جوہرِ اخلاق

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

جوہرِ اخلاق

فہرست

آغازِ کتاب

یونانی قصہ گو ایسپ کی حکایات و نقلیات کا اردو ترجمہ

پہلی نقل

ایک روز کسی مرغ نے کسی گھورے پر چگتے میں ایک جواہر بیش قیمت دیکھا۔ افسوس سے ایک آہِ سرد بھر کر کہنے لگا کہ جوہری کے ہاں اس کی بہت قدر ہوتی لیکن میرے نزدیک ایک دانہ اناج کا اس سے ہزار درجے بہتر تھا۔

حاصل

جسے گندم و جَو سے ہووے سرور
نہیں کچھ اُسے لعل و گوہر ضرور
جو روٹی کا ٹکڑا ملے بھوک میں
تو معلوم ہو زر سے بہتر ہمیں

دوسری نقل

ایک مرغ اجل گرفتہ کسی گیدڑ کے پالے پڑا۔ ہر چند اپنا شکار دیکھ کے گیدڑ کا جی للچایا، پھر بھی اس نے فی الفور مرغ کو اس لیے نہیں چکھا تاکہ لوگ جانیں کہ دنیا میں اتنا ایمان اب تلک بھی باقی ہے۔ اس وقت حیلہ جوئی کر کے ایسے ڈھنگ پر وہ چلا کہ وہ بےچارا سیدھا جانور صاف اس کے دام میں آ گیا۔ یعنی اس نے مرغ سے کہا کہ تو بڑا بد ذات اور واجب القتل ہے، کیونکہ تو ساری رات چلاّ چلاّ کے آس پاس کے اشراف پڑوسیوں کا دم ناک میں لاتا ہے اور اس طرح لوگوں کو جگا رکھتا ہے کہ ہمارے ہم جنسوں کی معاش میں خلل واقع ہوتا ہے۔ بتلا تو کس کام کا ہے؟ کیا سبھوں کو حیران کرنے کے لیے تو پیدا ہوا ہے؟ مرغ نے جواب دیا کہ حضرت ! آپ نے کونسا ایسا قصور ٹھہرایا کہ بندے پر اتنا عتاب فرمایا؟ میں بانگ البتہ دیتا ہوں لیکن خواہ مخواہ اور بے وقت نہیں۔ بندہ آفتابِ عالم تاب کا نقیب ہے اور اس خسروِ گردوں سریر کی برآمد (کی خبر) دیتا ہے۔ سوا اس کے موذّنی کرتا ہوں اور نماز وظیفے کے لیے لوگوں کو جگا دیتا ہوں اور غریب غربا کو سحر کے وقت ہوشیار کرتا ہوں کہ اٹھو اپنے کاروبار میں جاؤ۔ علاوہ اس کے بندے کی بہت سی حرمیں ہیں ، جس روز جو کہ اپنی قسمت کی برائی سے میری صورت نہیں دیکھنے پاتی ، وہ بے چاری میری آواز سن کر خوش رہتی ہے۔

گیدڑ نے کہا: “بس بس تو اپنی زنا کاری کا اپنے منہ سے آپ اقرار کرتا ہے۔ اگر میرے ناشتے کا وقت نہ ہوتا تو تجھ کو مار ڈالنا شرعاً واجب تھا۔” یہ کہتے ہی گیدڑ نے اس کو اور اس کے قصے کو تمام کر دیا۔

حاصل

زبردست جب حیلہ جوئی پر آئے
نہ ہوئے ضعیف اس سے عہدہ بر آئے
مقابل ہو ظالم کے جب زیر دست
سمجھ نسبت مور با فیل مست

تیسری نقل

ایک سرچشمے پر ایک بھیڑیا پانی پی رہا تھا۔ اتفاقاً ایک بھیڑ کا بچہ اسی چشمے پر آیا، لیکن بھیڑیے سے بہت دور پانی پینے لگا۔ اسے دیکھتے ہی بھیڑیا دانت نکال کر دوڑا اور گالیاں دینے لگا کہ کیوں رے نابکار! جس پانی کو میں پیتا ہوں، تو اس کو جھوٹا اور گدلا کرتا ہے، کیا تیری کم بختی آئی ہے؟ یہ سنتے ہی بچے کے ہوش اور حواس اڑ گئے کہ یہ کیا بلا آئی۔ اُس نے جواب دیا کہ اتنے فاصلے پر میں نے پانی کو کس طرح سے گدلا کیا ہے؟ چونکہ بھیڑیے کا مطلب یہی تھا، اُس نے کہا “تو کیا بکتا ہے، کیا اپنے باپ کا احوال تو بھول گیا؟ چھ مہینے ہوئے کہ اسی طرح سے بڑوں سے گستاخی کے لیے اُس کی جان گئی۔ کیا اُسی طرح سے اپنی زندگی تجھ کو بھاری معلوم ہوتی ہے؟” بچے نے کہا۔“حضرت! بندے کی بات کو لغو نہ سمجھیے۔ چھ مہینے پہلے میں پیدا بھی نہ ہوا تھا، میں اس وقت کی کیا خبر رکھتا ہوں ؛ خیر جو باپ نے کیا باپ نے پایا، بیٹے کا کیا قصور؟” بھیڑیے نے کہا “تو پھر منہ لگتا ہے؛ لیکن تو کیا کرے، یہ نطفے کا اثر ہے اور ہم لوگوں سے ٹیڑھے ہو کر چلنا تیری قوم کی عادت ہے۔ تب تو صحیح جب تجھ سے ستّر پشت کا بدلہ لوں۔ اتنا کہہ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔

(بقایا متن افتادہ ہے)

حاصل

کسی کو نہ دنیا میں ہووے نصیب
کہ ظالم کے پالے پڑے وہ غریب
اگر پاس بے زور کے ہو دلیل
زبردست کے سامنے ہے ذلیل
نہیں ذی مروت جو خود کام ہے
کہ مطلب سے اپنے اُسے کام ہے

چوتھی نقل

ایک دفعہ چوہوں اور مینڈکوں میں جھیل اور تالاب کی ریاست کے لیے بڑی لڑائی ہوئی، اس واسطے کہ طرفین اپنے باپ دادا کی میراث اُسے قرار دیتے تھے۔ دونوں طرف کے دو پہلوانوں نے میدان لیا لیکن ان کی جنگ ہنوز تمام نہیں ہوئی تھی کہ ایک چیل جھپٹا مارتی ہوئی آئی اور دونوں کو چنگل میں لے کے اڑ گئی۔

حاصل

جو آپس میں لڑتے ہیں ناداں ہیں وہ
مگر اپنی دانش پہ نازاں ہیں وہ
کچہری میں بھرتے ہیں سب مال و زر
نہیں اپنے آگے کی رکھتے خبر
لڑائی میں کھو کر کے سرمایا سب
گدائی کریں گے برنج و تعب
یہ ثابت ہے عاقل پر اے نکتہ ور
جہاں میں نہیں پھوٹ سے بد ثمر

پانچویں نقل

ایک روز کسی شیر اور ریچھ نے باہم ہو کر ایک ہرن شکار کیا لیکن جب صید ہاتھ آیا، کسی کو برابر کا حصہ لینا منظور نہ ہوا، آخر آپس میں نقاض ہوا۔ یہاں تک دونوں لڑے کہ بے دم ہو کر گر پڑے ؛ نہ اس کو طاقت رہی نہ اس کو۔ اس میں ایک گیدڑ آن پہنچا۔ ان دونوں کا حال دیکھ کر اس نے کہا: “واہ واہ ! یہ اچھا شگوفہ پھولا، خیر میری قسمتوں سے مجھے یہ شکار ملا، میں کیوں اسے چھوڑ دوں”۔ یہ کہہ کر دونوں کی آنکھوں کے سامنے سے ہرن کو گھسیٹ کر لے گیا۔ شیر اور ریچھ ہاتھ پٹک کر رہ گئے اور یہ نہ کیا کہ دونوں کم بختوں نے آپس میں آدھوں آدھ بانٹ لیا۔ اس نے سب کا سبھی لے کر چل دیا۔

حاصل

جہاں چاہو اس کا کرو امتحاں
ہے آپس کے جھگڑے میں تم کو زیاں
کرو گے کچہری کا گر تم خیال
تو کھو بیٹھو گے ہاتھ کا اپنے مال
کچہری کے کتے جو ہیں سب نڈر
تمھیں نوچ کھائیں گے واں دیکھ کر
جسے بہتری اپنی منظور ہو
گرا دے وہ جھگڑوں کی دیوار کو

چھٹی نقل

ایک کتا منہ میں ٹکڑا گوشت کا لیے دریا کے پار ہوتا تھا، اپنا سایہ جو اس نے پانی میں دیکھا سمجھا کہ دوسر ا کتا اسی طرح سے گوشت لیے جاتا ہے۔ حرص کے مارے اس کا گوشت چھیننے کے ارادے سے جوں لپکا اس کے اپنے منہ میں جو تھا وہ بھی گر پڑا۔

حاصل

جہاں میں ہے لالچ کا بازار گرم
نہیں لالچی کو ہے لوگوں سے شرم
جو ہے لالچی، خوار ہوتا ہے وہ
کہ اپنی گرہ کا بھی کھوتا ہے وہ

ساتویں نقل

ایک شیر، ایک بھیڑیا، ایک ریچھ اور ایک گیدڑ باہم ایک ہوئے اور یہ اقرار کر کے شکار کو نکلے کہ جو صید ہاتھ آوے، آپس میں بانٹ لیویں۔ غرض ایک بارہ سنگھا ہرن شکار ہوا اور چار حصے کیا گیا۔ مگر جب اپنا ٹکڑا لینے کو سب چلے، شیر نے روکا اور کہا “سنو! پہلا حصہ میرا ہے اس لیے کہ میں تم سب سے بزرگ تر ہوں، اور دوسرا حصہ بھی میرا ہے کیونکہ میری ہی محنت سے ہرن ہاتھ آیا اور تیسرے حصے کی مجھ کو بڑی ضرورت ہے اُسے بھی خواہ مخواہ میں ہی لوں گا اور چوتھے حصے کو تم مجھ کو نذر نہیں دو گے تو میں دیکھ لوں گا کہ تم کیسے باپ کے بیٹے ہو”۔

تینوں یہ سن کر دم دبا کے چپکے وہاں سے سرک گئے۔

حاصل

توانا کا ساتھی نہ ہو زیر دست
کسی طرح کا وہ کرے بندوبست
کرے جو غریبوں سے قول و قرار
کہاں یاد پھر اس کا نکلا جو کار
غرض جب نہیں تم سے اے میری جان
نہیں تم پہ رہنے کا وہ مہربان
برابر سے اپنے کرو دوستی
کہ خواری نہ دیکھو گے اس میں کبھی
برابر سے اپنے کرو کاروبار
نہ پاؤ گے اس گل کو تم خار دار

آٹھویں نقل

ایک بھیڑیے کے گلے میں ہڈی اٹکی، ایک سارس کے پاس گیا اور کہا “بھائی تجھے لمبی چونچ اور گردن اللہ نے دی ہے، یہ ہڈی نکال دے۔ آرام پانے سے تجھے خوش کروں گا”۔ سارس نے ہڈی نکال دی اور قول و قرار کے موافق انعام مانگا۔ بھیڑیے نے آنکھ بدل کے کہا “کیسا انعام چاہتا ہے؟ واہ واہ کیا خوب! بھیڑیے کے منہ میں گردن دے کے پھر اسے ثابت پایا، اسی کو خیر نہیں جانتا ؛ چل کافور ہو۔ تیرا سر جو گردن پر برقرار ہے، اسی کو غنیمت جان”۔

حاصل

نہیں ہوگا ظالم کبھی یار جان
نہ ہوگی وفا اُس میں اے مہربان
اگر اس کے پالے پڑے تو کبھی
بغیر از ضرر تیری ہو مخلصی
دو گانا ادا کیجو تو شکر کا
کہ ظالم کے پنجے سے چھوٹا بھلا

نویں نقل

ایک دفعہ جاڑے کے موسم میں بڑی شدت سے برف گری۔ کوئی ایک دہقان گھر کے جو باہر ہوا، ایک سانپ کو دیکھا کہ پالے کا مارا پڑا ہوا ہے۔ اس موذی کے حال پر اس نادان کو رحم جو آیا اُسے اٹھا لیا۔ گرمی جو اس موذی کو پہنچی سلبگایا اور دہقان کی ہتھیلی میں کاٹ لیا۔ دہقان نے کہا : “اے کم بخت بے وفا! دوست اور دشمن کو نہیں پہچانتا، جس نے تجھ کو جِلایا اسی کو تو نے مارا”۔

حاصل

کبھو بے وفا سے نہ کر دوستی
کہ ہے دشمنی ساتھ اُس کے بھلی
جو موذی ہے ہوگا نہیں تجھ سے رام
بھلا اس کے حق میں ہے کرنا حرام

دسویں نقل

ایک گدھا شیر کا منہ چڑھانے اور اس سے تمسخر کرنے لگا۔ شیر کو غصہ جو آیا تو اس نے دانت دیکھلایا مگر آخر کچھ مسکرایا اور کہا کہ خیر خوش رہ مگر اپنا گدھا پن نہ چھوڑنا اور یاد رکھنا کہ تیری کم ظرفی نے آج تیری جان بچائی۔ اگر میرے غضب کے قابل تو ہوتا تو میں اسی وقت قیامت برپا کر دیتا۔

حاصل

جو سفلے کی باتیں کریں ہم خیال
بچانا ہمیں اپنا جی ہو وبال
ہیں سفلے کی باتیں جو سفلے کے ساتھ
امیر اُس میں ہرگز نہ دے اپنا ہاتھ
نہ ہوگا تو گالی سے اُس کی خفیف
نہ تعریف سے اُس کی ہوگا شریف

گیارھویں نقل

کسی گاؤں کے چوہے نے اپنے ایک شہری بھائی کی دعوت کی۔ گاؤں میں جو کچھ میسر ہوا جیسا کہ باسی روٹی کےسوکھے ٹکڑے اور پنیر کی کترن، اس نے حاضر کی۔ دونوں دسترخوان پر بیٹھے اور کھانے لگے۔ شہری چوہے کو اور ہی مزا پڑا ہوا تھا، اس طرح کی غذا اس نے کبھی نہیں کھائی تھی۔ ہر چند اس سے جی اس کا گھبرایا، مگر مارے لحاظ کے کچھ نہ کہا۔ غرض طعنے مانے میں اس نے کہا کہ ایسی سنسان جگہ میں رہنا اور اس طرح کی خوراک کھانا آپ کی شان سے باہر ہے۔

جب رخصت ہوا تو بدلا اُتارنے کو شہری چوہے نے ایک روز دہقانی بھائی کی دعوت کی اور اپنے ساتھ اُسے شہر کے ایک عالی شان مکان میں لے گیا۔ وہاں پہنچ کر شہری چوہے نے نعمت خانے میں اسے لے جا کر ایک سے ایک نعمت دکھلائی۔ بعد اس کے دالان میں جا کے میز پر کیا دیکھتے ہیں کہ اُسی رات کا بچا بچایا کھانا رکھا ہے۔ خوش ہو کر شہری چوہا اپنے بھائی کو ایک مخمل کے پلنگ پر بٹھلا کے نفیس نفیس چیزیں کھلانے لگا اور آپ بھی شریک ہوا۔ یہ سب سامان دیکھ کے بے چارے دیہاتی چوہے کی عقل اڑ گئی، کیونکہ اس کے لیے بہشت بریں کی نعمتیں وہاں جمع تھیں۔ اتنے میں دروازہ کھل گیا اور بہت سے نوکر چاکر شور و غل مچاتے ہوئے خاوند کے الوش پر بے اختیار گر پڑے اور چکھی کرنے لگے۔ اس دھوم دھام میں دونوں چوہوں کو بھاگتے ہی بن آیا۔ خصوص دہقانی کی بری نوبت ہوئی کیونکہ اس بلا میں اس کے دشمن بھی کبھی نہیں پھنسے تھے۔ وہ ایک کونے میں خوف کے مارے تھر تھرا رہا تھا کہ شہری چوہا اس کے پاس آیا اور کہنے لگا “بھائی گھبراؤ مت، وہ جھوٹے خور سب نکل گئے۔ چلو پھر چکھیاں کریں”۔ دہقانی نے کہا “اس کھانے سے بندہ باز آیا۔ اگر آپ کے کھانوں میں بہشت کی نعمتوں کا مزا بھی ہو تو اُس سے مجھے معاف کیجیے۔ میرے پنیر کا کترن اور سوکھی روٹی کا ٹکڑا پارچا ساتھ آرام اور چین کے میرے لیے بڑی نعمت ہے۔ یہ لطیف غذا اتنے اندیشوں کے ساتھ آپ ہی کو مبارک رہے”۔

حاصل

کلاوہ سلاطیں جو ہے زرنگار
وہ ظاہر میں ہے پھول، باطن میں خار
جو بے کھٹکے اک گوشے میں ہو مقام
کریں تخت نادر کو ہم سو سلام

بارھویں نقل

ایک کالے کوے کو کہیں جو ایک گھونگھا ملا تو چونچ سے گھنٹوں اس نے ادھر ادھر ٹھونکا مگر توڑ نہ سکا۔ ایک کوے نے دیکھ کر کہا “یار! یوں نہیں، تم چونچ میں اسے لے کے اوپر اڑو ، جب بلندی پر پہنچو، اس بڑے پتھر پر اسے پٹک دو۔ اتنی دور سے آپ سے آپ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا”۔ وہ کوا بے چارا بھولا بھالا یہ سن کر خوش ہوا اور اوپر بہت اونچا اڑا اور کہنے کے مطابق اس نے کیا، مگر اس کے اترتے اترتے کالا کوا اسے لے بھاگا۔

حاصل

اگر خود غرض سے تو لے گا صلاح
کہے گا وہ جس میں ہے اس کی فلاح
تجھے رنج دیوے گا وہ رو سیاہ
ترے کام سب وہ کرے گا تباہ

تیرھویں نقل

ایک گیدڑ نے ایک کوے کو دیکھا کہ ایک لطیف لقمہ چونچ میں دبائے ہوئے درخت پر بیٹھا ہے۔ جی اس کا للچایا مگر اس کا حاصل کرنا مشکل دیکھا۔ جب اور کچھ نہ بن پڑی ، اس نے کوے کی خوشامد شروع کر دی کہ سبحان اللہ جیسی تیری صورت ہے، ویسی ہی سیرت بھی تو نے پائی ہے۔ تیرے پر کیا خوش نما ہیں اور اس کی سیاہی پر کیا جلوہ ہے اور سیرت میں بھی تو یکتا ہے۔ سوا تیرے کس پرند یا چرند کو خدا نے پیش بینی اور دور اندیشی اور غیب آگاہی عطا کی ہے؟ مگر ایک عیب ہے کہ اس نے اپنے سب کارخانے میں باقی رکھا ہے، تاکہ اس صانع بےعیب کی برابری کوئی نہ کر سکے۔ اگر اپنی صورت اور سیرت کے موافق تو خوش آواز بھی ہوتا تو پردۂ زمین پر کوئی تیرا ثانی دکھائی نہیں دیتا۔ یہ سنتے ہی کوے کو حرص ہوئی کہ کچھ سنائے اور گیدڑ کے جی سے یہ شک بھی مٹائے۔ گلا کھنکھار کے منہ جو اس نے کھولا، وہ مزے دار لقمہ ٹپ نیچے آتا رہا۔

گیدڑ نے اٹھا لیا اور مسکرا کے کہنے لگا کہ بندے نے سب باتوں میں آپ کی تعریف کی تھی مگر آپ کی عقل کی صفت تو نہیں کی تھی۔ کیا اس میں بھی نقص دکھانا تمھیں واجب ہوا تھا؟

حاصل

خوشامد کا ہوتا ہے جس کو مرض
نہیں اس کی تعریف ہے بے غرض
نہ بھول اس کی باتوں پہ سن لے ذرا
کہ اک روز اس سے خطا پائے گا

چودھویں نقل

ایک شیر اپنی جوانی کے عالم میں بڑا ظالم تھا۔ جب بوڑھا ہوا، اس کا حال اور ہی ہو گیا ۔ حاصل کلام اس کے چار دن کے ظلم کا دور جب اخیر ہو گیا، تب جتنے جانوروں کو اس نے ستایا تھا، سب آن آن کر اپنا اپنا بدلہ اس سے لینے لگے اور آپس میں ایکا کرکے اس پر ٹوٹ پڑے اور سبھوں نے مل کر اس کی خوب ہی خدمت کی اور اس نے بھی چار و ناچار برداشت کی مگر جب گدھے نے آن کر لات اٹھائی تو ذلت کے صدمے سے دل اس کا چور ہو گیا۔

حاصل

کر احسان گر تجھ کو طاقت ہے اب
کہ ہوں بندۂ لطف یہ لوگ سب
ثنا خواں ترے وہ رہیں گے مدام
برے وقت میں تیرے آئیں گے کام
اگر پاس ہے تیرے کچھ مال و زر
مدد کر غریبوں کی اے با خبر!

پندرھویں نقل

کسی کے پاس ایک اچھا سا کتا تھا اس لیے ہر وقت اپنے خاوند کے ساتھ کھیل کود کیا کرتا۔ اسی گھر میں ایک گدھا بھی تھا۔ اس نے کتے کا رنگ ڈھنگ دیکھ کر اپنے جی میں سمجھا کہ میں ہمیشہ اپنے خاوند سے دور رہتا ہوں اسی لیے اس خراب حال سے رہتا ہوں۔ اگر کتے کی طرح سے اس کے ساتھ کھیلوں تو اچھا رہوں۔ دل میں یہ ٹھہرا کے خاوند کے پاس گیا اور جوں ہی کتے کی طرح اگلے دونوں پانو اٹھا کے صاحب کی گود میں رکھنے لگا ، اس نے ایک سونٹے سے اسے پیٹنا شروع کیا۔ بے چارہ گدھا عاجز اور پشیمان اپنے تھان پر چلا آیا اور کہنے لگا کہ سچ ہے بزرگوں کا قول نہیں ٹلتا: “ہر کارے و ہر مردے”۔

حاصل

ہر اک کا ہے دنیا میں کام اک جدا
کرے شیر کا کام کب بھیڑیا
تجاوز نہ کر اپنی حد سے کبھی
کہ گدھا بنائیں گے تجھ کو سبھی

سولھویں نقل

ایک دفعہ کسی شیر کے پنجوں تلے ایک چوہا آگیا اور شیر نے اسے مار ڈالنے کا قصد کیا مگر جب اس بے چارے نے بہت آہ و زاری سے اپنی جان بخشی چاہی، شیر نے اسے رہائی دی۔ چند روز کے بعد انقلاب روزگار سے ایسا ہوا کہ وہی شیر ایک شکاری کے دام میں آگیا لیکن جب اس چوہے کو یہ وحشت ناک خبر ملی، اس نے اپنے محسن کی مدد کی اور بات کے کہتے جال کو کتر کے شیر کو خلاص کر دیا۔

حاصل

بنایا ہے اگر تجھ کو حق نے امیر
نہ دیکھ ان غریبوں کو ہرگز حقیر
خبر اپنی گردش کی بھی ہے کہیں
کہ اک حال پر کوئی رہتا نہیں
کیا جس نے رحم اس نے پایا ہے رحم
خدا اس کا ہے جس نے کھایا ہے رحم

سترھویں نقل

ایک چیل بیماری سے قریب الہلاکت ہوئی ۔ اس کی ماں جب چیخیں مار مار کے رونے لگی، تب بیٹی کہنے لگی کہ اماں دور بھی کرو، رونے کلپنے سے کیا ہو گا؟ پیروں سے مناجات مانگو کہ میری جان بچے۔ ماں نے جواب دیا کہ اے لڑکی! کون سا پیر میری تمھاری سنے گا، سبھوں کی قربانی کا گوشت ہم سبھوں نے چرایا ہے۔ اب اس وقت کون رحم کرے گا؟ اپنے وقت پر ہم لوگوں نے قصور نہیں کیا؟ ہماری اب کون رعایت کرے گا؟

حاصل

ہوا و ہوس میں کٹی زندگی
دم مرگ حاصل ہے شرمندگی
اگر تو نے اس وقت توبہ کی
تیری زاریاں کب سنے گا کوئی
جوانی میں جس کی نہ لے تو خبر
کرے کب بڑھاپے میں تجھ پر نظر

اٹھارھویں نقل

ابابیل پیش بینی اور دور اندیشی میں ضرب المثل ہے۔ ایک دفعہ کسی دہقان کو اس نے دیکھا کہ سن کی تخم پاشی کر رہا ہے۔ ابابیل نے بہت سی چڑیوں کو ایک جا کر کے کہنا شروع کیا کہ تم سب کیا دیکھتی ہو۔ یہ آدمی سن بو رہا ہے۔ صیاد اسی سے ہم لوگوں کو پھنسانے کا پھندا بناوے گا۔ مناسب ہے کہ سب مل کے ایک ایک بیج کر کے چن ڈالیں۔ ان بےوقوفوں نے اس کی بات کو بالکل خیال نہیں کیا۔ جب چھوٹے چھوٹے پودے نمود ہوئے، تب پھر ابابیل نے ان چڑیوں کو خبردار کیا کہ ابھی وقت ہے، چلو کونپلیں اکھاڑ ڈالیں مگر وہ شامت زدہ چڑیائیں سب کچھ بھی متوجہ نہ ہوئیں۔ جب ابابیل نے دیکھا کہ درخت ہو چلا، تب اپنے جی میں اس نے کہا کہ اب یہاں رہنا اور انھوں کے شامل گرفتار ہونا عقل سے باہر ہے۔ حاصل کہ چلتے وقت اپنے سب دوستوں سے کہنے لگی کہ بیٹھے بیٹھے دیکھو کیا ہوتا ہے۔ اگر میری بات تمھارے آگے نہ آوے تو میرا نام کچھ اور ہی رکھنا۔ اتنا گوش گزار کر کے ابابیل چلی آئی اور شہروں میں آدمی کی صحبت میں رہنے لگی۔ تھوڑے دنوں کے بعد سن تیار ہوا اور صیادوں نے اسے بٹا اور چڑیا بَجھانے کا جال بنایا۔ جب ابابیل کی چتائی ہوئی، کئی چڑیائیں پھنس گئیں؛ تب انھیں ہوش ہوا کہ ابابیل سچ کہتی تھی اور ہماری کم بختی آئی تھی کہ اس کی بات کو چٹکیوں پر ہم سب اڑاتے تھے۔

حاصل

جو عاقل ہے رہتا ہے وہ پر حذر
کہ رکھتا ہے آئندہ کی سب خبر
ہے نفع و ضرر اپنا پہچانتا
ہر اک تخم کا پھل ہے وہ جانتا
نہیں پیش بینی جسے زینہار
وہ اک روز ہوگا بلا کا شکار

انیسویں نقل

ایک دفعہ مینڈکوں کو اپنی حالت آزادگی سے بڑی نفرت ہوئی۔ تب مشتری ستارے سے انھوں نے ایک بادشاہ کی درخواست کی۔ مشتری نے انھیں آزمانے کے لیے ایک کندۂ ناتراش کو آسمان پر سے جھیل کے بیچ میں ڈال دیا۔ وہ ایسی دھمک سے گرا کہ مینڈک سب ادھر اُدھر اپنی جان بچانے لگے، اور سوا اس کے کہ مٹی میں سر دے دے کے چھپ رہیں، کچھ اور نہ بن پڑی۔ جب دیر تک یہی حالت رہی، ایک دلاور مینڈک نے سر اٹھایا، دیکھتا کیا ہے کہ حضرت بادشاہ جس طرح تشریف لائے تھے، ویسے ہی پڑے ہیں۔ نہ ہلتے ہیں، نہ ڈولتے، نہ کچھ بولتے اور غصے میں آ کر ذرا منہ بھی نہیں کھولتے۔ یہ دیکھ کر اس نے اپنے بھائیوں کو بلایا اور سب احوال کہہ سنایا۔ ڈر جو ان کا گیا، آہستہ آہستہ اس کندے کے نزدیک آئے۔ جب قریب پہنچے دیکھا کہ وہی حالت بادشاہ کی اب بھی ہے۔ وہ سب ایک ایک کر کے کود کود کے اس پر چڑھے اور وہیں سے مشتری سے پھر عرض کرنے لگے کہ تو نے ایسا نامرد بادشاہ کیوں دیا؟ مشتری نے جواب میں کہا “ٹھہرو میں تمھاری خاطر خواہ ایک بادشاہ بھیجتا ہوں”۔ یہ کہہ کے ایک لگلگ کو نیچے اتار دیا۔ اس نے جھیل میں پہنچتے ہی ایک ایک مینڈک کو پکڑ پکڑ کر چکھنا شروع کیا۔ کم بختی کی ماری جو رعیت سامنے آئی، اس کی یہی نوبت پہنچی۔ اس قتل عام سے مینڈکوں کا قافیہ تنگ ہوا اور مشتری کے پاس سب پھر سے نالان ہوئے کہ ہم لوگ ایسے بادشاہ سے باز آئے۔ یا تو کوئی دوسرا حاکم عادل بھیج یا جو ہماری حالت اصلی تھی اسی میں چھوڑ دے۔ مشتری نے جواب دیا کہ اپنے کیے پر کیوں روتے ہو؟ تم سب پہلے بھلے تھے یا نہیں؟ لگلگ کو تمھاری بے صبری اور ناشکری کے بدلے میں بھیجا ہے۔ اب جس طرح سے چاہو اپنا بندوبست کر لو۔

حاصل

جو بے صبر ہیں، ہیں وہ خانہ خراب
خوشی کی نہیں ان کو ملتی شراب
خرابی کا دن ان کو آتا ہے پیش
بدلتے ہیں جو اپنی حالت ھمیش

بیسویں نقل

ایک دفعہ جب کبوتروں نے دیکھا کہ چیل ان کو بہت ستانے لگی، شاہ باز کو انھوں نے محافظ مقرر کیا۔ باز کو یہ اچھا وسیلہ ہاتھ آیا۔ چیل کے ساتھ لڑائی نہ کر کے آپ ہی کبوتروں کو ایک ایک کر کے کھانے لگا۔ چیل نے دو مہینے میں جو نقصان نہیں کیا تھا، شہباز نے گھر میں گھس کے دو ہی روز میں وہ کیا۔

حاصل

تو کر آپ فکر اپنی گر ہے عقیل
نہ کر اپنے دشمن کو اس میں دخیل
نہ کر اعتماد اپنے دشمن پہ تو
کہ جیتا نہ چھوڑے گا تجھ کو کبھو

اکیسویں نقل

بہت سے چور کسی گھر میں نقب دینے کے ارادے سے گئے۔ اس میں اس مکان کا ایک پالا ہوا کتا بھونکنے لگا۔ ایک چور اسے چمکارنے اور بہلانے لگا اور ایک نے روٹی کا ٹکڑا بھی اس کے سامنے ڈال دیا۔ کتے نے جواب دیا کہ مجھ سے یہ نمک حرامی نہیں ہونے کی اور میں رشوت نہیں لینے کا۔ سوا اس کے اگر اپنے خاوند کا نقصان کرنے کو ایک ٹکڑا کھاؤں اور ساری عمر آرام کھوؤں، یہ عقل کے بھی خلاف ہے۔

حاصل

بہت بد ہے وہ جو کہ ہے نا سپاس
وہ نا چیز ہے مرد دانا کے پاس
ہے چور اور خونی کا بھی اعتبار
مگر اس کا جو آستیں کا ہے مار
خیانت تو آقا کی ہر گز نہ کر
ملے گر تجھے گنج قاروں کا زر

بائیسویں نقل

ایک سور کی مادہ حاملہ تھی۔ جب اسے درد زہ پیدا ہوا، ایک بھیڑیے نے آن کر کہا: “بہن تمھارے بچوں کی میں خبرداری کروں گا”۔ اس نے جواب دیا: “چل دور ہو، تجھ سے یگانوں سے بیگانے بہتر”۔

حاصل

جو ہے خود غرض اس سے بیزار ہو
نہ کر اعتماد اس پہ اے نیک خو
ھمیش اس سے پرہیز کر ہوشیار
کہ ظاہر میں یار باطن میں مار

تیئیسویں نقل

کسی ملک میں ایک دفعہ غوغا ہوا کہ ایک پہاڑ کو درد زہ پیدا ہوا اور بچہ ہونے والا ہے۔ لاکھوں خلقت تماشے کے لیے جمع ہوئی کہ ایسی ماں کے بچے کو دیکھا چاہیے۔ ماں تو ایسی دراز قد ہے، اس کا بچہ بھی اس کے مناسب ہی ہو گا۔ آپس میں یہ کہہ رہے تھے کہ ایک ہی دفعہ اس پہاڑ کے اندر سے ایک چوہا نکل پڑا۔

حاصل

نہیں فائدہ لن ترانی سے یار
سخن راست کہہ گر تو ہے ہوشیار
کہ جھوٹوں کی عزت نہیں ہے کہیں
جو سچے ہیں وہ اس سے ملتے نہیں
کوئی جھوٹ ہوتا ہے جب آشکار
تو جھوٹوں پہ ہوتی ہے لعنت کی مار

چوبیسویں نقل

ایک بےچارا گدھا خاوند کی خدمت کرتے کرتے ایسا بوڑھا ہو گیا تھا کہ ایک روز چلتے چلتے بوجھ لے کر بیٹھ گیا۔ اس کے مالک نے اٹھانے کے لیے اسے اتنی لکڑیاں ماریں کہ ناتواں گدھا بے دم ہو گیا۔ جب گدھے کو ہوش آیا، اس نے کہا کہ اس بے وفا دنیا کی رسم یہی ہے کہ اگر کوئی ساری عمر نمک حلالی اور جاں فشانی میں حاضر رہے اور اتفاقاً کوئی چھوٹا سا قصور اس سے سر زد ہو تو زمانے کے لوگ اس کی سب نیکیوں کو بھول جائیں گے اور ایک بدی کو یاد رکھیں گے۔

حاصل

جوانی میں جس نے کیا تیرا ساتھ
بڑھاپے میں ہر گز نہ چھوڑ اس کا ہاتھ
نجیب اور شریفوں کا ہے یہ نشان
ضعیفی میں خادم کے ہیں قدر دان

پچیسویں نقل

ایک شکاری کتا جوانی میں اپنے خاوند کو بہت سا شکار کروا دیتا تھا۔ جب بوڑھا ہوا، اس کا اور ہی عالم ہو گیا۔ نہ وہ چستی باقی رہی، نہ وہ چالاکی۔ اس کے بےوفا خاوند کی مہربانی بھی اسی درجے کم ہو گئی۔ آخر بےکار محض سمجھ کے اس نے اس کتے کو نکال دیا، تب اس نے کہا “خداوند! آپ کو یہ لازم نہ تھا، اگرچہ میرا زور و شور جاتا رہا ہے مگر دل ویسا ہی ہے اور اگر آپ کی منصفی یہی ہے تو جیسا کم زوری کے سبب سے آپ نے دور کر دیا، بوڑھے ہونے کے لیے مجھے پھانسی دیجیے”۔

حاصل

جو انصاف رکھتے ہیں دل میں ذرا
نہیں بھولتے ہیں وہ شرط وفا
بڑھاپے میں وہ لوگ صاحب شعور
نہیں اپنے خادم کو کرتے ہیں دور
وہ بوڑھوں کو کرتے نہیں نامراد
بڑھاپے کو اپنے بھی رکھتے ہیں یاد

چھبیسویں نقل

ایک دفعہ گدھا اور بندر دونوں اپنی اپنی مصیبت کا حال بیان کر کے رو رہے تھے۔ گدھے کو یہی حسرت تھی کہ خداوند عالم نے گائے اور بیل کا سینگ اسے نہیں دیا تھا اور بندر کو لنگور کی دم کا ارمان تھا۔ یہ سن کر ایک چھچھوندر کہنے لگی کہ بس جانے دو، چپ بھی رہو۔ خدا نے جو دیا ہے اس پر شکر کرو کیونکہ ہم سب اندھوں کا حال تم سے نہایت برا ہے۔

حاصل

خدا کیا نہیں رکھتا ہے یہ تمیز
کہ دیوے تمھیں جو مناسب ہے چیز
رہو اس سے خوش جو کے دیوے خدا
کہ بے صبری ہے اک بری سی خطا

ستائیسویں نقل

ایک دفعہ سب خرگوش اپنی حالت کو سوچ کر بہت دل گیر ہوئے۔ ایک نے کہا “دیکھیے ہم لوگ کیا بدنصیب ہیں۔ ہم سب کو خدا نے آدمی اور کتوں اور بازوں کے حوالے کیا ہے۔ ہمیشہ جان کے اندیشے میں اوقات کٹتی ہے۔ اب صلاحِ وقت یہی ہے کہ آپ سے آپ ہم لوگ جان دیویں، جو کل ہونے والا ہے آج ہی کیوں نہ ہو، ایسے جینے سے مرنا بہتر ہے”۔ جب کہ سب خرگوشوں نے اس بات پر اتفاق کیا، سب کے سب مل کر اپنے ڈبانے کے لیے جھیل کی طرف روانہ ہوئے۔ جب تالاب کے کنارے پہنچے، ان کی آمد کا شور و غل سن کے اور آہٹ پا کے خوف سے بہت سے مینڈک کنارے سے پانی میں کود پڑے۔ تب ایک ہوشیار خرگوش نے کہا “بھائیو! جلدی نہ کرو۔ دیکھو، فقط ہم ہی لوگ ایسے کم بخت نہیں کہ سارے جہان سے ڈرا کرتے ہیں، غور کرو کہ یہ مینڈک سب ہم لوگوں کی ہیبت سے کہاں نہیں جان چراتے پھرتے ہیں؟”

حاصل

نہیں کوئی دنیا میں آتا نظر
کہ رکھتا نہیں کچھ بھی خوف و خطر
خدا کے سوا کون ہے، کر تمیز
کہ بے فکر و اندیشہ ہو اے عزیز

اٹھائیسویں نقل

ایک بکری گھر سے باہر ہونے کے وقت اپنے بچے کو کہہ گئی کہ خبردار جب تک میں نہ پھروں دروازہ نہ کھولنا۔ اُدھر بکری باہر چلی، ادھر ایک بھیڑیا گھر کے پیچھے سے آیا۔ وہ سن چکا تھا کہ بکری اپنے بچے کو کس طرح سے تاکید کر گئی تھی، اس لیے بکری کی آواز بنا کر کے بچے کو کہنے لگا کہ بیٹا میں پھر کے آئی ہوں ، دروازہ کھول دے ،چونکہ اس مکاری سے بچہ آگاہ تھا، اس نے جواب دیا کہ اے اماں! اپنی داڑھی دکھلا تو دروازہ کھول دوں۔

حاصل

فریبوں سے مکار کے اے جوان
بزور خرد اپنا ہو پاسبان
نگہ بانیٔ عقل سے میرے یار
بچے گا تو آفت سے لیل و نہار
کہ ہے عقل سے نیک و بد کی تمیز
اگر عقل ہے غور کر اے عزیز

انتیسویں نقل

ایک کتے نے بھیڑی پر اس مضمون کی نالش کی کہ میں نے کئی پیمانے گیہوں کے اسے قرض دیے ہیں، اس کو یہ ادا نہیں کرتی ۔ اس بات کے گواہ مجھ سے بھی بزرگ اور شریف ہیں، یعنی بھیڑیا اور چیل اور گدھ۔ جب ان تینوں نے گواہی دے کے بھیڑی کا لینا ثابت کیا ، مقدمہ اس پر فیصل ہوا کہ بھیڑی اپنی پیٹھ کے پشم کو بیچ کر دین کو ادا کرے۔

حاصل

لگے جب سے دینے گواہی دروغ
عدالت میں سچ کو نہیں ہے فروغ
امیروں کے آگے کرے کیا غریب
لڑے گر انھوں سے تو ہے بدنصیب
جہاں ہو طرف داری اے مہرباں
کہاں رحم و انصاف کی بو وہاں

تیسو یں نقل

ایک سانپ کسی دہقان کے گھر میں جو گھسا ، نا گہانی سے ایک لڑکےنے اس پر پانو رکھ دیا۔ غصے میں آ کر اس موذی نے پلٹ کے اُس بچے کو ایسا کاٹا کہ فوراً مر گیا ۔ لڑکے کے باپ کو بڑا رنج ہوا اور سانپ کو دیکھتے ہی غصے سے بے اختیار ہو کر ایک وار اس پر کیا، وہ خالی گیا اور اس کے وار کا نشان پتھر پر رہ گیا۔ ایک مدت کے بعد دہقان نے اسی سانپ سے ملاپ کرنے کا پیغام کیا مگر سانپ نے نہ مانا اور جواب دیا کہ حضرت معاف کیجیے، جب تلک آپ اپنے بیٹے کے مرنے کو یاد رکھیے گا اور مَیں على ہذا القیاس اُس پتھر پر کے نشان کو، ہم لوگوں میں کبھی دوستی نہیں ہونے کی ۔

حاصل

رہے دو دلوں میں برائی جہاں
بھلائی کا پاؤگے کیوں کر نشاں
اگر دل میں ہو دوستوں کے بدی
تو اُس دوستی سے بھلی دشمنی

اکتیسویں نقل

ایک دفعہ گیدڑ نے گڑوڑ کی دعوت کی اور ہر قسم کا شوربا چوڑی چوڑی رکابیوں میں بھر دیا۔ گیدڑ نے چاٹ چاٹ کے کھانا شروع کیا اور مہمان کو کہا “حضرت آپ بھی نوش جان فرمائیے، تکلف نہ کیجیے”۔ گڑوڑ نے دریافت کیا کہ گیدڑ نے اس کے ساتھ اچھی ہنسی کی مگر کچھ بولا نہیں ۔رخصت کے وقت گیدڑ سے کہا کہ کل بندے کے گھر میں آپ کی دعوت ہے، آپ کو تکلیف کرنا ہو گا۔ گیدڑ نے بہت سے بہانے کیے مگر گڑوڑ کے آگے حیلہ چل نہ سکا۔

آخر مجبور ہو کر دعوت قبول کی ۔گڑوڑ نے موسم کی ساری مزے دار چیزیں دسترخوان پر منگوائیں مگر چونکہ لنبی لنبی باسنوں میں خاصہ چنا گیا تھا، گیڈر اس میں کھا نہیں سکتا تھا۔ گڑوڑ نے چونچ ڈال ڈال کر خوب کھانا شروع کیا اور گیدڑ کو کہا “حضرت تناول فرمائیے، کچھ تکلف نہ کیجیے”۔ گیدڑ سمجھا کہ میری ہنسی کا اس نے بدلا لیا، خاموش ہو رہا اور دل میں یہ کہتا ہوا وہاں سے بھاگا کہ میں نے جیسا کیا ویسا پایا۔

حاصل

ٹھٹھول اور دمباز ہے جو کوئی
جب آتا ہے دم میں کسی کے کبھی
بہت سا پشیمان ہوتا ہے وہ
وہی کاٹتا ہے جو بوتا ہے وہ

بتیسویں نقل

ایک گیدڑ کسی بت تراش کی دکان میں گیا اور ادھر اُدھر کی چیزوں کو پسند کرنے لگا۔ اتفاقاً ایک بہت خوب صورت بت پر اُس کی نظر جا پڑی۔ اسے بغور دیکھ کر کہنے لگا کہ تو بڑے ہنرمند کا بنایا ہوا ہے اور بہت حسن رکھتا ہے مگر صد افسوس کہ تو محض بے مغز ہے۔

حاصل

نہ سمجھو کہ سارے حسیں اور جمیل
خردمند و لائق ہوں اور ہوں عقیل
کسی کے نہ جا ظاہر حال پر
کہ باطن کی اُس کے نہیں کچھ خبر

تینتیسویں نقل

ایک کوا اپنے آپ کو خوب صورت بنانے کے لیے اور چڑیوں کے طرح طرح کے خوش رنگ پروں سے نہایت آراستہ و پیراستہ ہوا۔ اس کو ایسا رنگیلا دیکھ کر اور پرندوں کو رشک پیدا ہوا،مگر جب عقدہ کھل گیا، سبھوں نےکوے کے پر و بال میں سے اپنے اپنے پر نکال لیے ۔ جب اس کی صورت اصلى دکھائی دی، اس کے بھائی بندوں نے خوب ہی اس کے مزے لیے۔

حاصل

غریبی کی حالت میں اے نکتہ رس
کرے گا امارت کی جو کوئی ہوس
اسے یاد رکھ ہم سے اے باشعور
کہ ہووے گا اک دن وہ رسوا ضرور

چونتیسویں نقل

ایک دفعہ چیونٹی اور مکھی میں مناظرہ ہوا۔ مکھی کہنے لگی کہ دنیا میں کون سی مجلس عیش و نشاط کی ہوتی ہے کہ جس میں ہم شریک نہیں ہوتے۔ سارے بت خانے اور عالی شان عمارتیں میرے لیے کھلی رہتی ہیں۔ بتوں کے آگے کا خاصہ ہم چکھتے ہیں اور شاہ زادوں کی دعوت کھاتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ بغیر خرچ اور درد سر کے یہ سب چیزیں ہم کو میسر ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی بادشاہوں کے تاج پر پانو رکھ دیتے ہیں اور کبھی کبھی نازنینوں کے لب سے لب ملاتے ہیں۔ بھلا تیری کیا حقیقت ہے کہ میرے آگے اپنی بزرگی جتاتی ہے؟ چیونٹی نے جواب دیا کہ چپ رہ! اور فخر بے ہودہ نہ کر۔ تجھے کیا معلوم نہیں کہ مہمان اور بن بلائے میں کتنا فرق ہے؟ اور تیری صحبت کو لوگ ایسا پسند کرتے ہیں کہ جہاں تجھے پاتے ہیں مار ڈالتے ہیں۔ تجھ سے کسی کو کچھ حاصل نہیں، یہاں تک کہ جس چیز کو تو چھوتی ہے اس میں پِلو پڑ جاتے ہیں۔ اور خوب صورتوں کے منہ چومنے پر ناز مت کر۔ گھورے پر کے غلیظ کے سوا تیرے منہ سے کیا نکلتا ہے جس کو معشوق سب اور لطیف طبع لوگ پسند کریں۔ اور میرا حال یہ ہے کہ بندی جو خود پیدا کرتی ہے، اسی کو کھاتی ہے اور لوٹ اور تاراج سے علاقہ نہیں رکھتی اور گرمیوں کے دن میں خوب ذخیرہ کرتی ہے تاکہ جاڑوں میں اوقات بسر ہو۔ اور تیری زندگی اس کے برعکس کٹتی ہے کہ چھ مہینے اٹھائی گیروں کی طرح ادھر اُدھر سے لوٹ پاٹ کر کھاتی ہے اور باقی چھ مہینے فاقہ کرتی ہے۔

حاصل

نہیں تھوڑے سے فائدوں میں مگر
کبھی لذت زندگی اے پسر
جسے اپنا آرام درکار ہے
مصیبت کے دن سے خبردار ہے
کوئی حال انساں کا اے ہم نشیں
توسط کی حالت سے بہتر نہیں

پینتیسویں نقل

ایک بڑا سا ٹرہ کہیں چرتا تھا۔ ایک مینڈک اسے دیکھ کر اپنے لڑکے بالوں کو چلّا کے کہنے لگا کہ دیکھو کیا بڑا جانور ہے، مگر اب میری طرف خیال کرو کہ میں اس سے زیادہ لنبا چوڑا ہو سکتا ہوں۔ یہ کہہ کر اپنے کو پھلانا شروع کیا، یہاں تک کہ پیٹ پھٹ کر مر گیا۔

حاصل

جو چھوٹے بڑوں کو نہیں مانتے
بہت آپ کو ہیں بڑا جانتے
بس ایسی خرابی میں پڑتے ہیں وہ
کہ غارِ ہلاکت میں سڑتے ہیں وہ

چھتیسویں نقل

کسی گدھے کے پانو میں کانٹا جو چبھ گیا اور جراح اس کو میسر نہ ہوا، لاچار ایک بھیڑیے سے اس نے رجوع کی۔ بھیڑیے نے اپنے دانتوں سے کانٹے کو نکال دیا اور دل میں حرص کے دانتوں کو اس پر تیز کیا۔ گدھا چونکہ ایسا گدھا نہیں تھا کہ بھیڑیے کے فریب کو اپنے حق میں بہتر جانتا اور اس کے دلی ارادے کو نہیں سمجھتا، اس نے اس کے کان کے نیچے ایک لات ایسے زور سے لگائی کہ بھیڑیا بیٹھ ہی تو گیا۔

حاصل

جو نا آشنا اور ہیں بے وفا
کوئی ان کا ہوتا نہیں آشنا
جو ہیں دشمن خلق اے نیک نام
انھیں دشمنوں ہی سے پڑتا ہے کام
جو چاہے کہ ہو دوست اس کا جہان
بھلائی کرے سب کے ساتھ اے جوان

سینتیسویں نقل

ایک شخص جہاز پر سوار ہوا۔ چونکہ سمندر کا سفر اس نے کبھی نہیں کیا تھا، جب طوفان آیا اور جہاز نے چر کے اوپر چڑھ کے ٹکر کھائی، اوروں کو بڑی دہشت ہوئی مگر اس آدمی نے شکر بھیجا اور کہا الحمد للہ کہ ہم کنارے پر پہنچے۔

حاصل

یہ ہے خاصۂ آدمی اے عزیز
وہی جانتا ہے جو ہے با تمیز
کہ جس چیز سے پاتے ہیں ہم گزند
سمجھتے ہیں اس کو بہت سود مند
جسے نیک و بد کی نہیں کچھ تمیز
ہلاکت ہے اک دن اسے اے عزیز
اگر اپنے آرام پر ہے نظر
بھلے اور برے میں بہت سوچ کر

اڑتیسویں نقل

ایک موٹا تازا گھوڑا زیوروں سے لدا ہوا چلا جاتا تھا۔ راہ میں اس نے ایک غریب بے کس گدھے کو دیکھا کہ بوجھ لیے چلا جاتا ہے۔ اسے ڈپٹ کے کہنے لگا کہ کیوں بے گدھے! تو مجھے پہچانتا نہیں کہ میں کون ہوں؟ اور کس شخص کی سواری کا گھوڑا ہوں۔ تجھے معلوم نہیں کہ جب میرا آقا مجھ پر سوار ہوتا ہے، میری پیٹھ پر ساری سلطنت کا بوجھ رکھا رہتا ہے؟ میری راہ سے ہٹ جا، نہیں تو تجھ کو خاک میں روند ڈالوں گا۔ یہ سن کر بے چارے گدھے نے مارے ڈر کے راستہ چھوڑ دیا اور دل میں کہنے لگا کہ اگر میرے دن ایسے پھرتے کہ جیسے اس نصیب ور کے ہیں تو کتنا شکر میں کرتا۔ غرض ایک مدت تک وہ بےچارا گدھا اپنی بے کسی کے حال پر افسوس کرتا تھا کہ اتفاقاً ایک روز اسی گھوڑے سے پھر ملاقات ہوئی، مگر اس کی صورت کچھ اور ہی ہو گئی تھی۔ نہ وہ شان باقی رہی تھی نہ وہ شوکت، نہ وہ سونے کی ہیکل، نہ وہ کار چوبی چار جامہ، بلکہ اس کے بدلے ژولیدہ حال اور گرد آلودہ ایک مہتر کی گاڈی میں چوتا ہوا آہستہ آہستہ اپنے کو گھسیٹتا ہوا چلا جاتا تھا۔ جب گدھے نے اس کے حال میں آگے سے اتنا فرق پایا، اس نے پوچھا “کیوں جی یہ کیا ہوا؟ کیا اس مثل کی دلیل تم ہی ہوئے، کبھی گاڈی ناؤ پر اور کبھی ناؤ گاڈی پر”۔ گھوڑے نے جواب دیا کہ جب تو نے مجھے دیکھا تھا، میں امیر الامرا کی سواری کے خاصوں میں تھا، مگر چونکہ لڑائیوں میں بہت زخمی اور بے کار ہو لیا ، اس سبب سے میرا یہ حال ہوا اور گردش روزگار سے یہ کچھ تعجب کی بات نہیں، گاہے چناں گاہے چنیں۔

حاصل

جو چیزیں کہ ظاہر میں ہیں خوش نما
بھڑک اور چمک اُن کی ہے دل ربا
فرومایہ اور بے وقوفوں کے پاس
بہت قدر ہے اُن کی اے حق شناس
سوا اس کے جو لوگ ہیں بے خرد
کبھی وہ سمجھتے نہیں نیک و بد
توسط کے لوگوں کو وہ ہرزہ کار
بہت جانتے ہیں حقیر اور خوار
سمجھتے نہیں اس کو وہ بو الہوس
کہ آرام و راحت اسی میں ہے بس
جسے عافیت اپنی منظور ہو
توسط میں رہنے دے وہ آپ کو

انتالیسویں نقل

کسی نیول نے ایک دفعہ چمگادڑ کو پکڑا ۔ اُس نے ہزاروں منت سے اپنی جان بخشی چاہی مگر نیول نے کچھ نہ سنا اور کہا “میں چڑیا کو ہرگز نہیں چھوڑتا، اس بات کی مجھ کو قسم ہے”۔ چمگادڑ نے سوچ کر فوراً جواب دیا کہ اے صاحب! میں تو چوہا ہوں۔ میری ہیئت تو دیکھو، چڑیوں سے بھلا مجھے کیا نسبت۔ یہ سن کر نیول نے اُسے چھوڑ دیا ۔ کچھ دنوں کے بعد پھر ایسا اتفاق ہوا کہ اُسی چمگادڑ کو کسی دوسرے نیول نے پکڑا اور پھر اُس چمگادڑ کو اپنی رہائی کی فکر پڑی۔ بے چاری نے اُس نیول سے بہت سی منت اور عاجزی کی۔ نیول نے کہا کہ میں چوہے کو ہرگز نہیں چھوڑتا۔ چمگادڑ نے جھٹ سے عرض کیا کہ حضرت! واہ واہ آپ نے کیا مجھے چوہا سمجھا، میں تو چڑیا ہوں ، میرے پروں کو ملاحظہ فرمائیے۔ غرض اس طرح کی فقرہ بازی سے چمگادڑ نے دو دفعہ اپنی جان بچائی ۔

حاصل

حواس آدمی کے رہیں گر درست
تو ہو سکتا ہے سارے کاموں میں چست
بلا کیسی ہی سخت ہو اور عظیم
وہ ٹالے گا، ہے جس کو فکر سلیم
خطا ہوئے اوسان اگر وقت پر
تو رستم سے بھی چھوٹ جاوے سپر
نہ بن آئے جو کام شمشیر سے
وہ بن جاتا ہے فکر و تدبیر سے
بلا میں پڑے جب کوئی ہوشیار
نہیں چوکتا فکر سے زینہار

چالیسویں نقل

ایک دفعہ پرندوں اور چرندوں میں بڑی گھمسان کی لڑائی ہونے لگی اور دونوں طرف کے مردانہ حملوں سے کسی کی فتح اور شکست کا حال معلوم نہیں ہوتا تھا ۔ اس وسواس کے حال میں چمگادڑ سب سے کنارے تھی۔ جب دیکھا کہ چرند سب میدان میں غالب رہے ، اُن کی طرف جا ملی ۔ مگر چند روز کے بعد چڑیوں نے جمعیت کر کے ہلّا کیا اور چرندوں کو شکست دی ۔ اُس وقت چمگادڑ انھیں چھوڑ کر چڑیوں میں جا گھسی ، لیکن یہاں اس بھگوڑی کو پوری خرابی ہوئی کہ چڑیوں نے پرو بال نوچ کر لنڈورا بنا کر اپنے فرقے سے نکال دیا اور حکم ناطق ہوا کہ وہ نمک حرام رات کے سوا ہرگز اپنے گھر سے نہ نکلے ۔

حاصل

جسے راستی اور صفائی نہیں
کوئی دوست اس کا نہیں بالیقیں
سخن ایسے بیہودوں کا زینہار
نہیں ہے کہیں قابل اعتبار
جسے اعتماد اپنا منظور ہو
نہ آنے دے پاس اپنے وہ جھوٹ کو

اکتالیسویں نقل

ایک بھیڑیا اپنے کھانے پینے کا بہت سا سامان جمع کرکے اپنے ماند سے باہر ہرگز نہ نکلتا اور اس اندیشے میں بیٹھا رہتا کہ اگر میں شکار کو جاؤں اور مکان کو خالی پا کر کوئی حریف آن کر یہ سب چکھ جائے تو میری ساری عمر کا سرمایہ مفت میں غارت ہو۔ ایک گیدڑ نے بھیڑیے کے یہ اطوار دیکھ کر سمجھا کہ اس میں کچھ راز ہے، اسے دریافت کیا چاہیے۔ دل میں یہ سوچ کر ماند کے پاس گیا اور بھیڑیے کو تسلیم کر کے کہنے لگا “بندگی حضرت! حضور جو مدت سے شکار کو تشریف نہیں لے جاتے اس کا سبب ارشاد ہو تو خیرخواہ کے جی کی تسلی ہووے”۔ بھیڑیے نے جواب دیا کہ بھائی میری طبیعت اکثر ناساز رہتی ہے، اس جہت سے باہر نہیں نکلتا، تم دعا کرو کہ جلد شفا پاؤں۔ گیدڑ نے دیکھا کہ یہ بات بن نہ آئی کہ اس کا فقرہ خالی گیا۔ اُس نے جا کر ایک گڈریے سے کہا کہ فلانی جگہ ایک بھیڑیا رہتا ہے، اُسے جا کر مار ڈالو۔ اُس کے پتے پر گڈریے نے بھیڑیے کو پایا اور مار ڈالا۔ یہ سانحہ جب ہو چکا، گیدڑ جھٹ پٹ اس ماند میں جا گھسا اور مقتول کی جگہ پر قائم مقام ہوا مگر اُس کی چاندنی چار ہی دن تھی کیوں کہ کئی دن کے بعد گڈریا جو اُس راہ سے گزرا اور گیدڑ کو دیکھا، فوراً اُس کو بھی وہیں ٹھنڈا کر دیا۔

حاصل

کسی سے نہ کر تو دغا و فریب
کہ دیتا نہیں ہے کسی کو یہ زیب
دغا باز ہیں جو کہ اور حیلہ گر
انھیں بھی پہنچتا ہے اک دن ضرر
وہ کردار سے اپنے پچھتاتے ہیں
کہ بدلے وفا کے دغا پاتے ہیں
اگر چاہتا ہے کہ ہو شادماں
نصیحت مری یاد رکھ اے جواں
دغا مت کر اپنے بے گانے کے ساتھ
کہ ملتا ہے اس کا عوض ہاتھوں ہاتھ

بیالیسویں نقل

ایک ہرن کسی صاف نہر میں پانی پیتا تھا ۔ اُس آب زلال میں اپنے سائے کو دیکھ کر بہت افسوس سے کہنے لگا کہ اگر میرے دبلے دبلے پاؤں اس خوب صورت شاخ دار سر کی مانند ہوتے تو میں اپنے دشمنوں کو کچھ چیز نہیں جانتا ۔ وہ ہرن اپنے دل میں یہ کہہ رہا تھا کہ ایک دفعہ شکاری کتوں کا بھونکنا اس طرح اُس کے کان تک پہنچا کہ ہرن پر ثابت ہوا کہ اسی کی طرف وہ چلے آتے ہیں۔ ایک لمحے کے بعد کتے بھی نظر آئے اور ہرن بھی چوکڑی بھرتا ہوا سامنے کے میدان کو طے کر کے جنگل کی طرف چلا اور کتوں کو کہیں کا کہیں پیچھے چھوڑا، مگر جوں ہی جنگل میں گھسا اور چاہا کہ ایک جھوڑی کے اندر سے نکل جاوے کہ اس کے سینگ کانٹوں میں اُلجھ گئے اور ایسے بے طور پھنسے کہ چھڑا نہ سکا۔ اس عرصے میں کتوں نے پہنچ کر اس کو شکار کیا۔ دم واپسیں ہرن یہ کہنے لگا کہ افسوس! دوستوں کو میں نے دشمن سمجھا اور دشمنوں کو دوست۔ میں اپنی شاخوں پر فریفتہ ہوا تھا مگر انھیں نے مجھے بلا میں گرفتار کیا، اور اپنے پاؤں کی طرف حقارت سے دیکھا کرتا تھا، سو ان کے سبب سے میں سارا میدان طے کر آیا۔ اگر انھیں پر بھروسا کرتا تو اس وقت کتنی دور نکل جاتا۔

حاصل

غریب اور عاجز ترا دوست اگر
ترے کام آئے برے وقت پر
وہ بہتر ہے اس یار سے اے پسر
جو خود کام ہے گرچہ ہو مال ور
اٹھا ایسے کی دوستی سے تو ہاتھ
مصیبت میں جو چھوڑ دے تیرا ساتھ

تینتالیسویں نقل

ایک سانپ نے کسی صورت سے لوہار کی دکان میں گھس کر ایک ریتی کو ایسا چاٹنا شروع کیا کہ اپنی زبان کو لہولہان کر ڈالا۔ جب اس موذی نے خون کو دیکھا، یہ سمجھ کر خوش ہوا کہ میں نے ریتی کا خون پیا، اس تصور میں زیادہ زور سے ریتی کو چاٹنے لگا، یہاں تک کہ مارے درد کے بے تاب ہو گیا۔ تب وہ ریتی کو دانت سے کاٹنے لگا مگر اس کے سب دانت ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے۔ آخر جب کہ قریب الہلاکت ہوا، لاچار ہو کر اس کو ریتی سے ہاتھ اٹھانا پڑا۔

حاصل

لڑائی سے پہلے تجھ کو ضرور
کہ معلوم کر اپنے دشمن کا زور
برابر ہو گر تاب و طاقت میں تو
تو لڑنے میں اس سے نہ ہٹنا کبھو
اگر اس کی سی تجھ میں طاقت نہیں
تو ہرگز نہ چھیڑ اس کو اے ہم نشیں

چوالیسویں نقل

بھیڑ اور بھیڑیوں میں ایک دفعہ لڑائی ہوئی۔ جب تک کہ کتوں نے بھیڑ کا ساتھ دیا، بھیڑیں بھیڑیوں پر غالب رہیں، جب کہ ان موذیوں نے یہ دیکھا انھوں نے دام فریب کو بچھا کر بے چاری سیدھی بھیڑوں کے پاس ایلچی بھیج کر صلح کی درخواست کی اور کہلا بھیجا کہ اب اس جنگ و جدال سے ہاتھ اٹھایا چا ہیے اور جب تک کہ دونوں طرف سے صلح کے مراتب طے ہوں، رسم و دستور کے موافق تمھارے کتے ہمارے کنے اور ہمارے بچے تمھارے یہاں اول رکھے جاویں۔ اس بات کو بےچاری سادہ لوح بھیڑوں نے منظور کر کے اپنے کتے وہاں بھیج دیے اور بھیڑیوں کے بچے اپنے یہاں منگوا لیے۔ صلح نامہ ہنوز لکھا بھی نہیں گیا تھا کہ بھیڑیوں کے بچوں نے اپنے ماں باپ کی جدائی کے سبب سے چلّانا اور غل مچانا شروع کیا۔ اس بات سے آزردہ ہو کر ان کے ماں باپ نے شور کیا کہ دیکھو دیکھو بھیڑوں نے دغا کی اور ہمارے بچوں کو ستایا۔ یہ کہتے ہوے سب کے سب ان شامت زدہ بھیڑوں پر آ گرے۔ چوں کہ اس دفعہ کتے اُدھر کی طرف نہ تھے جو ان کا مقابلہ کرتے، اُن جفا کاروں نے جس جس طرح چاہا غریب لاچار بھیڑوں کو زیر و زبر کیا اور ان نادانوں نے کہ دور اندیشی کی راہ کو چھوڑ کر اپنے کو بے دست و پا کر ڈالا تھا، اپنی نادانی کی خوب ہی سزا پائی۔

حاصل

کرے صلح کا قصد موذی سے جو
ہ آفت میں ہے ڈالتا آپ کو
نہ دے اپنا ہتیار موذی کو تو
کہ بے دست و پا ہو گا اے نیک خو
خدا نے کیا ہم سے جس کو جدا
کہاں میل ہو اس سے اے با وفا
جو باطن میں رکھتا ہو بغض و عناد
نہ کر صلح پر اس کی تو اعتماد

پینتالیسویں نقل

ایک بڑھئی نے جنگل سے یہ درخواست کی کہ مجھے فقط اتنی لکڑی عنایت ہو کہ اپنے بسولے کا دستہ بناؤں۔ جنگل نے اس درخواست کو چھوٹی سی بات اور ناچیز جان کر دستہ بنانے کے موافق لکڑی اسے دی، مگر جب درختوں نے دیکھا کہ اسی دستے کی مدد سے سارا جنگل کٹا جاتا ہے، انھوں نے کہا کہ اب اس کا علاج نہیں کیوں کہ اپنی حماقت سے ہم اس بلا میں گرفتار ہوئے۔

حاصل

اگر اپنی نادانیوں سے کبھی
مصیبت میں پڑتا ہے ناداں کوئی
پشیمانیوں کا پہنتا ہے تاج
کہ اپنے کیے کا نہیں کچھ علاج
ہر اک کام میں جو کہ ہے ہوشیار
سمجھتا ہے پہلے ہی پایان کار
سمجھ تو کہ بے راہ جو جائے گا
وہ ہر کام میں ٹھوکریں کھائے گا

چھیالیسویں نقل

کسی زمانے میں جسم کے سارے عضو پیٹ سے لڑ پڑے اور ان سرکشوں کے سردار ہاتھ اور پانو تھے۔ وہ کہنے لگے کہ یہ بڑا ظلم ہے کہ ہم سب شب و روز پیٹ کی غلامی کیا کریں اور اسی کو کھلانے اور پلانے اور آسودہ رکھنے میں اوقات بسر کریں اور یہ نابکار کچھ بھی کام نہ کرے اور کھا پی کے نوابوں کی طرح پڑا رہے اور ہم سب ہر وقت اسی کی فرماں برداری کریں، بلکہ دعوتوں اور ضیافتوں میں اس کو لیے لیے پھریں؛ علاوہ اس کے یہ عجیب نا انصافی ہے کہ جب یہ حضرت بیمار ہوتے ہیں تو ہم سب بھی ان کے ساتھ قید میں رہتے ہیں اور اس حالت میں بھی ان کی فرمائشیں بجا لاتے ہیں اور ان کے رنج و درد کو خواہی نخواہی آپس میں بانٹ لیتے ہیں، اور ہمیشہ یہ میاں صاحب کچھ نہ کچھ گڑبڑی آپ ہی پیدا کیا کرتے ہیں۔ یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ ہاتھ پاؤں خواہ مخواہ ان کے رنج و مصیبت کے شریک ہوں۔ حاصل کلام ہاتھ پانو نے کہا کہ اب ہم لوگوں کو یہ تابعداری اور جاں فشانی منظور نہیں۔ آئندہ کے لیے میاں پیٹ اپنے حق میں جو مناسب جانیں وہ کریں۔ اس کے بعد منہ نے کہا کہ بے اجازت ہاتھ کی اپنی راہ سے کسی چیز کو پیٹ کی طرف گزرنے نہیں دیں گے۔ اور دانتوں نے جواب صاف دیا کہ ہمارا کام چکی کا ہے، جب تک کے ہاتھ ہم تک کچھ نہیں پہنچاوے گا ہم اپنے کو پیس کر پیٹ کو نہیں کھلاویں گے۔ غرض اسی طرح سب عضو نے باہم ہو کر پیٹ کے جلانے کی ترکیبیں کیں، مگر بعد چند روز کے سبھوں نے دیکھا کہ سب کے حسن اور قوت میں کچھ کچھ خلل واقع ہونے لگا۔ ہاتھوں کا زور کم ہولیا اور چستی اور چالاکی جاتی رہی اور پانو کو کھڑے ہونے کی طاقت باقی نہ رہی۔ جب سارے اعضا پر اس ناتوانی کا سبب ظاہر ہوا ، تب اپنی حماقت اور خر دماغی پر نفرین بھیج کر انھوں نے چاہا کہ بہ دستور سابق اپنی اپنی خدمت میں سر گرم ہوں مگر بن نہ پڑی ، اس لیے کہ اس وقت تک پیٹ کو بھوک اور پیاس کے سبب سے ایسا صدمۂ عظیم پہنچ چکا تھا کہ ہاتھ اور پانو کی مدد سے کچھ فائدہ نہ ہوا ، سب کا قصہ ایک بار ہی فیصل ہو گیا۔

حاصل

نہیں اس میں اے دوست کچھ ریب و شک
ہے آبادیٔ ملک اس دم تلک
کہ ہر قوم کے لوگ اے نام دار
رہیں اپنے پیشے میں سر گرم کار
مگر جب کسی مملکت میں کوئی
تکبر سے کرتا ہے گردن کشی
وہ اس ملک میں ہے خلل ڈالتا
خبر اپنی اس کو نہیں مطلقاً
کہ اس کی خرابی بھی ہے اس کے ساتھ
جلا وہ، دیا آگ میں جس نے ہاتھ

سینتالیسویں نقل

ایک چڑیا کسی تیار کھیت میں جا کر اپنے بچے رکھتی تھی اور جب دانا چگنے کے لیے گھونسلے سے نکل جایا کرتی، بچوں کو کہہ جایا کرتی کہ جو کچھ دیکھنا سننا مجھ سے کہہ دینا۔ ایک روز جب وہ پھر کے آئی، بچوں نے کہا کہ کھیت والا آج اس طرف آیا تھا اور کھیت کاٹنے کے لیے ٹولیے محلے والوں کو بلا گیا ہے ۔ یہ سن کر چڑیا نے کہا : “خیر کچھ اندیشہ نہیں ہے”۔ دوسرے روز بچوں نے اپنی ماں سے کہا کہ آج پھر وہ آن کر اپنے دوستوں کو کھیت کاٹنے کے لیے تاکید کر گیا ہے۔ چڑیا بولی کہ اے بچو! ڈرو مت، ابھی کچھ خوف نہیں ہے۔ جب کہ تیسرے روز ان بچوں نے کہا امّا جان ! کھیت والا اپنے بیٹے کو کل صبح کے وقت لے کے آوے گا اور آپ کھیت کو کاٹ کے لے جائے گا۔ تب وہ بولی کہ اب اپنا بھی کچھ ٹھکانا رہنے سہنے کا کیا چاہیے کیوں کہ جب تلک پڑوسیوں اور دوستوں کی مدد پر کھیت کا کاٹنا موقوف تھا تب تلک کچھ اندیشہ نہ تھا مگر جب مالک اپنا کام آپ کرنے کو مستعد ہوا ہے تو بے شک وہ کام ہوگا ۔

حاصل

جو چاہے کہ ہو اپنا انجام کار
نہ چھوڑے کسی اور پر زینہار
اگر چاہے لے اور سے اپنا کام
نگہباں ہو آپ اس کا اے نیک نام

اڑتالیسویں نقل

ایک شیر بہت بیمار ہوا۔ جنگل کے سب جانور اُس کی عیادت کو آئے مگرگیدڑ نہ آیا۔ شیر نے اُس کو شقہ بھیج کر اپنی بیماری کے حال سے آگاہ کیا اور اشتیاق ملاقات ظاہر کیا ۔ اس کے جواب میں گیدڑ نے عرضی کی، اُس عرضی میں شیر کی صحت کے لیے خدا سے دعا مانگی مگر اپنے حاضر ہونے کے باب میں کچھ عذر کیا اور کہا کہ خانزاد کو اس بات سے بہت تعجب ہے کہ اکثر رعیتوں کے پاؤں کا نشان حضور کی دولت سرا کے اندر ہی جانے پر دلالت کرتا ہے مگر کسی نقشِ پا کا رخ باہر کی طرف نہیں معلوم ہوتا، اس لیے غلام دور ہی سے دعا کیا کرتا ہے۔

حاصل

یہ ہشیار کو چاہیے ہے ضرور
کہ اپنے کو رکھے وہ دشمن سے دور
تو رہ ایسا ہشیار اے ہم نفس
کہ دشمن کا تجھ پر نہ ہو دست رس
نصیحت مری سن لے اے نیک خو!
کہ دشمن کے دم میں نہ آنا کبھو

انچاسویں نقل

ایک بنیلا سور کہیں پانی میں پڑا لوٹ رہا تھا۔ ایک گھوڑے نے وہاں آ کر پانی پینے کا رادہ کیا۔ اس بات پر دونوں میں نزاع ہوئی۔ گھوڑا کسی آدمی کے پاس گیا اور سور سے بدلا لینے کے ارادے سے اُس کو اپنا شریک کیا۔ وہ شخص پانچوں ہتھیار سے درست ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا اور سور کو مار کر گھوڑے کو بہت خوش کیا، مگر جب گھوڑے نے شکر گزاری کر کے ارادہ جنگل کا کیا، اُس مرد نے روکا اور کہا کہ بھائی شاید اگر ہمیں بھی کہیں ایسی ضرورت ہو تو ہم تمھیں کہاں ڈھونڈتے پھریں گے؟ آپ اصطبل میں رہیے اور بخوبی دانا گھاس کھائیے۔ تب گھوڑے نے معلوم کیا کہ اُس کی آزادگی گئی اور مخلصی مشکل نظر آنے لگی۔ اس نے بدلہ کیا لیا، اپنا ہی حال مبدل کر دیا۔

حاصل

بہت لوگ ایسے بھی ہیں بے شعور
کہ تھوڑی سی آفت کے کرنے کو دور
بڑی آفتیں کرتے ہیں اختیار
سمجھتے نہیں اُس کا پایان کار
نصیحت مری سن لے اے نیک خو
بڑی آفتوں سے بچا آپ کو
اور ایسے بھی ہیں لوگ جو پائے نام
کہ پاداش لینے کو اور انتقام
وہ سب زندگی اپنی اے مہرباں
مصیبت میں ہیں کاٹتے بے گماں
ذری سی خوشی کے لیے یار تو
بڑی ناخوشی میں نہ پڑنا کبھو

پچاسویں نقل

دو لڑکے کسی قصاب کی دکان میں گئے۔ ایک نے ایک ٹکڑا گوشت کا چرا کر دوسرے کے حوالے کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد قصاب نے دیکھا کہ گوشت کا ایک ٹکڑا غائب ہے۔ اُس نے دونوں کو چوری لگائی۔ جس نے چرایا تھا اس نے لاکھوں قسمیں کھائیں کہ میرے پاس نہیں ہے اور جس کے پاس گوشت تھا اس نے سوگند کھائی کہ میں نے نہیں چرایا۔ قصاب نے کہا کہ ایسی حیلہ سازیوں سے انسان کو البتہ فریب دو گے اور آدمی کی آنکھوں میں خاک ڈالو گے مگر اُس کی آنکھ تو دیکھتی ہے کہ جو اوپر بیٹھا ہوا تمھارا تماشا دیکھ رہا ہے۔

حاصل

یہ حاصل ہے اس نقل کا اے پسر
کہ بالفرض مکّاریوں سے اگر
نہ معلوم ہو تیرا سب مکر و زُور
خدا کو تو ہے علم اُس کا ضرور
اگر خوف عقبیٰ کا رکھتا ہے تو
نصیحت مری بھولنا مت کبھو
نہ وہ کام کر خلق میں زینہار
کہ ہو جس میں خالق سے تو شرم سار

قطعہ

شکر اللہ کا ہو چکا مطبوع
نسخۂ نغز جوہرِ اخلاق
چاہیے اس کو نیز تیشۂ فکر
کہ یہ ہے کانِ گوہرِ اخلاق
سمجھے وہ اس کو جس کے ہاتھ میں ہو
تیغِ تسخیرِ کشورِ اخلاق
ہم نے کھولا ہے عاقلوں کے لیے
در گنجینۂ زرِ اخلاق
جس کو تہذیبِ نفس ہے درکار
ہے وہ جویائے زیورِ اخلاق
مئے معنی سے ہوگا وہ سر خوش
جو پیے گا یہ ساغرِ اخلاق
ہم نے دکھلایا آنکھ والوں کو
جلوۂ مہرِ انورِ اخلاق
ہو مفیدِ جہانیاں یہ کتاب
رہے جب تک کہ دفترِ اخلاق

جوہر اخلاق

یونانی اسپ کی نقلیات کا ترجمہ اردو زبان میں دلی اور لکھنؤ کے خاص لوگوں کے محاورے میں جس کو احقر العباد جیمز فرانسس کارکرن نے ترجمہ کرکے اور شاہ الفت حسین موسوی کی نظر سے گذران کے جناب مستطاب ، سخن پرور ، عدل گستر، حاکم عدالت دیوانی صدرِ کلکتہ رابرٹ ہالڈن راٹری بہادر دام دولتہ کی خدمت میں نذر دینے کو مدرسہ عالیہ میں سنہ 1845؁ء میں چھپوایا :

حق سے امید ہے کہ تا دم صور
قدر دان سخن رہیں مسرور
کہ یہ ہیں آبیارِ باغ سخن
ان سے ہے نو بہار باغ سخن
ہیں بھرے وصفِ نیک خوئی سے
پاک ہیں عیبِ عیب جوئی سے
لاکھ عیبوں کو جی سے دھوتے ہیں
اک ہنر پا کے شاد ہوتے ہیں
اس جہاں کو قیام ہو جب تک
رہیں قائم جہاں میں یہ تب تک

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ