جانِ اردو

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

جانِ اردو- خواجہ عشرتؔ لکھنوی

فہرست

آغازِ کتاب

دیباچہ

یہ میرا خیال ہے کہ زبانِ اردو اپنی ذاتی خوبیوں کے سبب سے روز افزوں ترقی کرکے دنیا کے سب سے بڑے حصے پر حکومت کرے گی اور ضرور علمی زبان بنے گی۔ اس لیے میں چاہتاہوں کہ ابتدائی حالت میں جبکہ اس کی بنیاد قائم ہوئی ہے، لوگ اس کے مرکز اعلیٰ دہلی و لکھنؤ کی تقلید کریں اور حد سے قدم آگے نہ رکھیں۔ اردو کی ہردلعزیزی سے ضرورت لاحق ہوئی کہ اسی زبان میں تمام ہند میں اخبار جاری ہوں۔ اس  لیے لوگوں نے مجبور ہو کر اپنے اپنے ملک میں بعنوان مختلف اس کا استعمال شروع کردیا اور مرکز کی زبان سے سرتابی کی۔ ہر شہر میں مخصوص مخصوص محاورے بن گئے اور ایک شہر کی اردو سے دوسرے شہر کی اردو میں اتنا فرق ہونے لگا کہ لوگوں کو اس کاسمجھنا دشوار ہوتا جاتا تھا اور خیال ہوا کہ رفتہ رفتہ یہ زبان انقلاب پذیر ہوتے ہوتے فنا ہو جائے گی۔ اس خدشےکو ہر ایک خیر اندیش زبان نے محسوس کیا۔ چنانچہ بعض حضرات نے اس کے سدّباب میں ملک کے ثقات شعرا سے تحقیق کر کے غلط محاورات کی تردید شروع کی تو جو لوگ زبان سے اچھی طرح واقف نہ تھے، ان کو برا معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ آخر ہم بھی تو ہندوستان کے رہنے والے ہیں اور اردو تمام ہندوستان کی زبان ہے تو ہمارے مقابلے میں دہلی اور لکھنؤ کو کیوں شرف دیا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں یہی صحیح ہے جو ہم بولتے ہیں۔ دو ایک بڑے شہروں میں یہ ہوا پھیلی ہوئی تھی اور زبان میں کچھ نقائص ہوچلے تھے۔ اور خوف تھا کہ ہوتے ہوتے ہندوستان کے بہت سے شہر اس مرض میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس وقت سِوا اس کے کچھ چارہ نہ ہوگا کہ ہم اردو کو بھی دوسری کمزور اور غیر علمی زبانوں کی طرح مردہ سمجھ کر فاتحہ پڑھیں۔ میری سمجھ میں اس کا سبب یہ معلوم ہوا کہ اس زبان کی ماہیت اور معلومات خصوصیات زبان کی کچھ کتابیں نہیں ہیں جن سے لوگ مدد لے کر صحیح زبان بولنے کی قدرت حاصل کریں۔ اس  لیے وہ لوگ معذور و مجبور ہیں کہ غلط زبان ہی بول کر اپنے مطالب پورا کریں۔ میں نے چاہا کہ ملک کی اس شکایت کو دفع کروں ۔ زبان کے جو معلومات میرؔ کے وقت سے میرے پاس سینہ بسینہ محفوظ تھے۔ میں نے لکھ کر کتاب کی صورت میں پیش کیا، تو لوگوں نے میری تصنیف کو بہت شوق سے دیکھا اور اردو کے سمجھنے میں انصاف کو دخل دیا اور غلط جملوں کے استعمال سے اجتناب کرنے لگے۔میں خدا کا شکر کرتا ہوں میری پہلی تصنیف زبان دانی بہت پسند ہوئی۔ اسی طرح اصلاح زبان اردو، قواعد میر، شاعری کی پہلی کتاب، شاعری کی دوسری کتاب، اصول زبان اردو مقبول خاص و عام ہیں۔ ان کی کثیر التعداد اشاعت نے مجھے اطمینان دلا دیا کہ ہندوستان کے لوگ صحیح اور فصیح اردو بولنے کی دلی خواہش رکھتے ہیں بشرطیکہ انہیں ایسی کتابیں ملتی رہیں۔ تو میں نے اپنا ایک رسالہ “جان اردو” جو اہل ملک کی ضرورت کے موافق ہے، لکھ کر شائع کیا۔

 

خواجہ محمد عبد الرؤوف عشرت لکھنوی

 

بسم الرحمن الرحیم

اردو ہندی

اردو ہندی دو الگ الگ زبانیں نہیں ہیں۔ حقیقت میں ایک زبان کے دو نام رکھ  لیے ہیں۔ سنسکرت زبان تعلیل اور تحریف کے بعد بھاکا بنی۔ بھاکا ترمیم تنسیخ تعلیل کے بعد ایک دوسری زبان بنی جس کو اردو کہو یا ہندی۔ اردو کا نام ہماری زبان پر ابھی چند برسوں سے آگیا۔ ورنہ ہندو تو ہندو، مسلمان بھی اس زبان کو ہندی کہتے تھے۔ چند عبارتیں ہمارت دعوے کی گواہ ہیں۔ قیامت نامہ کا مولف کہتا ہے:

“بموجب فرمانے ان کے اس حقیر نے ۱۲۵۶ ہجری میں زبان ہندی میں ترجمہ کیا۔”

نورنامے کا مصنف کہتا ہے:

اگرچہ تھی افصح وہ عربی زباں
سمجھ اُس کی ہر اک کو تھی بس گراں
سمجھ اس کی ہر اک کو دشوارتھی
کہ ہندی زباں یاں تو درکار تھی
اسی کے سبب میں نے کر فکر و غور
لکھا نورنامے کو ہندی کے طور

 

اس سے معلوم ہوا کہ آج سے ۷۵برس پیشتر اسی زبان کو جسے ہم اردو کہتے ہیں، سارے مسلمان ہندی کہتے تھے۔ رفتہ رفتہ کچھ لوگوں نے اسے اردو کہنا شروع کیا۔ سبب یہ ہوا کہ بعض لوگوں نے اسی زبان کو ہندی خط میں لکھنا شروع کیا۔ ناگری کی ناقص تحریر کا نام ہندی تھا۔ پھر ناگری میں بھی اسی زبان کو لکھنے لگے۔ ناگری کا خط وہی ہے جو بھاکا زبان کا خط ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ہندوستان کی زبان کے  لیے بھاکا خط میں لکھا جانامناسب اور موزوں ہے۔ مگر مشکل یہ ہےکہ بھاکا یعنی ناگری کا خط اتنا جامع اتنا وسیع اتنا مبسوط نہیں ہےکہ زبان کی وسعت اور ترقی کو مفصل دکھا سکے اور دخیل الفاظ کے رسم الخط کو برقرار رکھے اور پانچ پانچ سات سات حرفوں کو ایک میں ملا کر لکھے اور زیر زبر کی قید سے بری ہو جو ایک علمی زبان کے  لیے لازمی اور ضروری ہے۔

ہندوستان کی زبان کے نیک نصیب تھے جو اس کے  لیے ایسے قانون خطاطی تجویز کیے گئے جو ہر طرح مکمل ہیں۔ ناگری میں ث، س، ص میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کا ایک ایک حرف الگ الگ لکھا جاتا ہے۔ تیسرے یہ کہ ناگری میں زیر زبر کے حرف بھی لکھے جاتے ہیں۔ اس کے لکھنے میں بڑا وقت صرف ہوتا ہے۔ یہ دقتیں اور خط میں نہیں ہیں۔ اس  لیے کہ ہرزبان کا لفظ اس میں داخل ہونے کے بعد اپنی جڑ بنیاد بے پوچھے بتا دیتا ہے۔ جیسے قرض میں قاف اور ضاد کہہ رہا ہے کہ میں عربی ہوں۔ حالت میں بڑی حے کہہ رہی ہے کہ میں عربستان سے آئی ہوں۔ مژدہ میں ژے کا حرف پکار رہا ہے کہ میں عجمی ہوں۔ گھڑا میں گھ اور ڑ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سدیشی ہیں۔ چاقو میں قاف بول رہا ہے کہ میں ترکی ہوں۔ بورڈ میں دو ساکنوں کا اجتماع ڈال کے ساتھ بتا رہا ہے کہ میں انگریزی ہوں۔

اسی طرح جتنی زبان کے الفاظ ملتے جائیں گے اپنے املا، خال و خط،حرفوں کی آواز سے پہچان لیے جائیں گے کہ یہ لفظ کہاں سے آیا ہے۔ اس لحاظ سے ہندی زبان کا اردو حرفوں میں لکھا جانا محض مصلحت اندیشی ہے اور اس کے علمی بننے کی دلیل ہے۔ ہر ایک ہردلعزیز زبان جو وسعت حاصل کرنا چاہے اور جو کثرت سے استعمال کی جاتی ہے اور جو دوسری زبانوں کو اپنے میں شامل کرنے کی قوت رکھتی ہے اور اس کے قواعد خطاطی، املا نویسی سخت رسیوں میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو لوگ زبان کی اہمیت سے ناواقف ہیں وہ ہمیشہ اس جوئے کو اپنی گردن سے اتارنا چاہتے ہیں اور اس کے متعلق کمزور تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ زبان کی ترقی میں رخنہ انداز ہوتے ہیں۔ اسی ہندوستان میں دیکھ لیجیے، عوام نے اپنی غلط اور فصیح اردو کا نام ہندی رکھ لیا ہے اور اسکو دیو ناگری میں لکھتے ہیں۔ اور وہ چاہتے ہیں ہماری کچی زبان کی کوئی اصلاح نہ کرے۔ اور کوئی ہم کو نام نہ رکھے۔ وہ شین کو سین اور خے کو کھے بولتے ہیں اور اسی کو اچھا اور فصیح بتاتے ہیں۔ بعض لوگ قاف کو کاف بولتے ہیں اور اسی کو اچھاسمجھتے ہیں۔ ایسی خودسری سے دوسری زبان کا امان جاتا رہتا ہے اور وہ علمی زبان نہیں بن سکتی۔ ہم سب ہندوستانیوں کو ایک زبان بولنا چاہیے کیونکہ ہندوستان کی ایک زبان ہے، دو رسم الخط ایک ہندی ایک اردو۔ اس لیے کہ ناگری خط ہماری زبان کی حفاظت نہیں کر سکتا تو اب بھی لازم ہے کہ ہم اپنی زبان کو اردو خط میں لکھیں جس میں ہم کو بے شمار الفاظ لینے کی گنجائش رہے۔

لیکن پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ اردو زبان کو مستند بنانے کے  لیے کس بات کی ضرورت ہے۔ بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی زبان کو باقاعدہ اور علمی زبان بنانے کے  لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہماری زبان کا کوئی خاص شہر یا کوئی جگہ مرکز قرار پائے جس کی تقلید ہر زبان دان پر لازم ہو۔ جیسے عربی زبان کے  لیے مکہ شریف مستند جگہ ہے اور اسی زبان کی تقلید کرنے سے کلام فصیح ہوتا ہے۔

فارسی کے  لیے شیراز، اصفہان، طہران مستند شہر ہیں۔ تمام عجم کو ان شہروں کی تقلید کرنا پڑتی ہے اور انہیں شہروں کی زبان معتبر مانی جاتی ہے اور ان کی مثال پیش کی جاتی ہے۔

دوسرے شہروں کی زبان کو زبان لُر کہتے ہیں۔ ہاں جو لوگ ان شہروں کی تقلید کو لازمی اور ضروری سمجھتے ہیں اور جو کچھ نظم و نثر بتقلید لکھتے ہیں وہ مستند مان  لیے جاتے ہیں اور ان کو زبان داں کہتے ہیں۔ زبان دانوں کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہر کی زبان کو مرکز کے مطابق بناتے ہیں۔ اردو میں بھی زبان دانوں کا یہی کام ہے، وہ اپنے مرکز کی تقلید کرکے اسی اصول پر لوگوں کو چلاتے ہیں۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو ہر شہر اپنے اپنے مقامی الفاظ اور محاورات کو استعمال کرکے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنائے اور ایک کو دوسرے کی زبان سمجھنا مشکل ہو جائے اور آخر کو سب جہالت کے دریا میں ڈوب کے مرجائیں اوراُن کی زندگی بھیڑ بکریوں کے مثال ہو۔

بات یہ ہے کہ ہندوستان ان خرابیوں کا بہت دور تک شکار ہو چکا ہے۔ یہاں تین سو چھتیس زبانیں تھیں اور ہر ایک اپنی زبان کو دوسرے سے بہتر سمجھتا تھا۔ سب زبانیں علم سے خالی تھیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ایک زبان سب کی ہو مگر جاہلوں سے یہ کام نہ ہو سکتا تھا۔ اب گورنمنٹ نے اپنے مغربی علوم سے ہماری آنکھیں کھولیں اور ہم کو دکھایا کہ دیکھو خود تمہارے گھر میں ایک اردو زبان ایسی ہے جو تمام دنیا کی زبان بننے کی قوت رکھتی ہے مگر تم اس کے فضائل، اس کے مناقب سے بے خبر ہو۔ تم کو اس کی پرورش کا طریقہ نہیں معلوم۔ وہ خدا کی طرف سے پیدا ہوئی ہے اور خدا اس کا مددگار ہے۔ باوجود سخت مزاحمتوں کے وہ ہندوستان کے ہرگوشہ میں دفعتاً پھیل گئی اور پھیلتی جاتی ہے۔

اس وقت موجودہ حالت میں زبان اردو کے دو ٹکسال ہیں، ایک دہلی اور ایک لکھنؤ۔ اس میں اولیت کا تاج دہلی کے سر ہے۔ اس لیے کہ سب سے پہلے دہلی کی زبان مستند و معتبر تھی اور لکھنؤ والے بھی دہلی کی تقلید کرتے تھے اور وہی زبان بولتے تھے۔ رفتہ رفتہ دہلی مِٹی اور جو فصحا، جو شرفا، جو والیان ملک، جو شہزادے دہلی کی جان تھے اپنے وطن کو خیرباد کہہ کر لکھنؤ میں آبسے۔ انہیں لوگوں کی زبان اردوئے معلیٰ تھی اور دہلی انہیں سے عبارت تھی۔ کچھ دنوں کے بعد لکھنؤ بھی دہلی ہو گیا اور اس کی زبان کے سکےرائج الوقت ہوگئے۔ دہلی کے سب ملک الشعرا شاعر، دہلی کے سب نجیب الطرفین شہزادے، دہلی کی بیگمیں، دہلی کے شرفا لکھنؤ کی خاک میں آرام کر رہے ہیں۔

اب لکھنؤ کا دوسرا دور شروع ہوا اور زبان کا سکہ لکھنؤ میں ڈھلنے لگا۔ یہاں شاعروں میں ناسخ، آتش مستند اور مشہور ہوئے اور ان لوگوں نے زبان کے گلزار کو خار سے پاک کر کے گلشن بے خار بنا دیا۔ جب لکھنؤ اور دہلی مدمقابل ہوئے تو دونوں میں رقابت پیدا ہوئی۔ دہلی کے رہے سہے شاعر جو ہمیشہ آپس میں لڑا کرتے تھے، لکھنؤ کی مخالفت پر آمادہ ہوئے اور یہ جھگڑا طول پکڑتا گیا۔ پہلے تذکیر و تانیث کا سلسلہ شروع ہوا۔ دہلی والے سانس کو مذکر بولتے تھے، یعنی سانس آیا، سانس نکلا۔ لکھنؤ والے کہتے تھے اس قافیے کے جتنے الفاظ ہیں سب مونث ہیں۔ قرینہ یہی کہتا ہے کہ ہم اس کو مونث بولیں جیسے یاس، آس، ناس، گھانس، چپراس، مٹھاس، کھٹاس۔ اس لیے ہم سانس آئی اور سانس نکلی بولیں گے۔ بات یہ ہے کہ لکھنؤ میں بھی تو وہی لوگ تھے جن کے بزرگ دہلی سے آئے تھے اور ان کو اپنے باپ دادا استاد کی زبان پر ناز اور فخر تھا۔ کوئی ملک الشعرا کا بھانجا تھا، کوئی بیٹا۔ کوئی شہزادہ تھا۔ ان لوگوں کو نئی دہلی کی تقلید میں شرم آئی اور لکھنؤ کے پردے میں خوب خوب زبان کو صاف کیا اور چھانا۔ دہلی نے کہا ہم مالا مونث بولتے ہیں۔ لکھنؤ نے کہا یہ لفظ مذکر ہے، اس لیے کہ اس کے آخر میں الف ہے۔ دہلی نے کہا موتیا مونث ہے۔ لکھنؤ نے کہا موتیا مذکر ہے۔ دہلی نے کہا فکر مذکر ہے۔ لکھنؤ نے کہا نہیں، یہ مونث ہے۔ دہلی نے کہا قلم مونث ہے۔ لکھنؤ نے کہا یہ مذکر ہے۔ دہلی نے کہا املا مونث ہے۔ لکھنؤ نے کہا مذکر ہے۔

اسی طرح اور لفظی جھگڑے ہیں جیسے دہلی والے بولتے ہیں مجھے روٹی کھانی تھی۔ لکھنؤ والے بولتے ہیں مجھے روٹی کھانا تھی۔ دہلی والے کہتے ہیں میرا دامن چل گیا۔ لکھنؤ والے بولتے ہیں میرا دامن نکل گیا۔ دہلی والے کہتے ہیں بوچھاڑ، لکھنؤ والے بولتے ہیں بوچھار۔ دہلی والے بولتے ہیں گھڑنا۔ لکھنؤ والے کہتے ہیں گڑھنا۔ دہلی والے کہتے ہیں گلتھی۔ لکھنؤ والے کہتے ہیں گتھی۔ اسی طرح اور بے شمار جھگڑے ہیں جنہوں نے بہت طول پکڑا۔

دہلی والوں کا خیال تھا کہ اس جنگ میں ہمارا پلہ بھاری رہے گا اور لکھنؤ کو نیچا دیکھنا نصیب ہوگا مگر اب لکھنؤ وہ لکھنؤ نہیں رہا تھا جو اپنی مادری زبان میں کسی دوسرے کا محتاج رہتا۔ اس نے بھی خم ٹھونک کر مقابلہ کیا، بالآخر پالا اسی کے ہاتھ رہا۔ یہ جنگ نہ تھی، اختلاف علما تھا اور امت کے لیے رحمت بن گیا اور مقلدین اردو کے دو فرقے ہوگئے۔

پنجاب والوں نے دہلی کے محاورات، اصطلاحات، تذکیر و تانیث کی اختلاف کی حالت میں پیروی کی۔ اور پورب دکھن اتّر والوں نے درصورت اختلاف لکھنؤ کی پیروی قبول کی۔ لکھنؤ کا دار السلطنت بہت وسیع تھا۔ اس لیے ضرورت تھی کہ یہاں عملہ بھی زیادہ ہو اور کام کرنے والے لوگ مستند ہوں۔ شاہانِ لکھنؤ نے اس خدمت میں لاکھوں روپیہ صرف کیا اور دربار میں ثِقات سخنداں ملازم ہوئے۔ ہرایک رئیس کے پہلو میں ایک فصیح شاعر یا نثّار ضرور بیٹھتا تھا۔

ریاستوں میں اچھی زبان کے سیکھنے کے لیے ادیب کی ضرورت ہوئی۔ بیاہ شادی میں شعرا کو قصیدہ خوانی پر انعام اکرام ملنے لگا۔ نثاروں نے اور شاعروں نے زبان کو خوب دل کھول پر مانجا اور اس میں نئے الفاظ بھرتی کیے۔ چنانچہ نمبر رفل وغیرہ انگریزی الفاظ شاہی میں شعرا اپنے کلام میں نظم کرتے تھے۔ نواب کلب علی خان والیٔ رامپور جو غدر کے بعد ریاست رامپور پر تخت نشین ہوئے۔ اس وقت دہلی اور لکھنؤ کے شعرا مٹ چکے تھے۔ ان کو علم و ادب کی حفاظت کا خیال ہوا تو لکھنؤ اور دہلی کے ثقات شعرا کی تلاش ہوئی۔

دہلی سے فصیح الملک مرزا داغ و حیا دہلوی اور لکھنؤ سے بحر، امیر، قلق، منیر، تسلیم، جلال وغیرہ مقرر ہوئے۔ اب بھی دہلی اور لکھنؤ کا فیض جاری ہے۔ اب یہ بھی بتادینا چاہیے کہ ان مستند شہروں میں زبان کی حفاظت کا کیا انتظام ہے اور نظام سلطنت کیونکر ہے۔ یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہر شہر میں تین طبقے کے لوگ ہوتے ہیں، ادنی، اوسط، اعلی۔ یہ مرتبہ بہ لحاظ دولت نہ سمجھنا چاہیے۔ بلکہ بہ اعتبار زبان ادنی وہ لوگ ہیں جو جاہل ہیں اور پڑھے لکھے نہیں ہیں اور گفتگو میں ان کا تلفظ بھی صحیح نہیں یعنی شین قاف درست نہیں۔ انہیں عوام کہتے ہیں اور ان کی زبان کی پابندی لازم نہیں۔

دوسرے اوسط وہ لوگ ہیں جو جوہرِ علم رکھتے ہیں اور ان کا تلفظ صحیح ہے۔ اردو بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔ انہیں اصطلاح زبان میں عام کہتے ہیں۔

تیسرے اعلیٰ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ زبان کی خدمت میں اپنے اوقات صرف کرتے ہیں اور اس کے اصطلاحات اور محاورات کا تحفظ کرتے ہیں اور عام زبان سے قاعدے اور قانون اخذ کرتے ہیں اور عام زبان کی عزت کرتے ہیں اور اُن کی زبان سب سے زیادہ مستند اور معتبر جانتے ہیں۔ انہیں خاص کہتے ہیں۔

تمام ہندوستان کے لوگ جو اردو بولتے ہیں اہل زبان اور تمام ہندوستان کے وہ لوگ جو اردو کی خدمت کرتے ہیں زبان داں ہیں۔ لیکن ان سب کی زبان کا سرچشمہ دہلی اور لکھنؤ ہے۔ گویا دہلی اور لکھنؤ ایک ایسا کالج ہے جہاں سے زبان کی سند ملتی ہے۔ مگر اس کالج کی عزت اس سبب سے نہیں ہے کہ اس کے پرنسپل اور پروفیسر کے ہاتھ میں قانون ہے۔ ایک اسکول میں اگر کوئی لڑکا پوفیسر سے گستاخی کرتا ہے تو اس کا نام کاٹ دیا جاتا ہے۔ پھر ہندوستان بھر میں کہیں اس کو تعلیم نہیں ملتی لیکن اردو کے پروفیسروں کی توہین کی جائے، دہلی اور لکھنؤ سے بائیکاٹ کیا جائے، پھر بھی جب کسی سے کوئی مسئلہ زبان دریافت کرنا چاہے تو وہ خندہ پیشانی سے بتانے کو مستعد ہو جاتا ہے۔ چوباز آمدی ماجرا در نوشت۔

جو لفظ یا جو اصطلاح یا جو محاورہ ہندوستان کے کسی شہر میں یا کسی صوبے میں بولا جاتا ہےاور دہلی اور لکھنؤ میں وہ مستعمل نہیں ہے اور زبان دانانِ دہلی اور لکھنؤ نے اسے قبول نہیں کیا تو وہ ٹکسال باہر اور غلط ہے۔ یہی سبب ہے کہ بعض اجنبی الفاظ اخبارات میں مستعمل ہورہے ہیں یا دوسرے شہروں میں بکثرت بولے جاتے ہیں، مگر عام ہندوستان کے لوگ اُسے غلط مانتے ہیں اور اس سے احتراز کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کی صحت کا سارٹیفکٹ زبان کے کالج سے حاصل نہیں ہوا یعنی دہلی اور لکھنؤ کے فصحا کے نظم و نثر کلام میں دیکھنے میں نہیں آیا اور ان کی زبانوں پر اس کا استعمال نہیں ملتا۔

مثال کے طور پر لکھا جاتا ہے، ایک لفظ ہے “ٹھہرنا” ،بفتح ہائے ہوّز۔ دہلی اور لکھنؤ میں بولا جاتا ہے اور دونوں جگہ کے مستند شعرا نے اسی طرح نظم کیا ہے۔ فصیح الملک مرزا داغ دہلوی مرحوم نے بھی اس کو ثمر، سفر، سحر کے قافیے میں لکھا ہے:

کیونکر پڑے گا صبر الٰہی رقیب کو
گر بعد مرگ میری طبیعت ٹھہر گئی

راہ دیکھیں گے نہ دنیا سے گزرنے والے
ہم تو جاتے ہیں ٹھہر جائیں ٹھہرنے والے

غم کھاتے کھاتے ہجر میں تو روح بھر گئی
اب زہر کھائیں گے یہی دل میں ٹھہر گئی

لیکن اس کو لاہور کے تمام لوگ ٹھیرنا بولتے ہیں اور پنجاب کی تمام کتابوں میں یہ لفظ اسی طرح لکھا جاتا ہے لیکن پنجاب کے سوا ہندوستان میں کوئی شہر اس کی تقلید نہیں کرتا اس لیے یہ لفظ ٹکسال باہر ہے۔

اسی طرح حیدرآباد میں تقصیر کا لفظ صرف حضور کے معنی پر بولا جاتا ہے مگر لکھنؤ کے عوام عام خاص اس جدت کو غلط جانتے ہیں، اس لیے حیدرآباد کے سِوا تمام ہندوستان کے لوگ اسے غلط جانتے ہیں اور اس معنی پر اس کا استعمال نہیں کرتے۔ افسوس ہے کہ اس زمانے میں بعض نا آشنا نے خود روی اختیار کی ہے اور دہلی اور لکھنؤ کے اس اقتدار کو مٹانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں اور اُس کی لطافتِ زبان اور فصاحتِ کلام سے خار کھاتے ہیں۔

اردو ادب ایسی سہل نہیں کہ بغیر کسی تحصیل کے کوئی اس کی معنوی خوبیوں سے آگاہ ہو سکے۔ لوگوں نے معیارِ ہمہ دانی انگریزی زبان کو بنا لیا ہے۔ ایک ہندوستانی ایم اے سمجھتا ہے کہ میں اردو کا بھی مالک ہوں۔ حالانکہ دو سطریں صحیح اردو کی نہیں لکھ سکتا۔ اس ضد میں زبان خراب ہو رہی ہے اور ہندوستان کے لوگ جس درخت پر بیٹھے ہیں اُس کی جڑ کاٹ رہے ہیں۔ اگر تمام ہندوستان جہالت کے دریا میں غرق ہو جائے جب بھی وہ عظمت اور وہ عزت جو خدا نے زبان کے بارے میں دہلی اور لکھنؤ کو دی ہے، کسی طرح کم نہیں ہو سکتی۔

فرض کیجیے آج تمام ہندوستان کے لوگ اتفاق کرلیں کہ ہم دہلی اور لکھنؤ کی پیروی نہیں کریں گے اور اپنی اپنی زبان بولیں گے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر شہر کی بولی الگ الگ ہوگی۔ ایک شہر کا اخبار دوسرے شہر کے لوگوں کی سمجھ میں نہ آئے گا۔ کوئی کہے گا ٹوپی پہنی، کوئی کہے گا ٹوپی اوڑھی۔ کوئی کہے گا ٹوپی لٹکائی کوئی کہے گا ٹوپی باندھی، کوئی کہے گا ٹوپی چپکائی، کوئی کہے گا ٹوپی لٹکائی، کوئی کہے گا ٹوپی دھری، کوئی کہے گا ٹوپی لگائی، کوئی کہے گا ٹوپی سجی، کوئی کہے گا ٹوپی چڑھائی۔ اتنا بڑا فرق صرف ایک لفظ ایک معنی میں ہو گا تو پوری زبان کا کیا ذکر ہے۔ یہ ایک موٹی بات تھی جو ہم نے بیان کی۔ ورنہ زبان میں باریک پیچیدگیاں بہت ہیں۔ سب کے سب ایک قہار سمندر میں غوطہ کھا کر مرجائیں گے اور جو زندہ رہیں گے جہالت اور مزدوروں کی زندگی بسر کریں گے؛ اور اردو زبان کا جنازہ نکل جائے گا۔ لیکن دہلی اور لکھنؤ کی عظمت و فصاحت و بلاغت بیان و زبان کا نام ہمیشہ قائم رہے گا۔

اس خیال سے میں نے چاہا کہ لکھنؤ کے محاورات کی خصوصیت کا کچھ بیان کروں اور بعض لوگ جو محاورے کا غلط استعمال دوسرے ملکوں میں کرجاتے ہیں ان کو بھی دکھا دوں تاکہ دیکھنے والوں کو احتیاط کا موقع ملے اور سب لکھنؤ کی زبان کے موافق اپنی زبان بھی درست کرلیں۔

ایک بات اور کہنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ میں نے اوپر لکھا ہے کہ میں لکھنؤ کے محاورے کی خصوصیت کا بیان کروں گا۔ اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ لکھنؤ اور دہلی کے محاورات میں فرق ہے۔ بات یہ ہے کہ لکھنؤ اور دہلی کے محاورات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ صرف بعض بعض الفاظ کی تذکیر و تانیث میں اختلاف ہے، جن کا مجمل ذکر میں اوپر کر چکا ہوں اور ایسا اختلاف خود اساتذۂ لکھنؤ کی تحقیق میں واقع ہو جاتا ہے۔ لکھنؤ میں ایک گروہ کہتا ہے اپیل مذکر ہے، دوسرا کہتا ہے اپیل مونث ہے۔ ایک کہتا ہے آبدست مذکر ہے، دوسرا کہتا ہے مونث ہے۔ ایک کہتا ہے آغوش مذکر ہے دوسرا کہتا ہے مونث ہے۔

اسی طرح محاورات میں بھی جزئی اختلاف ہے اور یہ اختلاف حد تحقیق کی علامت ہے کہ اساتذۂ سخن زبان کی خدمت میں کسی کی پروا نہیں کرتے اور آپس میں بھی اختلاف کر جاتے ہیں۔ اسی طرح دہلی کے اختلاف کو بھی سمجھنا چاہیے کہ جس طرح لکھنؤ آپس میں اختلاف جزئی رکھتا ہے اسی طرح دہلی بھی اختلاف جزئی رکھتی ہے۔ اسی طرح دہلی اور لکھنؤ میں اختلاف جزئی ہے جو طالبانِ زبان کے حق میں مفید ہے۔ مگر میں نے اگرچہ زبان اردو کے قانون ملک الشعرا میر تقی میر کے خاندان سے حاصل کیے ہیں اور دہلی کے بعض اختلاف سے بھی واقف ہوں۔ لیکن کئی پشت سے میرے یہاں لکھنؤ کی زبان بولی جاتی ہے اور قدامت سے لکھنوی ہوں۔ جس طرح ایک دہلی کا مستند شاعر اپنے محاورات و زبان کی تحقیق رکھتا ہے، اُس طرح میں نہیں رکھتا۔ اس لیے میں نے اپنی ہیچمدانی کا اعتراف کر کے کہا، میں لکھنؤ کے محاورات کے متعلق بحث کروں گا۔ ورنہ حقیقت میں دونوں محاورے ایک ہیں۔

کوئی

  • اسم عدد ہے۔ تذکیر و تانیث میں اپنے معدود کا تابع ہے۔ ایک کے معنی پر بولا جاتا ہے۔ جیسے کوئی آدمی نہیں ہے۔ گھر بالکل خالی ہے۔
  • تخمیناً کے معنی پر جیسے کوئی سو آدمی ہوگا۔ کوئی ہزار آدمی ہوگا۔ یعنی تخمیناً سو تخمیناً ہزار۔
  • خال خال کے معنی پر جیسے کوئی کوئی تارا آسمان پر معلوم ہوتا ہے۔
  • ایک آدمی کے معنی پر جیسے اس گھر میں کوئی ہے۔
  • نا معلوم آدمی کے معنی پر جیسے کوئی آیا تھا۔ آپ کو پوچھتا تھا۔

قاعدہ: کوئی کا استعمال جب مفرد ہو گا تو اس سے آدمی مراد ہوگا۔ جب کسی چیز کے نام سے ساتھ ہو گا تو چیز مراد ہوگی۔ جیسے کوئی کھڑا ہے۔ یعنی آدمی۔ کوئی پیسہ دے دو۔ کوئی روٹی دے دو۔

قاعدہ: کوئی کو واحد عدد کے ساتھ کچھ لوگ بولتے ہیں، یہ غلط ہے۔ جیسے کوئی ایک پیسہ ہوگا۔ کوئی ایک آدمی ہوگا۔ کیونکہ کوئی خود ایک کے معنی پر آتا ہے۔ اس لیے کوئی پیسہ ہوگا۔ یا ایک پیسہ ہوگا بولنا چاہیے۔ ہاں جمع کے ساتھ بولنا فصیح ہے۔ کوئی دس روٹیاں بچی ہوں گی۔ “کوئی کوئی” جمع کے معنی دیتا ہے۔ جیسے کوئی کوئی آدمی کہتا ہے۔ یعنی دو ایک آدمی۔

کۓ

کۓ اسم عدد جمع ہے۔ جیسے کۓ روپے ملے۔ کۓ آدمی آئے۔ بعض اس کا غلط استعمال کر جاتے ہیں۔ جیسے کۓ بجا ہے۔ یہ غلط ہے۔ بجے ہیں بولنا چاہیے۔

 کتنا

اسم مقدار ہے۔ جیسے اِس تالاب میں کتنا پانی ہے۔ یہ سُرمہ کتنا ہے۔ یہ آٹا کتنا ہے۔ یعنی کۓ سیر ہے۔ مگر اس کا استعمال محاورے میں اسم عدد کے معنی پر بھی خاص خاص موقع پر ہوتا ہے، جیسے آلو کتنے سیر دو گے۔ یعنی کۓ پیسے سیر۔ قلم کتنے کا دو گے، یعنی کۓ پیسے کا۔ سب کتنے آم ہیں، یعنی کۓ آم ہیں۔ اس طرح کا بھی بولتے ہیں۔ مگر افصح صورت یہ ہے کہ سب کۓ آم ہیں۔ کیونکہ یہاں غرض تعداد سے ہے نہ مقدار سے۔ گوشت کتنا ہے۔ چاول کتنے ہیں۔ آلو کتنے ہیں۔ دھنیا کتنا ہے۔ یہ محاورہ ہے کہ آلو کتنے ہیں بولتے ہیں۔ حالانکہ دونوں اسم جنس ہیں۔

قاعدہ: جس چیز کو ہم گن نہیں سکتے اسے کتنا یا کتنی کہیں گے اور جس چیز کو تول بھی سکتے ہیں اور گن بھی سکتے ہیں، اسے کتنی کہیں گے۔ جیسے پانی کتنا ہے۔ رائی کتنی ہے۔ رائی کا لفظ مونث واحد ہے۔ مگر اس کی جمع نہیں کر سکتے۔ بخلاف روٹی کے اس لیے کہ اس کو گن سکتے ہیں، اس لیے کہیں گے روٹی کتنی ہے اور روٹیاں کتنی ہیں۔ کپڑا کتنا ہے۔ برف کتنی ہے۔ زیرہ کتنا ہے۔ میدا کتنا ہے۔ بعض ایسے جن کو گن سکتے ہیں لیکن گنتے نہیں ہیں، اُن کو دونوں طرح بولتے ہیں۔ جیسے چنا کتنا ہے۔ چاول کتنا ہے۔ بیج کتنا ہے۔ اور یوں بھی بولتے ہیں، چنے کتنے ہیں۔ چاول کتنے ہیں۔ بیج کتنے ہیں۔

 کچھ

  • اسم مقدار و اسم عدد جیسے کچھ درد ہوتا ہے۔ کچھ پیسے دے دو۔ کچھ کہو تو سہی۔
  • دوسری بات جیسے تم کچھ کہتے ہو۔ وہ کچھ کہتے ہیں۔ یعنی تم دوسری بات کہتے ہو۔ وہ دوسری بات کہتے ہو۔ وہ کچھ کہتے ہیں۔ یعنی تم دوسری بات کہتے ہو۔ وہ دوسری بات کہتے ہیں۔
  • ذرا کے معنی پر جیسے کچھ دیر میں آنا۔
  • کوئی چیز کے معنی پر جیسے کچھ کھالیا۔
  • الٹ پلٹ کرنے کے معنی پر، کچھ کا کچھ کردیا۔
  • تھوڑا کے معنی پر جیسے کچھ کھالو۔ کچھ پی لو۔
  • زہر کے معنی پر جیسے کچھ کھا کے سو رہوں۔
  • کوئی کے معنی پر جیسے کچھ عیب نکالو تو تقادی کا دعوی کرنا۔

 کیا

حرف استفہام اور اسم مقدار ہے۔

  • استفہام:    ١۔ کیا تم گھر جاوگے

٢۔ تم کیا سوچتے ہو

  • مقدار:      رات کو وہ ذرا سی بات پر کیا کیا خفا ہوئے۔ یعنی کتنے خفا ہوئے۔
  • کس لیے:    غربت میں وطن کی یاد کیا آئے۔
  • کیسا:        تمہارے آنے سے دل کیا خوش ہوا ہے۔

اور بہت سے پہلو ہیں جیسے کیا مجال، کیا طاقت۔ بعض محل استعمال لوگ خلاف فصاحت کرجاتے ہیں؏

دل نہ دینے پر ہوئے ناشاد کیا

یہاں کیا سے کیوں زیادہ فصیح ہے۔

کی

اردو میں مضاف الیہ کی تانیث میں بجائے اضافت یہ حرف آتا ہے۔ جیسے الہی میری جان کی خیر۔ کس قیامت کی گرمی ہے۔

گل ہو گئی ہے شمع ہمارے مزار کی
اچھی نہیں یہ چھیڑ نسیم بہار کی

دوسرے کرنا کا صیغہ واحد مونث۔ سرکار نے بہت فوج جمع کی۔ تم نے کہیں نوکری نہیں کی۔ میں نے اس سے بات نہیں کی۔ بات کی کی، نہ کی نہ کی۔ اک نہ مانی ہزار منت کی۔

اس کے سوا اور کوئی تیسری طرح اس کا استعمال نہیں ہوتا اور یہ لفظ تمام ہند میں صحیح بولا جاتا ہے۔

کَل

اس کے استعمال کی کئی صورتیں ہیں:

  • اسم زمان: گزشتہ اور آئندہ کے محل پر۔ جیسے کل آؤں گا۔ تم کل آنا۔
  • اسم نکرہ: ریل کی کچھ کَل بگڑ گئی ہے۔ مشین چھاپے کی کل ٹوٹ گئی۔
  • قرار کے معنی پر: کسی کروٹ کل نہیں پڑتی۔

لیے

لینا سے صیغہ جمع ہے۔ جیسے میں نے پانچ آم لیے۔ تم نے دو روپے لیے۔ اور کبھی جر کے معنی دیتا ہے، خدا کے لیے ایسا غضب نہ کرنا۔ روٹی کے لیے مار کھائی۔ ایسے موقع کے لیے بولتے ہیں۔

اور کبھی محض لیے بھی بولتے ہیں جیسے اس لیے پہلے سے سمجھا دیا کہ پیچھے کہنے کو نہ ہو۔ ہم اپنے لیے نہیں کہتے۔ جس لیے تم آئے ہو ہم جانتے ہیں۔

سہی

  • سہنا سے صیغہ واحد مونث ہے۔تم سے ایک بات بھی سہی نہیں جاتی۔
  • حرف تنبیہ: ١۔ذرا یہاں آؤ تو سہی کیا ٹھیک بناتا ہوں۔

٢۔ اپنی آہوں سے زمانے کو ہلادوں تو سہی۔

تو

  • واؤ معروف سے ضمیر صیغہ واحد حاضر۔ جیسے کل تو کیا کرتا تھا جو غیر حاضر رہا۔
  • واو مجہول سے حرف تاکید۔ ذرا اس ڈھیٹ لڑکے کو تو دیکھو۔
  • حرف جزا: تم آو تو میں جاؤں۔ کبھی زید آتا ہے۔ یہ تو شدنی تھی۔
  • بفتح تا: بمعنی تب۔ اس وقت اسم زمان۔

تو سہی کہ تیرا گھر میں آنا موقوف کرادوں۔ اگر یہ بات ہو تو تو تم اس وقت واپس آنا۔ لہو اپنا پیوں میں تو گنا جاؤں چٹوروں میں۔

بلکہ

ترقی کا حرف ہے۔ جب کسی ادنیٰ چیز کو اعلیٰ یا اعلیٰ کو ادنیٰ بناتے ہیں تو بلکہ کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ آدمی نہیں بلکہ فرشتہ ہے۔ میں اکیلا نہیں بلکہ تمام قوم اِس خوشی میں شریک ہے۔ صرف دھمکی نہیں بلکہ مارا۔ اس موقع پر لوگ مگر اور لیکن بھی بول جاتے ہیں۔ یہ غیر فصیح ہے۔

مگر

  • کبھی جزا کا حر ف ہوتا ہے جیسے اگرچہ مُدّعی راضی ہے مگر مُدّعا عَلیہ قبول نہیں کرتا۔ گو ہندوستان میں نیک کام کرنے سے روپیہ کافی مل سکتا ہے مگر قومی کام کرنے والوں کی سخت ضرورت ہے۔
  • کبھی اسم صفت بن کر عذر کے معنی پر بولا جاتا ہے۔ بس زیادہ اگر مگر نہ کرو یعنی عذر نہ کرو۔
  • کبھی حرف استثنا کے معنی دیتا ہے جیسے سب آئیں مگر وہ نہ آئے۔ اسی جگہ پر اِلّا بھی بولتے ہیں، جیسے سب بولے اِلّا میں خاموش رہا۔ لیکن بھی بولتے ہیں ولیکن بھی بولتے ہیں۔ ولیک قدما بولتے تھے مگر اب متروک ہے۔

پھر

  • صفت عدد ہے۔
  • دوبارہ، جیسے پھر تو کہو۔ پھر سے شروع کرو۔
  • اور پھرنا سے صیغہ امر ہے ؏

ہر پھر کے دائرے ہی میں رکھتا ہوں میں قدم

  • کبھی اسم ظرف کے معنی پر بولتے ہیں جیسے یہ سب روپیہ ختم ہو جائے گا تو پھر کیا ہوگا۔ یعنی اس کے بعد کیا ہوگا۔

غرض

کبھی فائدہ کا ف بیانیہ کا دیتا ہے:

فرشتہ کبھی ہے کبھی جانور
غرض آدمی طرفہ معجون ہے

یعنی کہ آدمی بھی طرفہ معجون ہے۔

کبھی اسم نکرہ بن کر مقصد کے معنی دیتا ہے۔ جیسے اپنی غرض بیان کرو۔ تمہاری غرض اس بیان سے کیا ہے۔

کبھی حاجت کے معنی پر بولا جاتا ہے۔ جیسے غرض بری بلا ہوتی ہے۔ ہماری اُن سے غرض اٹکی ہے۔

کبھی کام کے معنی پر آتی ہے۔ جیسے ہم کو تم سے کیا غرض یعنی کیا کام۔ بعض موقع پر غرضکہ الغرض بھی بولتے ہیں۔

 کہاں

حرف نفی کے معنی دیتا ہے جیسے ؏

دل بیتاب یہ کہتا ہے مجھے تاب کہاں

میرے پاس اس قدر دولت کہاں ہے۔

اور کبھی ظرف مکان کے معنی دیتا ہے جیسے تم کہاں جاتے ہو۔ یعنی کس جگہ جاتے ہو۔

اپنا

ضمیر مضاف ہے، جو ضمیر یا حرف اشارہ لازمی کے ساتھ یا ضمیر فاعلی کے ساتھ آتی ہے۔ ضمیر مضاف مفعولی کے ساتھ بولنا غلط ہے۔ ایسی غلطی اکثر لوگ کر جاتے ہیں۔ اس کی تکرار بھی جائز ہے۔ جیسے:

اپنا اپنا یہ نصیبہ ہے اجارا کیا ہے
خالِ رُخ اس کو، مجھے داغِ جگر ہاتھ لگے

اپنی اپنی گور اپنی اپنی منزل۔ میں اپنے آپ آیا۔ وہ اپنا خون جگر کھاتا ہے۔ تم نے اپنے بھائی کی قدر نہ کی۔

کبھی ضمیر کے بدلے اسم کے ساتھ بھی بولتے ہیں۔ رستم اپنے بھائی کو دشمن سمجھتا ہے۔

؏ سمجھا تھا تری زلف کو یہ مرغ دل اپنا

اپنا خود ضمیر مضاف مفعولی ہے۔ اس لیے اس کو ضمیر مضاف مفعولی کے ساتھ ملا کر بولنا خطا ہے۔ جیسے میرا اپنا بھائی کھوگیا۔ تیرا اپنا مکان کیا ہوا۔ اس کا اپنا روپیہ برباد ہو گیا۔ اس کو اِس طرح بولنا چاہیے۔ میرا بھائی کھوگیا۔ تیرا مکان کیا ہوا۔ اس کا روپیہ برباد ہوگیا۔

صلوں کا بیان

ہر ایک اسم چند الفاظ کے ساتھ مستعمل ہوتا ہے۔ اصطلاحِ فصحا میں ان افعال کو “صلہ” کہتے ہیں۔ بعض صلے تو روزمرہ میں داخل ہیں جیسے روٹی کھانا، پانی پینا، کپڑے پہننا اور بعض اصطلاح بن گئے ہیں جیسے تصویر بنانا کو لوگ تصویر کھینچنا بولتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصطلاحاً کھینچنا کو بنانا کے معنی پر استعمال کیا ہے۔ لغت میں کھینچنا کے معنی بنانا کے نہیں ہیں۔ کھینچنا کے معنی پر رعایتاً لے لیا ہے اور خاص سے عام تک اسی طرح بولنے لگے۔ اس لیےان نئے معنوں کا نام “اصطلاحی معنی” رکھا گیا۔

اصطلاح کے ساتھ جو جملہ آتا ہے اُس کو “مُحاوَرَہ” کہتے ہیں۔ محاورے کے پہچاننے کا عمدہ قاعدہ یہی ہے کہ ہم جملے کے فعل کو دیکھیں۔ اگر فعل اپنے لغوی معنی پر صرف نہیں ہوا ہے اور کسی دوسرے فعل کے معنی پر بولا گیا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قطعی محاورہ ہے۔ شاذ و نادر محاورے ایسے ہیں جن کے فعل اپنے لغوی معنی میں صرف ہوئے ہیں، لیکن ان میں ایک قصہ طلب بات پوشیدہ رہتی ہے۔ جیسے اس کا مارا پانی نہیں مانگتا۔ اس کے لفظوں کے لغوی معنی تو یہ ہوئے کہ اس کا مارا ہوا آدمی پانی طلب نہیں کرتا۔ مگر اس میں ایک پوشیدہ معنی ہیں جس کے سبب سے سب لوگ اُسے محاورہ کہتے ہیں۔ یعنی قیاس یہ کہتا ہے کہ جب آدمی کی حالتِ نزع ہوتی ہے اور دم نکلنے لگتا ہے تو اُسے اس وقت بہت پیاس معلوم ہوتی ہے اور پانی مانگتا ہے۔ یہاں پر پانی مانگنا دم نکلنے کے وقت پانی مانگنا کے معنوں میں صرف ہوا ہے۔ اِس سے ہم اِس کو مُحاورہ کہتے ہیں۔ اس جملے کے پورے معنی یہ ہوئے کہ جس کو وہ مارتا ہے وہ فوراً مر جاتا ہے۔ اُسے اتنی بھی مہلت نہیں کہ دم نکلنے کے وقت پانی مانگے۔ اس بیان سے معلوم ہوا کہ محاورے کی پہچان یہ ہے کہ اُس کے افعال اپنے لغوی معنی میں نہ ہوں اور اصطلاحی معنی میں صرف ہوئے ہوں، اور اگر لغوی معنی میں صرف ہوئے ہوں تو وضاحت معنوی اور تاویل میں لغوی معنی سے کچھ زیادہ ہوں۔ اس لیے محاورے کے پہچاننے کے لیے افعال کے اصطلاحی معنی کا جاننا ضروری ہے۔ اور یہ افعال جب ایک اسم سے مل کر اپنے نئے معنی مستعمل ہوتے ہیں تو ان کو صلہ کہتے ہیں۔ حقیقت میں صلے محاورے کی بنیاد ہیں۔

قاعدہ: بعض صلے اِسم کے ساتھ مل کر اسم صفت بن جاتے ہیں اور وہ بھی محاورے میں داخل ہیں۔ جیسے آنکھ لگنا مصدر مرکب ہے۔ اس کے معنی اصطلاحی سونا ہیں۔ میری ابھی آنکھ لگ گئی تھی کہ تم نے جگا دیا۔ رات بھر آنکھ سے آنکھ نہ لگنے پائی۔ بیمار کی ذرا آنکھ لگ جائے تو صحت کی نشانی ہے۔ بچہ آنکھ لگتے ہی چونک پڑا۔ اتنا شوروغل تھا کہ آنکھ لگنا مشکل ہوگیا۔ آنکھ لگا مرد آنکھ لگی عورت اسم صفت ہے۔ مرد و عورت موصوف ہیں۔ اس کے معنی آشنا کے ہیں۔ یعنی ناجائز واسطہ جو شادی بیاہ سے نہ ہو۔ بلکہ محض آشنائی سے ہو۔

ہاتھ لگنا مصدر لازم ہے۔ اس کے معنی لغوی چھوجانا کے ہیں۔ دیکھو خبردار ہاتھ نہ لگنے پائے، نہیں تو تصویر کا روغن اڑ جائے گا۔ محاورے میں اس کے معنی دستیاب ہونا کے ہیں۔ کوئی اصیل مرغ ہاتھ لگے تو ہم کو دکھانا۔ رونے لگنا بھی محاورہ ہے، اس کے معنی رونا شروع کرنا۔ باپ کے مرنے کا حال سنا تو بیٹا زار زار رونے لگا۔

کانٹا لگنا: کانٹے کا بھنک جانا۔ چلتے چلتے پاؤں میں اس زور سے کانٹا لگا کہ وہ اف کر کے بیٹھ گیا۔

روٹیاں لگنا: بے پروائی کرنا۔ اب ایسی روٹیاں لگیں کام کرنے سے جی چُراتے ہو۔

چوری لگنا: چوری کا الزام اپنے اوپر عائد ہونا۔ ہم پہلے سے جانتے تھے کہ ایک دن چوری ضرور لگے گی۔

چھت سے آنکھیں لگنا: مرنے کے قریب ہونا۔ چار دن کے بخار میں چھت سے آنکھیں لگ گئیں۔

چارپائی سے لگنا: بیمار پڑنا۔ رات دن کی سوختی نے چارپائی سے لگا دیا۔

شروع ہونا کے معنی پر جیسے آج سے منگل لگا ہے۔ کل سے بدھ لگے گا۔

پانی لگنا: پانی کا نقصان کرنا۔ ریخیں کھل گئی ہیں۔ اس سبب سے دانتوں میں پانی لگتا ہے۔ کلکتہ کا پانی لگ گیا تو بیمار ہو کر گھر چلا آیا۔

گرمی لگنا: گرمی معلوم ہونا۔ مجھے گرمی بہت لگتی ہے۔

بُرا لگنا: بُرا معلوم ہونا۔ میں نے جو کہا تو بہت برا لگا۔

دھبّا لگنا: الزام آنا، دامن آبرو پہ دھبّا لگ گیا۔ آپ کا کیا گیا، ہماری عزت میں دھبا لگ گیا۔

مُنہ لگنا: برابری کرنا۔ میرے منہ نہ لگو ورنہ ساری آبرو خاک میں ملا دوں گا۔

بھوک لگنا: اشتہائے طعام معلوم ہونا۔ کہنے لگا مجھے تو اس وقت شدت سے بھوک لگی ہے۔

ٹھٹھ لگنا: بھیڑ ہونا۔ میلے میں آدمیوں کا ٹھٹھ لگا ہوا تھا۔

چھٹنا مصدر لازم ہے رِہا ہونے کے معنی پر۔ اور چھوٹنا بھی اسی معنی پر مصدر لازم ہے۔ اصطلاح میں اُس کے معنی اور بھی ہیں جیسے نبضیں چھٹنا، نبض کی حرکت بند ہونا:

نبض میری دیکھ کر نبضیں طبیبوں کی چھٹیں
بے مرض مرنے لگے کیونکر یہ حکمت کے خلاف

انار چھٹنا : آتشبازی کے انار کا جلنا۔ رات کو انار چھٹا تو وہ ڈر گیا۔

نوکری چھٹنا: برطرف ہونا، معزول ہونا۔ برسوں کی نوکری بات کی بات میں چُھٹ گئی۔

جان چھٹنا: جان بچنا۔ اس مرض سے جان چھٹتے معلوم نہیں ہوتی۔

سستے چھٹنا: معاملے کا بہ آسانی طے ہونا۔ دو چار روپے دے دلاکر جان بچ جائے تو سمجھیں کہ سستے چھٹے۔

طوطے چھٹنا: حواس جاتے رہنا۔ یہ خبر سنتے ہی اُس کے ہاتھوں کے طوطے چھٹ گئے۔

قاعدہ: محاورہ اور کنایہ میں فرق ہوتا ہے۔ محاورے میں مصدر کے اصطلاحی معنی لیے جاتے ہیں اور کنایہ میں نہ اصطلاحی معنی ہوتے نہ لغوی۔ بلکہ ان کا مطلب لفظوں کے خلا ف ہوتا ہے۔ جیسے اُلٹنا کے معنی اُلٹا کرنے کے ہیں۔ آستین الٹنا، اس کے لغوی معنی آستین کو الٹنا یعنی الٹا کرنے کے ہیں۔ لیکن کنایہ میں مراد ہے لڑائی کے لیے مستعد ہونے سے۔ وہ تو بات بات پر آستین الٹنے لگتا ہے یعنی جنگ کے لیے مستعد ہو جاتا ہے:

منظور عاشقوں کا اگر امتحان ہے
پھر دیر کیا ہے میان سے لے آستین اُلٹ

اٹھنا: کھڑا ہونا۔ مصدر لازم ہے، میں اٹھا تو وہ بھی اٹھے۔

اچار اٹھنا: اچار کا پک جانا۔ تیار ہوجانا۔ دھوپ دکھانے سے چار دن میں اچار اٹھتا ہے۔

اٹھنا: رونے لگنا۔ جب ماں یاد آتی ہے تو بچہ رو اٹھتا ہے۔

گھبرا اٹھنا: گھبرا جانا۔ جب کام کرتے کرتے دل گھبرا اٹھتا ہے تو دو گھڑی باغ میں ٹہلنے نکل جاتا ہوں۔

قیمت اٹھنا: دام لگنا۔ بازار میں جو قیمت اٹھے وہ میں بھی دوں گا۔

آنکھیں اٹھنا: آنکھوں میں درد ہونا۔ مرزا کی کل سے آنکھیں اٹھی ہیں۔

پھوڑنا مصدر متعدی ہے۔ اس کے معنی توڑنا کے ہیں۔ احمد نے رات کو رستم کا سر لکڑی سے پھوڑ ڈالا۔ لیکن محاورے میں اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔ جیسے کلّو نے للّو کا بھانڈا پھوڑ دیا یعنی راز فاش کردیا۔ میں نے لاکھ سر پھوڑا، اس نے ایک نہ مانی۔ یعنی میں نے بہت سمجھایا۔

بٹھانا متعدی ہے ؏

محفل میں مجھے رات کو یاروں نے بٹھایا

قرق بٹھانا: رعب بٹھانا، حکومت کرنا کے معنی پر بولتے ہیں۔ وہ حق ناحق اپنا قرق بٹھاتے ہیں۔

گٹا بٹھانا: گٹا جوڑنا۔ کمان گَرنے دم بھر میں گٹا بٹھا دیا۔

گھر بٹھانا: کسی کو گھر میں ڈال لینا۔ راجہ نے ایک بازاری عورت کو گھر بٹھایا۔

کرنا متعدی ہے۔ اس کے ساتھ تمام فارسی عربی الفاظ یا افعال مل کر مصدر متعدی بن جاتے ہیں۔ جیسے قبول کرنا، معلوم کرنا، گفتگو کرنا۔ لیکن بعض موقع پر کرنا کے معنی بدل جاتے ہیں۔ جیسے کان میں قُو کرنا۔

لڑکے نے چار دن میں اپنے کپڑے گو کر دیے، یعنی میلے کردیے۔ میں نے کہا ذرا پھونک ڈال دیجیے، آپ نے دور سے چھو کردیا یعنی پھونک ڈال دیا۔ رات کو چاروں قل پڑھ کر اپنے اوپر دم کیے یعنی پھونکے۔

تم نے میرے بچے کو ناحق شل کیا یعنی تھکایا۔

کلیل کرنا: جانور کا خوش ہو کر کودنا۔ بچھڑا کھیت میں کلیل کررہا تھا۔

جب یہ معلوم ہوچکا کہ اکثر صلوں سے محاورے بنتے ہیں اور صلہ ہمیشہ لغوی معنی کو چھوڑ کر اصطلاحی معنی میں صرف ہوتا ہے، ہم اب بعض مخصوص صلوں کے جملے لکھتے ہیں:

ڈھڈھانا: ہوا ہونا۔ ہر درخت ڈھڈھارہا تھا۔

منھ سے پھوٹنا: بولنا۔ کچھ تم بھی منھ سے پھوٹو۔

ناک چنے چبوانا: پریشان کرنا۔ برسوں اس نے ناک چنے چنوائے۔ میں نے منھ سے اف نہیں کی۔

پاؤں کی بیڑی کٹ جانا: بے فکر ہوجانا، آزاد ہوجانا۔ ایک بڈھا باپ باقی تھا۔ جب اس کا بھی انتقال ہو گیا تو پاوں کی بیڑی کٹ گئی۔

انگلیوں پر نچانا: ہنسنا بنانا۔ کل کے لونڈے اسے انگلیوں پر نچاتے ہیں۔

نہٹا لگنا: ناخن چبھنا۔ ہنسی ہنسی میں ناک پر نہٹا لگ گیا۔

اجیرن ہونا: دوبھر ہونا۔ دو دن کی زندگی اجیرن ہوگئی۔

ایڑیاں رگڑنا: مصیبت جھیلنا۔ نوکری کے واسطے اس نے برسوں ایڑیاں رگڑیں۔

کوڑی پھرنا: صلاح ہونا۔ شہر کے سوداگروں میں کوڑی پھر گئی کہ ان سے معاملہ نہ کرو۔ میں نے جھٹ بمبئی کو آڈر بھیج دیا۔

دیکھ بھال کرنا: جانچ لینا۔ اپنے اسباب کی دیکھ بھال کر لو۔

سر اٹھانا: غرور کرنا۔ جس نے سر اٹھایا، اُس نے نیچا دیکھا۔

دانوں میں پُھکنا: پھنسیوں کا بدن پر نکل آنا۔ بچہ سر سے پیر تک دانوں میں پھکا ہے۔

سر میں دھمک ہونا: سر میں درد ہونا۔ رات سے میرے سر میں دھمک ہوتی ہے۔

کوپل بھوٹنا: کوپل کا نکلنا۔ کوپل پھوٹنے کے پیشتر ہی سے پودے آپس میں ملتے رہے ہیں۔

بہرہ مند ہونا: فائدہ اٹھانا۔ اگر ہم سامعۂ باطنی سے بہرہ مند ہیں تو ہمیں وہ تمام مظہر دکھا دیے جائیں گے۔

نشر ہونا: بدنام ہونا ۔ ایسی باتوں سے سارے عالم میں نشر ہو جاؤ گے۔ پھر کوئی بات نہ پوچھے گا۔

ٹالے بالے دینا: برسوں ٹالے بالے دیا کیے۔

اظہار دینا: اپنا حال عدالت میں یا پولس میں ظاہر کرنا۔ جو اظہار پولیس میں دیے تھے وہی عدالت میں بھی دیے۔

حواس باختہ ہونا: حواس جاتے رہنا۔ یہ سن کر میرے حواس باختہ ہوگئے۔

آبرو بیچنا: آبرو ضائع کرنا۔ آبرو بیچ کے ٹکڑا فقرا لیتے ہیں۔

منھ آنا: برا کہنا ؏

اب تو ہر بات میں منھ آتے ہو مجھ پر ایسا
لوگ دانتوں میں زباں اپنی دبا لیتے ہیں

پیش قدمی کرنا: شروع کرنا، آگے جانا ؏

پیش قدمی رفقا کر گئے تو کیا غم ہے

اندھیر کرنا: زبردستی کرنا، ظلم کرنا، لوٹنا۔ اتنا اندھیر نہ کرو، دال میں نمک کھایا کرو:

مشک کافور خجالت سے ہوا جاتا ہے
اتنا اندھیر نہ گیسوئے سیہ فام کریں

ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں: بیکار ہیں، آج کل ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔

وردی بولنا: دلیل کرنا۔ خلاف وقت نوکری لینا:

کیا رموزِ عشق کہتا میں فرشتے ساتھ تھے
بحر وردی کل یہ ہرکارے مقرر بولتے

پاؤں سوجنا: پاؤں کا سُن ہوجانا۔ سوجائیں اگر پاؤں تو راحت نہیں ہوتی۔

پالا پڑنا: سابقہ پڑنا، معاملہ ہونا۔ ابھی ان کو مجھ سے پالا نہیں پڑا، ورنہ سب تین پانچ بھول جاتے۔

پھٹ پڑنا: ٹوٹ جانا۔ کل ایسی آندھی آئی تھی کہ صدہا درخت پھٹ پڑے۔

موس لینا: چُرا لینا، لوٹ لینا۔ دوستوں نے مل کر مجھے موس لیا۔

اداسی ٹپکنا: مایوسی ظاہر ہونا۔ درودیوار سے اداسی ٹپک رہی تھی۔

پرندہ پر نہیں مار سکتا: یعنی کوئی نہیں آسکتا۔ رات دن پہرہ رہتا ہے، پرندہ پر نہیں مار سکتا۔

دور دورا ہونا: عروج ہونا۔ آج کل سرکار میں خاں صاحب کا بہت دور دورا ہے۔

پھوٹ پھوٹ کے رونا: زار زار رونا۔ اتنا کہنے پر وہ خوب پھوٹ پھوٹ کے رویا۔

آنکھ سے گرجانا: حقیر ہوجانا۔ ایسی باتیں کروگے تو دنیا کی آنکھ سے گر جاؤگے۔

اپنی ٹکر کا سمجھنا: اپنے برابر کا سمجھنا۔ کیا مجھے اپنی ٹکر کا سمجھ لیا ہے۔

کبھی تو میری انٹی پر چڑھوگے یعنی قابو میں آؤگے۔

میں تو ان کا دوست ہوں لیکن وہ ہمیشہ میری جڑ کاٹا کیے۔ یعنی مجھ کو نقصان پہونچایا کیے۔

دونوں کبوتر دم بھر میں تارا ہو گئے یعنی بلند ہوگئے۔

آدھی رات کو چراغ گل ہو گیا یعنی بجھ گیا۔

طلبا کو مَطب میں تین برس تک حکیم صاحب کی چلمیں بھرنا پڑتی ہیں یعنی خدمت کرنا پڑتی ہے۔

میرے کہنے سے کیوں مرچیں لگتی ہیں یعنی کیوں بُرا معلوم ہوتا ہے۔

نواب صاحب کی آنکھ بند ہونے کے بعد گھرتباہ ہو جائے گا یعنی مرنے کے بعد۔

ناک چوٹی میں گرفتار ہونا: وہ خود اپنی ناک چوٹی میں گرفتار ہے یعنی اپنے بچوں سے فراغت نہیں۔

ان لگنا: پچنا، ہضم ہونا۔ کیسی ہی نعمت کھاؤ، اَن نہیں لگتی۔

کٹ جانا: گزر جانا۔ سارا دن کٹ گیا اور تم نہ آئے۔

دَرّانہ جانا: نڈر جانا:

لحد میں مہمانِ دہر یوں جاتے ہیں درّانہ
مکان میں اپنے جیسے کوئی صاحب خانہ آتا ہے

قدم لینا: قدم چومنا۔ تم نے وہ کام کیا ہے کہ تمہارے قدم لے۔

کام چلنا: کام نکلنا۔ ان سے کسی کا کام نہیں چلتا۔

آڑے آنا: کام آنا۔ میرے آڑے تیری رحمت آئی۔

چوٹ آنا: چوٹ لگنا۔ کوٹھے سے گر پڑا، ٹانگ میں بہت چوٹ آئی۔

جھرمٹ کرنا: بھیڑ لگانا۔ جُھرمُٹ درِمیخانہ پہ میخوار کریں گے۔

سری ٹیک کرنا: خوشامد کرنا۔ ان کو غرض ہو گی تو سودفعہ سری ٹیک کریں گے۔

انگشت نما ہونا: بدنام ہونا۔ ایسے کام کیے کہ ساری دنیا میں انگشت نما ہوا۔

لاسخن سنانا: سخت بات کہنا:

الٰہی یہ کیسا بت بے دہن ہے
سناتا ہر اک بات پر لاسخن ہے

آواز بیٹھ جانا: آواز بند ہو جانا۔ چیختے چیختے آواز بیٹھ گئی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔

کج ادائی کرنا: بے مروتی کرنا۔ اب تو بات بات پر وہ کج ادائی کرتے ہیں۔

خود بین ہونا: مغرور ہونا۔ وہ بڑا خود بین ہے۔

اصلاح زبان

اب ہم الفاظ کے غلط استعمال کا بیان کر کے ان کی اصلاح کرتے ہیں، جو آج کل ہندوستان کے مشرقی اور مغربی ملکوں میں بسبب ناواقفیت استعمال کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو الفاظ کی صحت نہیں ہے۔ اس سبب سے وہ غلط بولنے پر مجبور ہیں۔

مغرب ہند کے الفاظ اور جملے

پوتے کی شادی سے دادے کی عمردراز۔ دادے غلط استعمال ہے، فصحا دادا بولتے ہیں۔

ذرا انصاف سے کہیو خدا لگتی۔ کہیو غلط ہے۔ اس طرح بولنا چاہیے۔ ذرا انصاف سے خدا لگتی کہنا۔

آپ ایک سے زیادہ انعامات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس جملے کی ترکیب اور محاورہ غلط ہے۔ اس طرح بولنا چاہیے، آپ کئی انعام بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

ان انعامات کے دینے سے کیا مراد ہے۔ دینے سے زائد اور بے کار ہے۔ اِس کو “حشوِ قبیح” کہتے ہیں۔ اس طرح بولنا چاہیے، ان انعامات سے کیا مراد ہے۔

بواسیر کس طرح پیدا ہوتا ہے۔ بواسیر مونث ہے۔ بواسیر کس طرح پیدا ہوتی ہے، بولنا چاہیے۔

دانٹ خلال غلط ہے۔ خلال دندان یا دانتوں کا خلال بولنا چاہیے۔

کارخانہ عطریات و روغنیات، یہ بھی غلط ہے۔ اردو کا قاعدہ ہے کہ مفرد لفظ بجائے جمع مستعمل ہوتا ہے۔ جیسے آدمی تھے، چور تھے، نوکر تھے۔ ان کے بے قاعدہ جمع بنانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے ہی عطر روغن مفرد بجائے جمع بول سکتے ہیں۔ ان کو بے قاعدہ جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کافی ہے کہ کارخانہ عطر و روغن۔

پشیمانی ہوئی ایسی انہیں فرط ندامت سے
کہے کلمات سخت و سست آزردہ طبیعت ہے

دوسرے مصرع میں آزردہ طبیعت غلط ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ صفت جب اپنے موصوف کے ساتھ آتی ہے اور موصوف صفت مل کر فاعل کی صفت بنجاتے ہیں، اس وقت “سے” کا استعمال مخصوص مفعول کے لیے فاعل کے ساتھ ناجائز ہے۔ کیونکہ یہاں صفت خود جزوِ فاعل ہے۔ جیسے میں نے آزردہ دل سے کہا۔ ا س کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ میں نے اپنے دل سے کہا جو آزردہ تھا۔ لیکن یہ مطلب نہیں ہو سکتا ہے کہ میرا دل جو آزردہ تھا اس نے کہا۔ اس کو اس طرح بولنا چاہیے، میں نے آزردہ دل ہو کر کہا۔ کلمات سخت میں نے آزردہ ہو کر کہے۔ یہی ثقاتِ لکھنؤ کا فیصلہ ہے۔

برطانیہ کلاں اور ممالک غیر کے پولٹیکل حلقوں میں یہ یقین پھیلایا گیا ہے کہ ہندو مسلمان ہمیشہ سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ یقین پھیلایا گیا ہے غلط محاورہ ہے۔ یقین دلایا گیا ہے بولنا چاہیے۔

اس آدمی نے پوچھا تم کیا لوگے۔ پنڈت صاحب نے جواب دیا، جو آپ دوگے۔ آپ دوگے خلافِ محاورہ ہے۔ جو آپ دیں گے یا جو تم دوگے بولنا چاہیے۔

کوڑی کی چیز ریٹھ سے بہت مرضوں کا علاج، ریٹھ غلط ہے، ریٹھا۔

مسجد متصل مطبع رفاہ عام کا بھی امام پکڑا گیا۔ بھی حرف تاکید ہے، اسم سے پہلے اِس کا بولنا ناجائز ہے۔ اس طرح کہنا چاہیے، امام بھی پکڑا گیا۔

اگر گورنمنٹ نے قانون وضع کردینے پر ہی اکتفا کر رکھا ہوتا، خلاف محاورہ ہے۔ قانون وضع کردینے پر ہی اکتفا کیا ہوتا۔

مسلم لیگ کے بعض تقاروں نے نہایت جوش و خروش سے یہ بیان کیا، تقار غلط ہے۔ مقرروں نے چاہیے۔

اسی شخص سے سال دو سال بعد آپ کی دشمنی ہو جائے گی۔ آپ کی دشمنی غلط ہے۔ آپ سے دشمنی ہو جائے گی۔

مگر پھر آپس میں جوت پیزار پر اتر آتے ہیں۔ جوت پیزار غلط ہے۔ جوتی پیزار۔

میرے دو اپنے خاص مہربان دوست ہیں۔ غلط، میرے خاص مہربان دو دوست ہیں۔

بیٹھے بٹھائے ان کو روزگار کا خبط ہوآیا۔ غلط ہے۔ روزگار کا خبط ہوگیا۔

آپ ایک سولہ صفحہ کی کاپی بنالو۔ غلط ہے۔ آپ ایک سولہ صفحہ کی کاپی بنالیں۔

چند ایسے اصحاب جنہوں نے اسٹیشن پر اترنا تھا۔ غلط ہے۔ چند اصحاب جن کو اسٹیشن پر اترنا تھا۔

اور نیک و بد روح بھی شفایاب ہو کر پرواز کرگئیں۔ روح مونث واحد ہے۔ مونث لفظ کو واحد بولنا اور جمع مراد لینا ناجائز ہے، اس لیے روحیں بولنا چاہیے۔

مجھ پر ہر طرف سے حیرانگی کا عالم طاری ہے۔ حیرانگی غلط ہے، حیرانی بولنا چاہیے۔

خواب میں یا بیداری میں مَیں تو ہکی بکی رہ گئی ہوں۔ ہکی بکی غلط ہے،ہکا بکا چاہیے۔

تمام بڑے شہروں میں چلت حساب بلا کسی اجرت کے رکھا جاتا ہے۔ چلت حساب غلط ہے، چلتا حساب صحیح ہے۔

تقریباً ١٥٠ اخباریں مختلف قسم کی پڑھنے کے لیے رکھنے کی کوشش کی جاری ہے۔ اخبار لفظ مذکر ہے۔ جمع کی حالت میں بھی واحد استعمال ہوتا ہے۔ اس کو ین سے جمع کر کے مونث بنانا غلط ہے۔

مشرق ہند کے غلط الفاظ اور جملے

پتھر پر تھوک پھیکے اور ان کا دل دکھے، تھوک پھینکنا خلاف روزمرہ ہے۔ تھوکنا فصیح ہے۔

اس ملک سے خاص اردو زبان میں کوئی ایسی تصنیف نہیں نکلی کہ مصنفوں کی اس پر آنکھیں اٹھ جاتیں۔ آنکھیں اٹھ جانا خلاف محاورہ ہے۔ نظریں پڑتیں بولنا چاہیے۔

اس کی اطاعت اور فرماں برداری سے جہاز کے اہل خدمت کو سرتابی نہیں پہنچی۔ سرتابی پہنچنا خلاف محاورہ ہے۔ اس طرح بولنا چاہیے، اس کی اطاعت اور فرماں برداری سے جہاز کے اہل خدمت سرتابی نہیں کرتے۔

کل سے میرا لڑکا بدمزہ ہے۔ اور اس سے مطلب یہ ہے کہ کل سے میرا لڑکا بیمار ہے۔ اول تو بدمزہ اسم صفت ہے۔ اس کا موصوف لڑکا نہیں ہو سکتا۔ دوسرے یہ کہ یہ محاورہ اس طرح نہیں ہے، یوں بولنا چاہیے۔ کل سے میرے لڑکے کی طبیعت بدمزہ ہے۔ طبیعت بدمزہ ہونا محاورہ ہے یعنی ناساز ہے۔

بشرطیکہ وہ دھیان دے کرمیری بات سنیں۔ دھیان دیکر محاورہ نہیں ہے۔ دھیان رکھ کر بولتے ہیں۔

اور قانون قدرت میں کوئی دفعہ ایسا نہیں ہے۔ دفعہ مونث ہے۔ کوئی دفعہ ایسی نہیں ہے۔

جب شیر شاہ نے صوبہ بہار کو قبضہ کرلیا۔ اس میں کو غلط ہے۔ صوبہ بہار پر قبضہ کرنا بولنا چاہیے۔

نیم کے درخت کی نمولیاں گرادیتے تھے۔ غیر فصیح جملہ ہے۔ نیم کے درخت کی نیمکولیاں گرادیتے تھے۔

آخر میں سند کے لیے لکھنؤ جا کر تقی میر کو اپنا کلام دکھایا۔ مشرقی ہند کا خاصہ یہ ہے کہ وہ ناموں کو تعقید سے استعمال کرتا ہے۔ یہ میر تقی کی خرابی ہے، تقی میر لکھا گیا۔

امتداد زمانہ نے ان کے سوانحات عمری کا آئینہ بنا کر۔ سوانحات جمع الجمع ہے۔ ایسے الفاظ اردو میں اب متروک ہو گئے ہیں۔ سوانح عمری بولنا چاہیے۔

ا ن کے کمال میں ہرج ڈالنے کا قصد کیا۔ ہراج ڈالنا محاورہ نہیں ہے۔ ایسے موقع پر خلل ڈالنا بولنا چاہیے۔ ہرج ہمیشہ کرنا کے ساتھ بولا جاتا ہے اور قیاس بھی اس کو مقتضی ہے کہ علامت مفعول ہے۔ علامت مضاف نہیں ہے اور جملہ مضاف الیہ و مضاف واقع ہوا ہے۔ اس لیے اسی کا مقتضی بولنا چاہیے۔

جب تک عام خلقت کو اس طرف خیال نہ ہو، یہ بھی غلط ہے۔ جب تک عام خلقت کا اس طرف خیال نہ ہو۔ یا عام خلقت کو اس طرف رغبت نہ ہو بولنا چاہیے۔

ذرہ بھر کمی بیشی کا اس میں دخل ممکن نہ تھا۔ یا ذرہ بھر کمی بیشی کو اس میں دخل ممکن نہ تھا۔

نوکروں کو بھی یوں ہی بتا بتا کر عادت دو۔ عادت دینا خلاف محاوری ہے۔ عادت ڈالو بولنا چاہیے۔

کچھ دنوں تقلید سے کام لو اور اسی قدم چلو جس قدم فصیح لوگ چلتے، بالکل غیر فصیح ہے۔ وہی قدم چلو جو فصیح لوگ چلتے ہیں بولنا چاہیے۔

جن کی پوری توجہ فوائد عام کی طرف معلوم ہوتی ہو۔ توجہ معلوم ہونا خلاف محاورہ ہے۔ جن کی پوری توجہ فائدہ عام کی طرف ہو

طرز یاران طریقت نہ فراموش رہا۔ اس میں رہا غیر فصیح ہے، ہوا لکھنا چاہیے۔

جب قریش باخود ہا میں ملاقات کرتے ہیں تو خوش اور مسرور ہوتے ہیں۔ باخودہا میں غلط ہے، صرف باخودہا چاہیے۔

تم کب آئے۔ رات آئے۔ ایسے جملے کا استعمال بہت ہے۔ خصوصاً مشرقِ ہند میں، عموماً ہند میں۔ مگر فصحائے حال اس سے احتیاط کرتے ہیں۔ سبب یہ ہے کہ رات ظرف مکان ہے اور مفعول فیہ ہے۔ اُس کی علامت (کو) حذف کر دی جاتی ہے۔ لیکن اس میں نقص یہ واقع ہوتا ہے کہ یہ جملہ ایک فعل مضارع کا شبہ پیدا کرتا ہے۔ جیسے رات آئے تو ہم سفر کریں۔ رات آئے تو داستان شروع ہو۔

اور حقیقت میں متکلم کی غرض فعل ماضی ہے۔ اس لیے رات آئے بولنا اور اس سے فعل ماضی مراد لینا خلاف قاعدہ ہے۔

بہتر یہ ہے کہ ایسے موقع پر علامت بولیں تاکہ سامع کو سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ یعنی رات کو آئے کہیں اور مضارع کے محل پر رات آئے بولیں جس میں دونوں کا فرق قائم رہے۔

اسی طرح دن آئے، شام آئے۔ ماضی کے معنی پر بغیر (کو) کے فصحا نہیں بولتے۔ دیر آئے بھی نہیں بولتے۔ دیر میں آئے یا دیر کو آئے بولتے ہیں۔ شہر آئے بھی نہیں بولتے۔ شہر میں آئے بولتے ہیں۔ سرائے آئے بھی نہیں۔ دوپہر آئے بھی نہیں بولتے۔ دوپہر کو آئے۔

اسم عدد کے ساتھ بھی بعض جگہ بغیر علامت بولنا ناجائز ہے۔ جیسے دوگھنٹے آئے، چار گھنٹے آئے۔ اِسے بھی دو گھنٹے میں، چار گھنٹے میں آئے۔ اور سحر آئے، صبح آئے بھی ناجائز ہے۔

لیکن بعض مفعول فیہ میں (کو) اور (میں) لانا غیر فصیح ہے۔ جیسے آج آئے، کل آئے، پرسوں آئے، دو بجے آئے، چار بجے آئے، اِس وقت آئے، اُس وقت آئے۔

اسی طرح عرصے میں آئے، مدت میں آئے، دنیا میں آئے۔ ان میں آئے لانا فصیح ہے۔

بعض ایسے ہیں جن کو دونوں طرح بولتے ہیں، جیسے گھر آئے اور گھر میں آئے۔ مکان آئے اور مکان میں آئے۔

فصحا جس جس مقام پر علامت کو حذف کردیتے ہیں وہی صحیح ہے اگرچہ قاعدہ کے خلاف ہے۔ کیونکہ محاورے میں قاعدے کی پابندی لازم نہیں ہے۔ اس میں اطاعتِ جمہور کرنا پڑتی ہے۔

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ