال کرکے داغ دیے گئے تھے، مگر اﷲ رے چوری اور سینہ زوری، ایسی دھاک بندھی ہوئی تھی کہ جس مہاجَن سے کہلا بھیجا کہ ہم کو دس ہزار روپیہ کی ضرورت ہے، اس نے ہاتھ باندھ کر روپیہ حاضر کردیا اور جو کچھ چین چپڑکی، پہلو بدلے، ناک بھُوں چڑھائی، دون کی لی، روپیہ تو اس وقت تیار نہیں ہے، کل مُنیب جی آلیں تو لے لینا، آج جنم اشٹمی ہے، دوچار ہُنڈیاں سکارنا ہیں، ابھی اننت چودس تک تو ہم روپیہ نہیں دے سکتے، بڑے لالہ تیرتھ گئے ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ شاہ جی کی شامت آگئی، بیٹھے بٹھائے عذاب مول لیا۔ رات کو دندناتے ہوئے آ دھمکے۔ نہ کہیں پولیس ہے نہ روند ہے۔ شاہ جی کے ہاتھ پاؤں کھٹیا سے باندھ دیے اور قرولی چھاتی پر رکھ دیا اور گڑی ہوئی دھن دولت پوچھ پوچھ کر کھود کھاد کر باندھ لی اور چمپت ہوئے۔ مزے ہونے لگے۔ کچھ یار دوستوں میں بانٹی، کچھ محلے کے غریب غربا کو دی، کنّیا کی شادی کرادی۔ اگرچہ حرام کی کمائی تھی لیکن اس کا مصرف نیک کاموں میں ہوا۔

گلباز کو لوگ میر صاحب میر صاحب کہتے تھے۔ محلے بھر کے لوگ ان سے خوش۔ جس محلے میں یہ رہے، کبھی کسی پسنہاری کے یہاں بھی ایک جھاڑو کی چوری نہ ہوئی تھی۔ اپنے کمال میں ایسے فرد تھے کہ چومنزلے پر چشم زدن میں چڑھ جانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ میر صاحب سے ان کے  دوست نے پوچھا کہ آج تک تمہارا کسی بہادر سے بھی سامنا ہوا ہے؟ کہنے لگے جان ایسی بری ہے کہ تلوار کی آنچ کے سامنے لوگ آتے ہوئے ڈرتے ہیں، بڑے بڑے سورما وقت آنے پر دبک جاتے ہیں۔ لیکن اس بارے میں ہم ایک عورت ذات کی بہادری کا ذکر نہ کرنا حق پوشی سمجھتے ہیں جس نے ہم ایسے دس بہادروں کو زیر کرلیا تھا۔

محمد علی شاہ کا زمانہ تھا۔ ہمارا آغازِ شباب اور ہمارے ساتھ دس شاگرد پیشہ جُسیدار سورما سپہ گری کے فن میں ہوشیار، اس وقت ہماری نگہ میں آدمی کی وقعت ایک مچھر سے زیادہ نہ تھی۔

ایک روز خبر ملی کہ درگاہ کے قریب حکیم سید علی کے مکان میں دہلی کی ایک بیگم بہت مالدار آئی ہوئی ہیں۔ ہم نے اپنے دستور کے موافق اپنے ایک شاگرد سے کہلا بھیجا؛ اگر لکھنؤ میں رہنا ہے تو ہمارا حق پہلے دے دو۔ بیگم صاحب نے کہا کہ میر صاحب کی شہرت میں سن چکی ہوں اور دو ہزار روپیہ ان کی نذر کرنے کو رکھا ہے۔ مگر تم کو نہ دوں گی، تم انہیں کو بھیج دو۔

بیگم صاحب نے تو درحقیقت یہ بات سچے دل سے کہی تھی مگر چور کا دل کتنا ہوتا ہے، ہمارے شاگرد کو اس دال میں کچھ کالا معلوم ہوا۔

آٹھ روز ٹال کر ہم دسوں آدمی مسلح ہوکر بیگم صاحب کے مکان پر پہنچے۔ ایک شاگرد نے کہا آپ لوگوں کو اندر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جاکر جو کچھ پونجی ہے سمیٹ لاتا ہوں۔ رات کے دو بجے ہوں گے کہ یہ مکان کی دیوار پر چڑھ کر درانہ کود پڑا۔

اتفاق سے بیگم صاحب اس وقت پیشاب کی ضرورت سے اٹھی تھیں، دردانہ لونڈی ایک ہاتھ میں شمع اور دوسرے ہاتھ میں لوٹا لیے ہوئے ساتھ تھی۔ دھماکے کی آواز سن کر جو لونڈی نے آدمی کو دیکھا تو وہ “ووئی” کہہ کر بیہوش ہوگئی۔ بیگم صاحب نے لوٹا پکڑ لیا۔ بیگم صاحب کے گھر بھر میں مرد کا نام نہ تھا۔ مامائیں اصیلیں اپنے اپنے کونے میں دبک رہیں لیکن بیگم صاحب نے نہایت استقلال سے کہا کون؟ ہمارے شاگرد نے جواب دیا ہم ہیں۔ کہا کیوں قضا نے گھیرا ہے، جا سیدھا پلٹ جا۔ اس نے کہا سیدھی طرح سے اپنا زیور اتار کر رکھ دو اور روپیہ کا صندوقچہ حوالے کردو، نہیں تو تمہاری قضا پھڑپھڑا رہی ہے۔ بیگم صاحب نے کہا اچھا تو اپنا وار کر۔ ہمارے دم میں جب تک دم ہے ایک پیسہ نہ دیں گے۔ شاگرد نے پہلے تو دھمکایا، تلوار میان سے کھینچ کر اٹھائی، مگر یہ بھی پھکیت نکلی اور پیترا بدل کر ڈٹ گئی، اور کہا ہاں دیکھوں تو سہی تُو کیسا تلوریا ہے۔ اس نے ایک ہاتھ بھرپور مارا، بیگم نے لوٹے پر روک لیا۔ اسی طرح اس نے کئی ہاتھ مارے بیگم سب خالی دے گئی۔ اِتنی دیر میں پھرتی سے بیگم نے اپنا ریشمی رومال جو گلے میں بندھا تھا کھولا، ایک موٹا پیسا ازار بند سے کھول کر اس کے کونے میں باندھ خوب بل دیے اور ہتکٹی بچاکر وہی رومال گردن پر کھینچ مارا، جس کی چوٹ سے یہ غش کھاکر گر پڑا۔ جب اس کو بہت دیر ہوگئی تو ہم میں سے دوسرا آدمی کود گیا اور اس نے جو اپنے ساتھی کو مرا ہوا پایا تو نہایت غصے میں بیگم پر تلوار کے کئی ہاتھ لگائے، مگر وہ بھی ایسی ماہر فن تھی کہ سب ہاتھ لوٹے پر روکے اور جب اپنی باری آئی تو گھماکر وہی رومال مارا کہ وہ بھی غش کھاکر گر پڑا۔ یکے بعد دیگرے ہمارے سب آدمی کام آگئے تو گھبرا کر ہم خود کودے۔ مکان کو گنج شہیداں دیکھ کر ہماری آنکھوں میں خون اتر آیا اور بیگم پر بہت خشمناک حالت میں ہم نے حملہ کرنا چاہا۔ اس نے کہا میر صاحب! تم ایک نامی استاد ہو، میں تم سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتی اور نہ اس میں میرا رتّی بھر قصور تھا۔ میں نے تمہارے لیے دو ہزار روپیہ الگ رکھا تھا لیکن تمہارے شاگرد کی حماقت سے یہ نوبت پہنچی۔ ہم نے کہا اب تو جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا۔ میرے قوت بازو نو بہادر سپاہی تونے مار ڈالے، اب اس کے بعد زندگی کا کچھ مزا نہیں اور بہادر کے ہاتھ سے مرنا میں اپنے لیے بہتر سمجھتا ہوں۔ میں عورت پر کیا ہاتھ اٹھاؤں تو ہی پہل کر۔ بیگم نے کہا میر صاحب! تم خاطر جمع رکھو، یہ سب زندہ ہیں مرے نہیں ہیں۔ ان کو ابھی اچھا کیے دیتی ہوں، لیکن اس شرط سے کہ یہ سب ننگے سر اور ننگے پاؤں میرے گھر سے جائیں اور صبح کو اپنا جوتا اور ٹوپی لینے آئیں۔ میں نے طوعاً وکرہاً اس شرط کو منظور کرلیا۔ اس نے ہر ایک کی گردن آہستہ سے ہلائی وہ ہوشیار ہوکر اٹھ بیٹھا۔ جب اس طریق عمل سے سب اچھے ہوگئے تو میں نے کہا جس طرح تم نے ان سب کو بے ہوش کیا، ایسا ہی ایک ہاتھ مجھ پر بھی مارو۔ اس نے میرے لحاظ کی وجہ سے بہت پس وپیش کیا۔ جب میرا اصرار بڑھ گیا تو وہ رومال مجھ کو بھی رسید کیا۔ میں بھی بیہوش ہوکر گر پڑا۔ اُسی وقت میری گردن بیگم نے ہلائی، میں اچھا ہوگیا۔ جب ہم سب جانے لگے تو اس نے دو ہزار روپیہ ہماری نذر کیا۔ ہم نے کہا اب ہم روپیہ نہیں لے سکتے اور نہ تمہارے یہاں آج سے کوئی آئے گا۔ تم چَین سے پاؤں پھیلا کر سویا کرو۔ جہاں پر اس نے پیسہ مارا تھا اس دن سے آج تک وہاں درد ہوتا ہے۔ ہم نے تو اس عورت کے مقابلے میں کسی مرد کو بھی نہیں پایا۔

یہ حال تو چوری اور سینہ زوری کا تھا۔ چوک میں روز دو ایک سے بات بات پر تلوار چل جاتی تھی۔ ہر ایک بانکے کے پاس دو تلواریں ہوتی تھیں۔ ایک ہاتھ میں، ایک پرتلے میں؛ ذرا سی چشمک پر خچاخچ اور شپاشپ چلنے لگی۔

اِن سب باتوں پر بھی لوگ شاہی زمانہ کے معترف نظر آتے ہیں تو آخر وہ کونسی بات تھی جس سے اس زمانے کی اِس قدر عزت ہے۔ بات یہ ہے کہ شاذ ونادر واقعے تو ہر زمانے میں ہوا کرتے ہیں، لیکن عام طور پر شاہی زمانے کی سوسائٹی پر نظر دوڑائی جائے اور اگلے لوگوں کے طرز معاشرت پر غور کیا جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ اُس زمانے اور اِس زمانے کے لوگوں میں زمین وآسمان کا فرق تھا۔ اِس وقت کے لوگ اپنی تن پروری اور عمدہ اچھی پوشاک اور دولتمندی کو انتہائی امارت سمجھتے ہیں، اور اُس زمانے کے لوگ اپنی دولت کو کُنبہ پروری اور نیک نامی کی غرض سے صرف کرنے کو ریاست سمجھتے تھے۔ وضعداری کو اپنا جوہر سمجھتے تھے۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ سلطنت کیسی ہی عادل اور منصف مزاج، نیک دل اور رحیم کیوں نہ ہو، لیکن اگر رعیّت کا طرز معاشرت خراب ہے تو سلطنت کو قانون کی کَل اُسی رخ پر پھیرنا پڑتی ہے۔ اور اگر سلطنت کے افعال ناشائستہ، قانون ناقابل عمل ہیں مگر رعیت کا طرز معاشرت عمدہ اور شریفانہ ہے تو سلطنت کو وہی رنگ اختیار کرنا ہوگا۔ یہ قانون قدرت ہے کہ جیسا طرز معاشرت مجموعۃً لوگوں کا ہوتا ہے اُسی کے مناسب حال گورنمنٹ کو قانون بنانا پڑتا ہے۔ تمام دنیا کی مخلوقات پر ایک قانون نافذ نہیں ہوسکتا۔

شاہی قانون کا سبک اور برائے نام نفاذ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ عام طریق پر شریف، نیک چلن، ایماندار اور خوش اخلاق تھے۔ غلہ ارزاں تھا۔ شہر میں ہُن برستا تھا۔ روپے پیسے کی طرف سے لوگوں کو بے فکری تھی۔ لباس، پوشاک اور کھانے پینے میں بہت تکلفات نہ تھے۔ چور، اچکّے، بدمعاش بھی اپنی کمائی نیک کام میں صرف کرتے تھے۔ بنی جان طوائف نے پچاس ہزار روپیہ خرچ کرکے چوک میں امام باڑہ بنوادیا جو آج تک موجود ہے۔ عباسی جان، گوہر جان کے امام باڑے دیکھ کرلوگوں کو یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کی ساری کمائیاں شہر کی آبادی برقرار رکھنے کے لیے صرف ہوتی تھیں۔

دہلی کے ایک بزرگ عمدۃ الملک اسلام خاں مشہدی وزیر شاہجہاں کے پڑوتےسید حیدر حسین صاحب سہیل اس وقت لکھنؤ میں موجود ہیں۔ تخمیناً اسی برس کا سِن شریف ہے، آپ برہان علی خاں جلادت جنگ کے نواسے ہیں۔ قدیم مکان نیل کے کٹرے میں تھا۔ واجد علی شاہ آخری شاہ اودھ کے آغاز حکومت میں بیس روپیہ کی کرائے  کی بہل کرکے پندرہ روز میں لکھنؤ آئے۔ فرماتے ہیں کہ اس وقت کے لکھنؤ کا کیا پوچھنا، شہر رشک جنت بنا ہوا تھا۔ لکھنؤ بھر میں کہیں سڑک کا نام نہیں،  دو طرفہ سر بفلک عمارتیں، عالی شان مکانات، پتلی پتلی گلیوں میں دو طرفہ دکانیں، مینا بازار سے چینی بازار تک دوکانوں میں ہر طرح کے تاجر پیشہ۔  جابجا ناچ رنگ کے جلسے ہورہے تھے۔ قیصر باغ کی بُرجیوں پر سنہری کلس چڑھائے جاتے۔ لوگ عموماً متواضع با اخلاق تھے۔ اسی طرح اور لکھنؤ کے شاہی زمانہ دیکھنے والے بڈّھے قدیم طرز معاشرت کا ذکر کر کے آٹھ آٹھ آنسو روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاہی زمانہ ایک خواب تھا جس کا سماں آنکھوں میں اب تک بندھا ہوا ہے۔ آہ کیا کیا لوگ تھے۔ شاہی عملے میں شرفا اہلکار تھے۔ کسی نیچ قوم کو سرکاری ملازمت کا عہدہ نہیں ملتا تھا۔ ایک کماتا تھا، دس کھاتے تھے۔ اناج سستا تھا۔ غریب سے غریب آدمی کے یہاں دوچار مہمان بنے رہتے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر نالشا نالشی نہ ہوتی۔ سرکار دربار میں لوگ جاتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔ بڑے بڑے معاملے آپس میں فیصلہ ہوجاتے تھے۔ اس قدر خود غرضی کا بازار گرم نہ تھا۔ اگلے وضعداروں میں پنڈت دلارام کشمیری شاہی میں بانگرمو کے چکلہ دار تھے۔ مزاج میں خیر تھی۔  ایک بارہ دری اپنے نام سے بنوائی، وسعت اور خوبصورتی میں اس کے ساتھ کی ایک نہ تھی، اس کو تمام شہر کی حاجت روائی کے واسطے وقف کردیا تھا۔ بیاہ شادی یا اور کسی تقریب یا غمی کی مجلس کے لیے جس کو ضرورت ہوئی اطلاع کردی اور صاحب خانہ نے دری، چاندنی، نمگیری، قنات، جھاڑ کنول، مردنگیں، دیوار گیریاں، دنگل قالین سے آراستہ کردیا۔ زیادہ ضرورت ہوئی، دیگیں اور خوان پوش وغیرہ بھی موجود۔ یہ سب سامان بارہ دری کے کوٹھے پر مستعد رہتا تھا۔

اِسی طرح تمام عمال سرکاری کی فیاضی اور سخاوت کا حال تھا۔ بادشاہ سے لے کر فقیر تک خوش نیت، مخیّر اور نیکی کی طرف راغب تھا۔ شُہدے سال بھر بھیک مانگ کر جو روپیہ جمع کرتے وہ یوم عاشورہ سید الشہدا کی مجلس میں لٹا دیتے۔

مہاراجا ٹکیت رائے نے جس قدر دولت کمائی مع تنخواہ کے سب تالاب، کنویں اور مسجدیں اور مندروں کی تعمیر میں صرف کردی، آپ ہمیشہ سادہ لباس اور سادہ وضع سے بسر کی۔

شاہی زمانے کو جو لوگ اب تک یاد کررہے ہیں وہ محض اگلے لوگوں کے اخلاق، تواضع، بردباری، نیک چلنی، وضعداری اور ملک کی مجموعی حالت اور شریفانہ برتاؤ کا ماتم کرتے ہیں اور یہ تو اس وقت تک رونا رہے گا جب تک ہم اپنی حالت کو نہ بدلیں گے۔ در حقیقت یہ ہماری بد اخلاقیوں کا رونا ہے۔

١۔ جارج پنجم مراد ہیں جو ٦ مئی  ١٩١٠؁ء سے ٢٠ جنوری ١٩٣٦؁ء تک برطانوی ہند کے بادشاہ (قیصرِ ہند) رہے۔ ١٩٣٥؁ء میں ان کی تخت نشینی کی پچیسویں سالگرہ منائی گئی تھی، اسی موقع پر عشرتؔ لکھنوی نے یہ مضمون سپرد قلم کیا تھا۔  (Yethrosh)

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ